• KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am
  • KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am

!چلو چلو شاہ باغ چلو

شائع March 13, 2013

اے پی فوٹو --.

کبھی کبھی مجھے"مشرقی پاکستان" واقعی بہت یاد آتا ہے اور یہ دن بھی انہیں دنوں میں سے ایک ہے-

اگرآج ہم ساتھ ہوتے تو 'شاہ باغ' اس اخبارکے تیسرے صفحے پر دو کالموں کا حقدارہوتا اور یہ نعرہ "چلو چلو شاہ باغ چلو" شہرکی کئی دیواروں کی زینت ہوتا- بلکہ کئی چینلوں کے ڈھاکہ بیورو نوجوانوں کے اس عظیم الشان اجتماع کی خبریں شایان شان طریقے سے نشر کرکے میری خواہشوں کو مہمیزکرنے کا مزید سامان کرتے بلکہ شاہ باغ اجتماع کے مطالبات یہاں متوازی تحریک کے جنم لینے کا سبب بن سکتے تھے.

لیکن صد افسوس کہ ڈھاکہ شہرکے اس کمپاؤنڈ میں آج جوکچھ ہورہا ہے اس کی اطلاع مجھے نیو یارک ٹائمز سے ملتی ہے- اس حقیقت کے باوجود کہ اس خبر کا تعلق کئی لحاظ سے براہ راست ہم --پاکستانیوں-- سے ہے-

یہ سب پانچ فروری کو شروع ہوا جس دن بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے اس شخص کوعمرقید کی سزا سنائی جو "میرپورکا قصائی" کے نام سے مشہور تھا اس پر 1971 میں بنگالیوں کے قتل عام اور ریپ کا الزام تھا، وہ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کا ایک سرکردہ لیڈرتھا-

یہ اس ٹریبونل کا دوسرا فیصلہ تھا- پہلا فیصلہ سزائے موت کا تھا جو جماعت کے ایک دوسرے رہنما کے خلاف اس کی غیرموجودگی میں سنایا گیا تھا ----- جس کے بارے میں پولیس کو شبہ ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے پاکستان فرارہو گیا تھا -

بین الاقوامی برادری سزائے موت پر ناخوش ہے کیونکہ اس کے خیال میں فیصلہ سناتے وقت انصاف کے عالمی تقاضوں کا خیال نہیں رکھا گیا- بیشتر لوگوں کا یہ خیال بھی ہے کہ جنگی جرائم میں ملوث لوگوں پر مقدمہ چلانے کا سارامعاملہ حکمران عوامی لیگ کی اپنی گزشتہ چاربرسوں کی ناکارہ کارکردگی سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ایک گھٹیا کوشش ہے-

ملک میں انتخابات اگلے سال کے شروع میں متوقع ہیں- عوامی لیگ کو خالدہ ضیاء کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت میں چار فریقی اتحاد کا سامنا ہے جس میں جماعت اسکی دوسری سب سے بڑی فریق ہوگی- اس لئے جماعت کو نشانہ بنا کرحزب مخالف کے اتحاد کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے-

یہ سب درست ہوسکتا ہے لیکن پورے طور پر نہیں- کیونکہ شاہ باغ کے جلسے میں کچھ خاص باتیں نظر آتی ہیں جو اسے دوسرے ایسے جلسوں سے ممتاز کرتی ہیں جنھیں سازشی طاقتیں جمع کرتی ہیں- اس کی ابتدا ایک چھوٹے سے بے ساختہ اجتماع سے ہوئی جو سوشل میڈیا کی طاقت سے لیس تھا اس کی صفوں میں تاحال استقامت اوراس کی قوت میں روزبروز اضافہ ہورہاہے-

مزید براں میں یہ بھی محسوس کرتا ہوں کہ اس میں جو ولولہ اور جوش موجود ہے وہ مصنوعی نہیں ہوسکتا- لیکن اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میں جذباتی ہورہا ہوں توپھر اس کا موازنہ آپ اس ہجوم سے کرلیجئے جو چند ہفتوں پہلے اسلام آباد میں ملک کے یزیدوں کو ختم کرنے کیلئے اکٹھا کیا گیا تھا یہ دونوں ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں- یہ تضادات سازشوں اور تحریکوں کے فرق کوواضح کرتے ہیں-

