• KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am
  • KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am

ہمیشہ کی طرح مایوس کن

شائع March 1, 2014
آج، جبکہ آئین کی شق 25-اے موجود ہے جس کے تحت 6 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائیگی، یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستان کے دیہاتوں میں 21 فی صد بچوں نے ابھی تک اسکولو میں داخلہ نہیں لیا ہے
آج، جبکہ آئین کی شق 25-اے موجود ہے جس کے تحت 6 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائیگی، یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستان کے دیہاتوں میں 21 فی صد بچوں نے ابھی تک اسکولو میں داخلہ نہیں لیا ہے

نئے سال کی شروعات کے ساتھ ساتھ ہی پاکستان میں تعلیم کے موضوع پر اے ایس ای آر(اینوال اسٹیٹس آف ایجوکیشن رپورٹ) شائع ہوچکی ہے - یہ ادارہ 2009 ء سے یہ رپورٹ شائع کر رہا ہے- یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ تعلیمی شعبہ کی صورت حال ہمیشہ کی طرح مایوس کن ہے-

جنوری میں جب اے ایس ای آر نے اپنی سالانہ رپورٹ شائع کی تو قوم کو ایک بار پھر ایک بری خبر ملی- یہ رپورٹ اس امتحانی نتائج پر مبنی تھی جو 138 دیہی علاقوں میں 249٫832 بچوں نے دیئے تھے- اس میں چند شہری علاقے بھی شامل تھے-

آج، جبکہ آئین کی شق 25-اے موجود ہے جس کے تحت 6 سے 16 سال تک کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم فراہم کی جائیگی، یہ بات افسوسناک ہے کہ پاکستان کے دیہاتوں میں 21 فی صد بچوں نے ابھی تک اسکولو میں داخلہ نہیں لیا ہے- اس سے جہاں مختلف صوبائی حکومتوں میں تعلیم کی جانب سیاسی عزم کی کمی نظر آتی ہے، ہم دیگر عوامل کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے-

مثال کے طور پر، تعلیم کے شعبے میں فنڈز کے استعمال میں ہونے والی مجموعی بدعنوانیوں کو لیجئے،جس کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ یہ ہماری قومی زندگی کا ایک پرکشش شعبہ ثابت ہورہا ہے- ملازمتوں کو اپنے وفاداروں کو انعام واکرام دینے کے لئے استعمال کیا جارہا ہے ،جبکہ میرٹ پر دھول جھونکی جارہی ہے-اسکی وجہ سے اساتذہ کا معیار متاثر ہورہا ہے اور ان میں اتنی لیاقت نہیں کہ وہ بچوں کو پڑھا سکیں جن کا مستقبل ان کے ہاتھوں میں ہے-

نتیجہ یہ ہے کہ ہمیں اے ایس ای آر کے اعدادوشمار دیکھنے پڑرہے ہیں:"انگریزی،ریاضی اور زبانوں کے مضامین میں طلباء کی لیاقت افسوسناک ہے- پانچویں جماعت کے بچوں میں سے آدھے اس لائق بھی نہیں کہ اردو/سندھی/پشتو میں دوسری جماعت کی درسی کتاب پڑھ سکیں- انگریزی زبان کے تعلق سے پانچویں جماعت کے جن طلباء کا سروے کیا گیا ان میں سے صرف 43 فی صد وہ جملے پڑھ سکتے تھے جو دوسری جماعت کے طلباء کے لئے مناسب تھے- گزشتہ سال کے مقابلے میں انگریزی پڑھنے کی لیاقت میں 5 فیصد کی کمی ہوئی تھی- یہی رجحان طلباء کی ریاضی کی قابلیت میں بھی دیکھنے میں آیا جس کے مطابق پانچویں جماعت کے صرف 43 فیصد بچےدو ہندسوں والے اعداد کو تقسیم کرسکتے تھے،جس کی امید دوسری جماعت کے بچوں سے کی جاتی ہے-" کیا اس کے ذمہ دار طلباء ہیں؟ ہر گز نہیں-

اے ایس ای آر وہ کام کر رہا ہے جو دوسرے ملکوں میں جہاں ایک بہترین تعلیمی نظام موجود ہے حکومتیں کرتی ہیں- اس کے تحت آزادی کے ساتھ طلباء کی تعلیمی قابلیت کا امتحان لیا جاتا ہے تاکہ کسی تعلیمی حکمت عملی کی کامیابی یا ناکامی کا جائزہ لیا جاسکے-

