عمران خان کا افسوسناک بیان
اپنے ایک افسوسناک بیان میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپنی یونیورسٹی کے ارد گرد موجود زمینداروں کو دھمکی دی ہے کہ اگر انہوں نے پیشکش کردہ قیمتوں پر زمینیں نمل یونیورسٹی کے حوالے نہ کیں، تو ان کی زمینیں ہتھیا لی جائیں گی۔
بادی النظر میں عمران خان میانوالی کی نمل یونیورسٹی کے ساتھ یونیورسٹی کے لیے اسٹیڈیم تعمیر کرنا چاہتے ہیں پر زمین کے مالک کسانوں نے اپنی زمینیں اس قیمت پر فروخت کرنے سے انکار کر دیا ہے جس کی پیشکش انہیں کی گئی ہے۔
بھلے ہی عمران خان اپنی اس دھمکی پر عملدرآمد کرنے کی قوت نہ رکھتے ہوں، لیکن زبردستی زمین ہتھیانے کی بات کرنا بھی قابلِ مذمت ہے۔
وہ سمجھتے ہیں کہ جلد ہی ان کی جماعت اقتدار میں آئے گی، چنانچہ انہوں نے قانونِ تحویلِ اراضی کی شق 4 استعمال کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ان کی جماعت اقتدار میں آئی، ایسا کیا جائے گا۔
پڑھیے: عمران خان کی زمین مالکان کو 'دھمکی'
ویسے تو حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ان کی جماعت کی ناکامی ان کے اس دعوے کو کمزور کرتی ہیں، مگر کیونکہ سیاست میں قسمت بدلتے دیر نہیں لگتی، اس لیے ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اگلے عام انتخابات میں اس سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔
یہ ایک وجہ ہے کہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد کا رویہ اس سے زیادہ بالغانہ ہونا چاہیے تھا۔ اس کے بجائے ان کا بیان مایوس کن تھا جس سے ان کی آمرانہ ذہنیت کی عکاسی ہوتی ہے، جو پاکستان کی جمہوریت کے لیے کسی بھی طرح مددگار نہیں ہو سکتی۔
یہ بات بھی درست ہے کہ ملکی سیاسی منظرنامے میں جاگیردارانہ ذہنیت رکھنے والے دیگر لوگ بھی ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے کئی سیاستدان رہے ہیں جن کی سخت مزاجی اور مخالفین کو بزورِ طاقت دبانا مہنگی غلطیاں ثابت ہوئی ہیں۔
اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے، اور اپنے حقوق کے بارے میں پہلے سے زیادہ خبردار معاشرے کے ردِ عمل کے خوف سے اب زیادہ تر سیاستدان اپنی حکمتِ عملی میں، یا کم از کم لوگوں سے اپنی بات چیت کے بارے میں معتدل ہوئے ہیں۔
اس لیے امید ہے کہ عمران خان بھی اپنے سخت لہجے میں نرمی لائیں گے۔ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ نجی منصوبے ہر صورت میں عوامی بہتری کے منصوبے ہوتے ہیں، اور جس چیز کو وہ عظیم مقصد سمجھتے ہیں اس کے لیے دباؤ ڈالنا مناسب اقدام ہے، تو انہیں اپنے خیالات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔
وقت کی ضرورت ہے کہ وہ تصویر کے دونوں رخ دیکھیں اور ایک ذاتی مقصد کو آگے بڑھانے سے گریز کریں۔ اس کے علاوہ عمران خان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے بیانات وہ نہیں تھے جو ایک قومی سطح کے رہنما کو دینے چاہیئں، اور یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کے لوگ اور اس کی زمین عمران خان کے ذاتی مفاد کے حصول کا ذریعہ نہیں ہیں۔
یہ اداریہ ڈان اخبار میں 22 دسمبر 2015 کو شائع ہوا۔