ناقدین کو شاہ باغ تحریک کے اصل مطالبے کے بارے میں بھی شکوک وشبھات ہیں ---- جنگی مجرمین کوسزائے موت، نہ اس سے کچھ کم نہ ہی اسکے علاوہ کچھ اور ---- تاہم، ہمیں اس کا جائزہ اس حقیقت کے پس منظرمیں لینا چاہئے کہ تاریخ گواہ ہے کہ جماعت ہمیشہ بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے مقدمہ سے گریز کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے- لیکن اس بار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ وہ تنہا اور غیرمحفوظ ہو گئی ہے-

جب ٹریبونل نے پہلی سزائے موت سنائی تو مغربی ممالک نے حکومت اور عدالت پر کھلے عام تنقید کی اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس دباؤ کی وجہ سے دوسری سزا کونرم کرکے عمرقید میں تبدیل کردیا گیا- ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اب جو سزائیں آگے دی جائینگی وہ اور بھی نرم ہونگی اور بالاخر جنگی جرائم کے معاملات کو طے کرنے کا مسئلہ ایک بار پھر دم توڑ دیگا-

مجھے یقین ہے کہ شاہ باغ کے نوجوان اس وجہ سے مایوس نہیں ہیں کہ "فیصلہ" نرم تھا بلکہ انھیں غصہ اس بات پر ہے کہ جماعت اپنی قتل و غارت گری کے باوجود بچ نکلی ہے- جماعت کی رضاکار فوج کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 1971 میں پاکستان آرمی کا دل و دماغ تھی اور ان دنوں اس کے آگے آگے چلتی تھی لیکن جس بات پر مجھے سب سے زیادہ حیرت ہے وہ ہے شاہ باغ کے احتجاج میں پاکستان کا نام نہ لیا جانا-

ہم سمجھ سکتے ہیں کہ اس کی وجہ بنگلہ دیش حکومت کی قانونی مجبوریاں یا سفارتی مصلحتیں بھی ہو سکتی ہیں لیکن "انتقامی ہجوم" پراسکا اطلاق نہیں ہوسکتا- یہاں آپکو پاکستان کے خلاف کوئی نعرہ سنائی نہیں دیتا، نہ ہی جھنڈے یا پتلے  جلانے کا کوئی منظر نظر آتا ہے نہ ہی یہ مطالبہ سنائی دیتا ہے کہ پاکستان کی حکومت معافی مانگے-

میں نے انٹرنیٹ پر بھی تلاش کیا لیکن مجھے شاہ باغ میں پاکستان کا کوئی نشان نظر نہیں آیا، البتہ چاند اور ستارہ صرف پوسٹروں اور پلے کارڈوں میں قابل نفرت مذہبی اجارہ داروں کی ٹوپیوں پر نظر آتا ہے --بنگلہ دیشی اس احتجاج کو اپنا اندرونی معاملہ سمجھتے ہیں-- مسئلہ عوام اور جماعت کے مابین ہے، پاکستان کا ذکر صرف حوالے کے طور پر آتا ہے- چنانچہ پس منظر تاریخی ہو سکتا ہے لیکن جو جھگڑا ہے اس کا تعلق حال سے ہے اور نوجوانوں کو کسی دلیل واستدلال کی ضرورت نہیں- کیونکہ خود انکی زندگیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ انکی آزادی کیلئے جماعت اور شیبیر کیا معنی رکھتے ہیں (پاکستان میں طلباءتنظیم کو جمیعت اوربنگلہ دیش میں شیبیر کہا جاتا ہے)-

جماعت-جمیعت ہر اس چیز کے خلاف ہے جس سے نوجوان محبت کرتے ہیں ---- آرٹ، کلچر، آزادی اور دوستی- میرے نزدیک وہ ایک ایسی قوت ہے جو علم کے دروازے بند کر دینا چاہتی ہے، تخلیق کا گلا گھونٹنا چاہتی ہے اور مذہبی عقائد سے اختلاف رائے کو برداشت نہیں کرسکتی ہے- وہ ایک ایسی قوت ہے جو سازباز کرتی، چالیں چلتی، جوڑ توڑ اور سازش میں ملوث ہے-

1971 کے واقعات پارٹی کے موقف کی نشان دہی کرتے ہیں اور یہی وہ وقت بھی تھا جب جماعت کا چہرہ انتہائی غضبناک ہوا کرتا تھا- اگر یہ اپنی ان انتہائی ننگ انسانیت کارروائیوں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر کوئی اسے اس بات سے نہیں روک سکتا کہ وہ بنگلہ دیشی نوجوانوں کی زندگی کے ہر پہلوکواپنے گھیرے میں لے لیگی-

