شام میں سفاکی عالمی برادری پر ایک بدنما داغ: بان کی مون
اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے کل بروز بدھ گیارہ ستمبر کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں سفاکی اور ظلم و زیادتی کو روکنے میں ناکامی سلامتی کونسل کی طاقتوں اور عالمی برادری کی عزت پر ایک نیا داغ بن جائے گی۔
نسل کشی کے خلاف اقوامِ متحدہ کے ایک اجلاس میں بان کی مون نے کہا کہ ”ڈیڑھ سال سے شام میں جاری ظلم اور جرائم کوروکنے میں ہماری مجموعی ناکامی اقوام متحدہ اور اس کی رکن ریاستوں پر بھاری بوجھ بن جائے گی۔“
شام پر ممکنہ حملے کے حوالے سے روس اور امریکا کی نئی شرائط سے قبل بانی کی مون نے کہا کہ شام کے سانحے کے خاتمے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کو لازماً ایک موثر کردار ادا کرنا چاہئیے۔
بانی کی مون نے کہا کہ 1994ء میں روانڈا کی نسل کشی اور بوسنیا کے شہر سریبرینکا میں ہوئے قتل عام جیسے ہولناک واقعات کو مستقبل میں رونما ہونے سے روکا جائے اور اس کے لیےعالمی رہنماؤں نے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
روسی پلان:
ایک روسی ذرائع نے بدھ کو بتایا کہ روسی حکام نے امریکا کو ایک پلان پیش کیا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا ذخیرہ عالمی کنٹرول میں دے دیا جائے۔ اس پر غور کرنے کے لیے جینیوا میں ماسکو اور واشنگٹن کے سفارتکار کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی تیاری کررہے ہیں۔
روس کے سرکاری خبررساں ادارے نے روسی وفد کے ایک ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ”ہم نے امریکیوں کے سامنے ایک منصوبہ پیش کیا ہے کہ شام میں موجود کیمیائی ہتھیار عالمی کنٹرول میں دے دیے جائیں، ہمیں امید ہے کہ اس پر جینیوا میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔“
شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف سلامتی کونسل کے اقدامات سے اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے امریکا کے سیکریٹری خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لارو جمعرات کو جینیوا میں ملاقات کریں گے۔
امریکی رہنما بارک اوبامہ نے شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف فوجی حملے کی دھمکی دی تھی،ان کی فوج پر الزام ہے کہ اس نے اکیس اگست کو سیرن گیس کا حملہ کیا تھا، جس میں واشنگٹن کے دعوے کے مطابق چودہ سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
روس بشارالاسد کا اس وقت سے دفاع کرتا رہا ہے، جب انہوں نے اپنے خلاف مظاہروں کو بڑے پیمانے پر خانہ جنگی میں تبدیل کردیا تھا۔ ماسکو کو چین کی حمایت حاصل ہے، جس نے مغربی اقوام کی جانب سے بشارالاسد پر دباؤ میں اضافہ کرنے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تین قراردادوں کو مسترد کردیا تھا۔
فضائی حملہ:
شامی حکومت کے مخالفین نے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کے جنگی طیارے نے شمالی شہر حلب کے نزدیک ایک فیلڈ ہسپتال کو نشانہ بنایا، جس میں گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔
انسانی حقوق کی نگرانی کے لیے شام میں ایک برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ بدھ کو الباب کے قصبے میں میزائل حملے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے۔
ایک گروپ جو شامی حکومت کے مخالفین سے ملنے والی رپورٹوں پر اعتبار کرتا ہے، کا کہنا ہے کہ فضائی حملے سے ہلاک ہونے والوں میں ایک یمنی ڈاکٹر بھی شامل تھے۔
صدر بشارالاسد کی حکومت ان علاقوں پر قبضہ کرنے کے لیے جہاں اس کے مخالفین کا کنٹرول ہے، پچھلے سال سے فضائی طاقت پر بہت زیادہ بھروسہ کررہی ہے، باغیوں کے ٹھکانوں پر جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹرز سے نشانہ بنایا جارہا ہے، خاص طور پر شمالی علاقے میں جہاں شام کے سب سے بڑے شہر حلب اور دیگر خطے کے بڑے حصے پر مشتبہ باغیوں کا قبضہ ہے۔