وزیراعلی پنجاب کے خلاف غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست مسترد
لاہور کی سیشن عدالت نے وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے خلاف غداری کا مقدمے درج کرنے سے متعلق درخواست مسترد کردی۔

شہری اظہر عباس نے شہباز شریف کے بیان پر مقدمے کے اندارج کے لیے سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر ایڈیشنل سیشن جج رفاقت علی گوندل نے فیصلہ سنایا۔
خیال رہے کہ 15جون کو متعلقہ سیشن کورٹ نے مذکورہ کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو آج (30 جون) سنا دیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ سیاسی تقاریر میں سیاستدان اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں، اگر گزشتہ حکمرانوں سے شہباز شریف کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو ’شہباز شریف سب سے زیادہ اہل وزیراعلی‘ ہیں۔
فیصلے میں کہا گیا کہ معاشرے کی فلاح کے لیے شہباز شریف بہت بہترین کام کررہے ہیں، شہباز شریف کے خلاف بہت سے الزامات ہونگے مگر سابقہ وزرائے اعلی سے بہترین کارکردگی کی بنا پر ایسے الزامات کو نظر انداز کرنا چاہیے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ اگر کسی تقریب میں شہباز شریف نے اپنے خیالات کا اظہار کیا بھی ہے تو یہ کوئی جرم نہیں ہے جبکہ بہت سے لوگ شہرت حاصل کرنے کیلئے ایسے کیسز دائر کرتے رہتے ہیں۔
عدالتی فیصلے سے قبل تھانہ ماڈل ٹاون پولیس نے اپنی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایسا کوئی وقوعہ تھانے کی حدود میں نہیں ہوا۔
پولیس رپورٹ کے مطابق درخواست گزار نے جس جگہ کی نشاندہی کی ہے وہ ماڈل تھانے کی حدود میں نہیں آتی۔

پولیس نے درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے عدالت سے اسے خارج کرنے کی استدعا کی تھی۔
شہباز شریف کے خلاف درخواست
واضح رہے کہ شہری اظہر عباس نے شہباز شریف کے بیان پر مقدمے کے اندراج کے لیے سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ شہباز شریف نے بیان دیا تھا کہ سیاست دانوں اور جرنیلوں نے 70 سال میں پاکستان کو برباد کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے بیان سے ایماندار سیاستدانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔
درخواست میں یہ موقف بھی اختیار کیا گیا کہ شہباز شریف نے بانی پاکستان قائداعظم کی توہین بھی کی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے بیان نے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی تھی کہ شہباز شریف کے خلاف سیاست دانوں کی ساکھ متاثر کرنے پر غداری کا مقدمہ درج کیا جائے۔