الطاف حسین کا حکومت کو بات چیت سے مسائل حل کرنے کا مشورہ
لندن: متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین نے حکومت کو موجودہ سیاسی محاز آرائی کے بجائے بات چیت سے مسائل حل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اتوار کو لندن سے ڈان نیوز سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ حکومت دل بڑ اکرے اور بات چیت سےمسائل حل کرے، انہوں نے کہا کہ حکومت نے کوئی آپریشن کیا تو بہت نقصاندہ ہوگا۔
الطاف حسین نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ کیے جائیں جس سے انتشار پھیلے۔
ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ تحریک انصاف اور طاہر القادری زور زبردستی سے کام نہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ضد اور ہٹ دھرمی ہی مارشل لاء کا سبب بنتے ہیں۔
الطاف حسین نے کہا کہ میں امن کےذریعے انقلاب لانا چاہتا ہوں،گولی کے ذریعے نہیں، اور کہا کہ میری سیاسی کارکن کی حیثیت سےالتجا ہےکہ غرور سے کام نہ لیں۔
ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ تشدد میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی مذمت کرتا ہوں اور ساتھ ہی پولیس کے ہاتھوں ہلاک افراد کی تعزیت کرتا ہوں۔
الطاف حسین نے کہا کہ یہ ساری چیزیں جمہوری انداز میں کرنا آئینی حق ہے مگر کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ قائداعظم کا فرمان ہے کہ انتہاپسندی نہیں،مذہبی راواداری چاہیے،الطاف حسین نے کہا کہ مجھےکاروبارحکومت میں مذہب کی ملاوٹ نہیں چاہیے۔
متحدہ کے قائد نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج جرات کےساتھ دہشتگردوں کے ساتھ نبرآزما ہے، پوری قوم کو اس وقت مسلح افواج کے پیچھے ہونا چاہیے تھا۔