پاکستان میں جہاں اس قسم کا کوئی باضابطہ ادارہ موجود نہیں اے ایس ای آر کی کوششیں لائق تحسین ہیں ،خاص طور پر اسکی ثابت قدمی-اس سے پہلے جو تجربے ہوئے -----این ای اے ایس(نیشنل ایجوکیشن اسسمنٹ سسٹم) اور ایل ای اے پی ایس (لرننگ اینڈ ایجوکیشنل اچیومنٹ ان پنجاب اسکولز ) وہ اپنی وسعت کے لحاظ سے محدود اور مختصر مدت کے لئے تھے- جب فنڈ ختم ہوجاتے تو ان کا کام بھی رک جاتا-

ہمیں یہ امید تھی کہ تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے افسران اے ایس ای آر کے کام کو جاری رکھینگے یعنی ،حکومت ان کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کریگی جنکی طرف اے ایس ای آر نے اشارہ کیا ہے- لیکن یہ نہیں ہورہا ہے اور اسی لئے یہ بات حیران کن نہیں کہ برسوں کے گزر جانے کے بعد بھی حالات میں بہتری کے نمایاں آثار نظر نہیں آتے -

جو حقائق اے ایس ای آر کے سروے کے نتیجے میں واضح طور پر نظر آتے ہیں وہ یہ ہے کہ اساتذہ اور جماعتوں کے نظام کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے- ہمیشہ سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ جب تک اساتذہ کے سماجی- معاشی رتبہ میں بہتری نہیں آئیگی ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی- لیکن اب تو سرکاری اسکولوں میں ٹیچروں کو،جو اس مسئلے کی جڑ ہیں ،اچھی تنخواہیں مل رہی ہیں- اے ایس ای آر نے بھی کہا ہے کہ اب سرکاری شعبے میں اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے حامل اساتذہ موجود ہیں-

تو پھر اسکے اثرات کیوں نظر نہیں آتے؟ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جذبے کی کمی ہے- اے ایس ای آر کے مطابق پرائیویٹ اسکولوں کی کارکردگی اچھی ہے- ان اسکولوں کے اساتذہ زیادہ شوق سے کام کرتے ہیں کیونکہ ان کی کوششوں کو سراہا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی ہمت افزائی ہوتی ہے- اس کے علاوہ ان کے سر پر جوابدہی کی تلوار بھی لٹکتی رہتی ہے-

اے ایس ای آر کے سروے سے یہ اہم بات سامنے آئی ہے کہ آزاد کشمیر اور گلگت- بلتستان میں جو چند دہائیوں پہلے تک جموں اور کشمیر کے تحت تھے ،اعلیٰ کارکردگی دکھائی دے رہی ہے-

ان علاقوں کے اسکولوں میں 6 سے 16تک کی عمر کے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے (اے جے کے میں 8۔94 فیصد اور جی بی میں 3۔84 فی صد) جبکہ قومی اوسط 9۔78 فی صد ہے- اے جے کے اور جی بی کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق نطر آتا ہے-اگر قومی سطح پر موازنہ کیا جائے تو مدرسوں کے طلباء کی تعداد میں 6۔2 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اے جے کے مدرسوں میں انکی تعداد میں صرف 9۔0 فیصد، جبکہ جی بی کے مدرسوں میں طلباء کی تعداد میں 1 فی صد کا اضافہ ہوا ہے ----جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں روشن خیالی پیدا ہورہی ہے-

اے ایس ای آر کی رپورٹ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں علاقوں میں پانچویں جماعت کے طلباء کی تعلیمی سطح نسبتاً اعلیٰ ہے-قومی سطح پر دیہی علاقوں میں پانچویں جماعت کے 8۔49 فی صد طلباء اردو/سندھی/پشتو میں کہانی پڑھ سکتے ہیں جبکہ اے جے کے میں 4۔61 فی صد اور جی بی میں 1۔51 فی صد-اسی طرح ان طلباء کی کار کردگی انگریزی اور ریاضی میں بہترین ہے اور فرق زیدہ سے زیادہ سات درجے کا ہے-

ہمارے پالیسی سازوں کو اے جے کے اور جی بی کی مثالوں سے سبق سیکھنا چاہیئے-آخر ان علاقوں کے عام سماجی-معاشی اور سیاسی حالات ہم سے کتنے مختلف ہیں کہ تعلیم کے شعبے میں ان کی کارکردگی ہم سے بہتر ہے؟ فی الحقیقت،اے ایس ای آر نے توجہ دلائی ہے کہ اے جے کے اور جی بی میں 2012 میں بعض شعبوں میں بہتری آئی ہے- اگر ان دونوں علاقوں میں ایسا ہوسکتا ہے تو دوسرے علاقوں میں کیوں نہیں؟

انگلش میں پڑھیں

ترجمہ: سیدہ صالحہ

زبیدہ مصطفی

www.zubeidamustafa.com

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025