شام امن مذاکرات جنوری میں جنیوا میں ہوں گے
جنیوا: شام میں جاری تین سالہ ہلاکت خیزجنگ کے خاتمے کیلئے جنوری میں بین الاقوامی امن کانفرنس منعقد کی جائے گی۔
اقوامِ متحدہ کے تحت ہونے والی اس کانفرنس میں صدر بشارالاسد اور ان سے لڑنے والے باغیوں کے درمیان پہلی مرتبہ باضابطہ ملاقات ہوگی۔ اس بات کا اعلان پیر کے روز کیا گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کو امید ہے کہ اس طرح شام میں پر امن تبدیلی ممکن ہوسکے گی اور اس میں گزشتہ سال جون کا وہ معاہدہ بھی سامنے رکھا جائے گا۔
اس معاہدے میں کہا گیا تھا کہ لڑنے والے دونوں گروہ ایک ایسی عبوری حکومت بنائیں جو مکمل طور پر بااختیار ہو، جو سیکیورٹی اور افواج پر بھی بالاتر ہو لیکن اس میں اسد کے مستقبل کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا اور اسے ایسے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔
' ہم اُمید کا ایک مشن لے کر جنیوا جارہے ہیں،' اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ایک بیان میں کہا۔
یہ اعلان اس کے بعد آیا جب شامی معاملات پر عرب لیگ کے مصالحت کار لخدر براہیمی نے جنیوا میں روسی اور امریکی آفیشل سے ملاقات کرکے شامی جنگ کے خاتمے اور مذاکرات پر بات چیت کی۔
یہ جنگ، بشارالاسد کیخلاف پرامن احتجاج سے شروع ہوئی تھی اور اب اس میں ایک لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔
اس سال مئی سے ہی لخدر براہیمی امن عمل کیلئے کوشش کرتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے عالمی طاقتوں کو جھنجھوڑنے کی بھی کوشش کی تھی۔
واشنگٹن نے اس امن کانفرنس میں ایران کی ممکنہ شمولیت کی بھی مخالفت کی تاہم روس مذاکرات میں تہران کی شمولیت کی تائید کرتا رہا ہے۔
تاہم بان کی مون کے بیان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ اس میں ایران کو بلایا جائے گا یا نہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تعمیری مذاکرات کیلئے تمام علاقائی اور بین الاقوامی پارٹنرز اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس ہفتے عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان تہران کے ایٹمی پروگرام پر ایک معاہدہ بھی طے پایا ہے جس سے ظاہر ہے کہ دیرینہ دشمنوں یعنی امریکہ اور ایران کے درمیان تناؤکم ہورہا ہے۔