ایاز صادق کی گاڑی پر پولیس کا دھاوا؟
قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 129 کے امیدوار ایاز صادق نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعویٰ کیا کہ پولیس نے ان کی گاڑی پر دھاوا بول دیا۔
ایاز صادق نے اپنی ٹوئیٹ میں دعویٰ کیا کہ پولیس نے نہ صرف ان کی گاڑی پر دھاوا بول دیا، بلکہ قریبی مسجد کے میناروں سے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ اور پتھراؤ بھی کیا گیا۔
ساتھ ہی ایاز صادق نے اپنی ٹوئیٹ میں ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ اپنی گاڑی میں ساتھیوں سمیت سوار دکھائی دیے۔
تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ان کی گاڑی کے پیچھے بھی کئی گاڑیاں ہیں، جب کہ تصویر میں پولیس اہلکاروں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

تصویر کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ رات کے وقت میں کھینچی گئی، جب کہ تصویر میں لیگی رہنما کی گاڑی کے قریب ایک موٹر سائیکل کو بھی ٹوٹی ہوئی حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔
تصویر میں جن پولیس اہلکاروں کو دکھایا گیا ہے، انہوں نے لاہور پولیس کی پرانی وردی پہن رکھی ہے، جب کہ پنجاب پولیس کا یونیفارم ڈیڑھ سال قبل ہی تبدیل کردیا گیا تھا۔
My car under attack by police, stone pelted and tear gassed from the mosque minarets. @pmln_org #GE2018 #PMLN pic.twitter.com/btY65YLLuD
— Sardar Ayaz Sadiq (@AyazSadiq122) July 14, 2018
ایاز صادق کی اس تصویر کو ڈیڑھ ہزار سے زائد بار ری ٹوئیٹ کیا گیا، جب کہ اس پر متعدد افراد نے کمنٹس بھی کیے۔
کمنٹس کرنے والے زیادہ تر افراد نے ایاز صادق کو یاد دلایا کہ اب لاہور پولیس کا یونیفارم تبدیل ہوچکا ہے۔
.It looks some old/fake pic
— Asad™ (@iAsadM) July 14, 2018
how Lhr Police got old uniform back suddenly? pic.twitter.com/FwPI9N5Apu
کمنٹس کرنے والے کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ ایاز صادق نے جھوٹ بولتے ہوئے پرانی تصویر شیئر کی، کئی افراد کا کہنا تھا کہ اس تصویر کو کسی پرانے اخبار سے اسکین کرکے شیئر کیا گیا۔
اب تو دیہاتوں میں گشت کرنے والے پولیس والے بھی نئی یونیفارم میں نظر آتے ہیں
— sarwarch (@sarwar0081) July 14, 2018
آپ نہ جانے کس دنیا میں رہتے
سیدھا سا اقرار کر لیں کہ موقع کی مناسبت سے ایک پرانی فوٹو استعمال کر کے جھوٹ بولا گیا
کچھ افراد کا کہنا تھا کہ ایاز صادق نے پرانی تصویر کو شیئر کرکے عوام کے ساتھ جھوٹ نہیں بولا بلکہ اپنے رہنماؤں کو یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ ان کے استقبال کے لیے لاہور ایئرپورٹ آ رہے تھے کہ پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا۔
ارے سادے لوگو
— Dr Abdullah Mohmand (@AbdullahJanDr) July 14, 2018
وہ تمہیں نہیں اپنے لیڈر اور اسکی بیٹی کو چونا لگارہا ہے
تاکہ اسکا بہانہ رہے کہ وہ ائیرپورٹ کیوں نہیں ایا
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اگرچہ لاہور پولیس کا یونیفارم تبدیل ہوچکا ہے، تاہم بعض اہلکار اب بھی پرانے یونیفارم میں نظر آتے ہیں۔
Punjab Police got their new uniforms but still some 'Razakar' nd cops from different districts in punjab uses old one. Other districts police was also deputed in Lahore yesterday.
— Ahsan Rizvi (@AhsanAbbasShah) July 14, 2018
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایاز صادق ٹیم نامی ٹوئٹر ہینڈل سے بھی سابق اسپیکر کی گاڑی پر پولیس کے دھاوے کی تصاویر شیئر کی گئیں، جن میں موجود پولیس اہلکاروں کا بھی پرانا یونیفارم تھا۔
Filter laga k photo daalnay se tear gassing aur attack nahe nazar aata
— Annie Khan (@AnnieKhan29) July 14, 2018
تاہم اس ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کی گئی ایک تصویر میں نئے یونیفارم میں موجود پولیس اہلکاروں کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
پولیس کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق کی گاڑی پر پتھرائو، لاٹھی چارج اور آنسوں گیس کی شیلنگ کی گئی۔ 1/2#NA129 #PMLN #SherAyaSherAya @AyazSadiq122 pic.twitter.com/xXTCSbwmPt
— Team Ayaz Sadiq (@na129_pmln) July 15, 2018