اسلام کے بنیاد پرستی کے نظرئے نے تقریبا نصف صدی سے زیادہ عرصے سے عالم اسلام کے متوسط طبقے کی زندگیوں پراپنا تسلط قائم کرلیا ہے- اس نظرئے کو اس طبقے کے سامنے ایک ایسے نمو پذیرمتبادل کے طور پر پیش کیا گیا جو مساوات پر مبنی معاشرہ قائم کرسکتا ہے جو انھیں ایک منفرد شناخت دے سکتا ہے جو اس روائتی شناخت سے مختلف ہے جسے انہوں نے نوآبادیاتی حکمرانوں کی سازش کے نتیجے میں کھودیا تھا- اس کے علمبرداروں نے جس میں جماعت اسلامی بھی شامل ہے، عوام کو دھوکا دیا ہے، ہمارے خوابوں کو مذہبی مفادات کے رکھوالوں کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے، ہمیں خون کے پیاسے آمروں کی گود میں ڈھکیل دیا ہے، ہماری روحوں کو جغرافیائی سیاست کی سب سے اونچی بولی لگانے والوں کے نام نیلام کر دیا ہے-

وہ جو کبھی مشرقی پاکستان ہوا کرتا تھا- مذہبی قوم پرستی کے سفاک ترین چہروں کو دیکھ چکا ہے اور مغربی پاکستان کے زخموں سے وہ خون آج بھی رس رہا ہے جو اس نے لگائے ہیں-

حقیقت تو یہ ہے کہ شمالی افریقہ، مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید کا متوسط طبقہ سیاسی اسلام کی کوتاہ نظری کے نتیجے میں مختلف طور پر اور مختلف درجوں میں مصائب کا شکار ہے جو انھیں یہ تسلیم کرنے سے روک رہا ہے کہ وہ کون ہے جو انھیں اپنی زندگیوں کو بھرپور طریقے سے جینے کی راہ میں حائل ہے-

اس نظریے کا تدارک کرنے والی آوازیں کم ہی سنائی دیتی ہیں- یہ آوازیں کمزور اور مبہم ہیں- یہ آوازیں کبھی کبھار کوئی اشارہ چھوڑجاتی ہیں، کبھی کبھی ٹویٹ کردیتی ہیں- لیکن بڑی حد تک اکیڈمک حلقوں میں ہی محدود ہیں- کیا ہم شاہ باغ کو ایک ایسے قدم کے طورپردیکھ سکتے ہیں جواس بحث کو عوام کی سطح پرلے جائیگا؟

کیا یہ اس فکری بحث کو متبادل کے طور مقبول بنا سکتا ہے؟ کاش کہ ایسا ہو- قدامت پسندی کے نظریے کا حوصلہ اور ہمت کے ساتھ مقابلہ کیا جائے تو یہ ایک نئی سمت دکھا سکتا ہے کہ ہماری اجتمائی قومی زندگیوں میں مذھب کا رول کیا ہونا چاہئے- اور اگر اسکی ابتدا ڈھاکہ میں چند حوصلہ افزا قدموں سے ہوئی ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہے ----- چلو چلو شاہ باغ چلو!


  طاہر مہدی پنجاب لوک سجاگ نامی ریسرچ گروپ سے وابستہ ہیں۔

ترجمہ:  سیدہ صالحہ

طاہر مہدی

لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر TahirMehdiZ@ کے نام سے لکھتے ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبصرے (2) بند ہیں

یمین الاسلام زبیری Mar 13, 2013 08:16pm
طاہر مہدی صاحب کا یہ مضمون ان کے پچھلے مضامین سے بہتر ہے. جماعت اسلامی ہو یا کوئی اور مذہبی جماعت ان کے اعمال اور فیصلے تاریخ اور جغرافیہ کے علم کو چھوئے بغیر ہوتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ ان کا نہ صرف بنگلادیش بلکہ پاکستان کے شہروں خاص کر کراچی سے دیس نکالا ہوا ہے اور اگر الیکشن ہوتے رہے توپاکستانی سیاسی منظر سے یہ بلکل صاف ہوجائیں گے. یہ اب تک مارشل لاوں کی وجہ سے پنپ رہے ہیں.
shahida Mar 13, 2013 08:44pm
مجھے زبیری صاحب کی رائے سے پورا اتفاق ہے. ترجم کا تسلسل اور روانی بھی .اچھی ہے

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025