پندرہواں دن: غریبوں کا بادشاہ
مقامات: رحیم یار خان، صادق آباد، گھوٹکی، سکھر، لکھی، گڑھی خدا بخش، لاڑ کانہ۔
(تصاویر بڑی کرنے کے لیے کلک کریں)
میں نے چار ہفتوں پر مشتمل موٹر سائیکل ڈائری کا منصوبہ بنایا تھا، دو ہفتے پنجاب اور دو سندھ کے لیے لیکن امیدواروں کی غیر معمولی چھان پھٹک کے مراحل اور انتخابی مہم شروع ہونے میں تاخیر کے سب میرا سفر بھی ہفتہ بھر کی دیری سے شروع ہوا۔
میرا ارادہ انتخابی مہم کے دوران ملک کے مضافاتی علاقوں کا دورہ کرنا تھا لہٰذا بیان کردہ وجوہات کے باعث ایک صوبہ بیچ میں سے چھوڑنا پڑا۔
اس کے علاوہ میں نے لوڈ شیڈنگ اور اس کے اثرات کو بھی سامنے نہیں رکھا، نہ ہی یہ میرے روز مرّہ معمولات کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔
ساتھ ہی میری بیٹری سسٹم کا بیک اپ بھی پوی طرح کام نہیں کررہا تھا، لہٰذا میں نے منصوبے سے ہٹ کر، بعض مقامات پر پڑاؤ ڈالا تاکہ اپنی کمزور پڑتی بیٹریوں کو ازسرِ نو تر و تازہ کرسکوں۔
اب جبکہ پولنگ میں ایک ہفتے سے کچھ کم وقت رہ گیا ہے تو میں نے اور میرے ایڈیٹرز نے فیصلہ کیا کہ سیریز کا خاتمہ کردوں۔
اس کا مطلب یہ تھا کہ میں تیزی سے سندھ کی طرف بڑھتے ہوئے، دو دنوں میں لاڑکانہ کے نزدیک واقع اپنی منزل گڑھی خدا بخش پہنچوں، لہٰذٓا سندھ کو جاننے اور سمجھنے کا میرا خواب اب تک ادھورا ہے۔
میں ان دو دنوں کو مستقبل کی اپنی مہم کے لیے بطور'سروے مشن' کے طور پر لوں گا اور آئندہ اُن پہلوؤں پر توجہ مرکوز رہے گی جو اس مرتبہ دسترس میں نہ آسکے۔
جیسا کہ اب میرا مقصد تھا، میں نے ایک دن میں سکھر اور اس سے اگلے روز لاڑکانہ پہنچنے کا فیصلہ کیا۔
میں نے رحیم یار خان سے این فائیو ہائی وے چُنا۔ بعض حصوں میں اس کی حالت گاؤں کی سڑکوں سے بھی بدتر تھی۔
ایک اور پریشان کُن شے تیزی سے دوڑتی بھاگتی اور بے سبب زوردار ہارن بجاتی مسافر بسیں تھیں۔
لگتا تو یہی تھا کہ وہ ایسا کر کے صرف اپنے ہونے کا احساس دلانے کی کوشش کررہی تھیں۔ موسم بہت گرم تھا لیکن میں جانتا تھا کہ 'بدترین' کا آنا ابھی باقی ہے۔
میں نے سوچا تو یہ تھا کہ آج سفر کرتے ہوئے 'کام' سے گریز کروں گا لیکن آپ چیزوں کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔
کوٹ سبزل کے بعد جیسے ہی میں نے سندھ ۔ پنجاب سرحد عبور کی، پیپلز پارٹی کے سوا تمام سیاسی جماعتوں کے جھنڈے غائب ہوگئے۔
یہ عجیب اتفاق تھا حالانکہ رحیم یار خان اور صادق آباد میں بھی، دیگر جماعتوں کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی کی بھی ایک جیسی ہی موجودگی عیاں تھی۔
میں ہمیشہ اس بات پر حیران رہا ہوں کہ عالمی سطح پر امیر اور غریب کے درمیان تقسیم کس طرح مغرب و مشرق کی جغرافیائی اصطلاح میں تقسیم ہوگئی لیکن اگر یہاں پاکستان میں آپ عوامی مقامات پر لہرانے والے سیاسی جماعتوں کے پرچموں کا شمار کریں تو پھر یہ جغرافیائی تقسیم کچھ یوں ہوگی:
شمالی اوروسطی پنجاب پر مسلم لیگ نون کا راج ہے اور اس کےہم پلہ نظر آتی ہے پاکستان تحریکِ انصاف اور دور کہیں تیسرے نمبر پر کھڑی ہے پاکستان پیپلز پارٹی۔
جوں جوں آپ جنوب کی سمت آگے بڑھیں پی پی پی کے پرچموں کی تعداد بڑھتی چلی جاتی ہے اور وہ دونوں مذکورہ بالا جماعتیں اپنے اظہار کی جدوجہد میں مصروف نظر آتی ہیں اور جیسے ہی آپ سندھ میں داخل ہوں وہ دونوں پی پی پی کے آگے ہاتھ چھوڑ کر کھڑے ہونے کا فیصلہ کرلیتی ہیں۔
لیکن میرے لیے حیرت کی بات یہ حقیقت بھی ہے سندھ میں ہائی وے کے اطراف واقع چھوٹے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں دوسری بڑی جماعت جس کے پرچموں کی بہار نظر آتی ہے، وہ ہے جمعیت علمائے اسلام۔
پوسٹرپر بھی کردار تبدیل ہوچکے۔ بھٹوزغالب ہیں۔ آپ کو یہاں بعض دوسرے، جیسا کہ پیر پگارا یا جی ایم سید نظر نہیں آئیں گے لیکن یہ صرف 'مشاہدے کا خلاصہ' ہے، اسے بہت زیادہ مت سمجھیے گا۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ بھٹوز بیوٹی رگ و پے میں اتری ہوئی ہے لیکن جب آپ یہاں کے لوگوں سے بات چیت کریں تو اس حقیقت کا اعتراف ہوتا ہے کہ پارٹی برف کی پتلی تہ پر چہل قدمی کررہی ہے۔
کتنی پتلی تہ؟ یہ تو انتخابات کے نتائج کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا لیکن لوگوں میں بڑے پیمانے پر ان سے متعلق عدم اطمینان ضرور پایا جاتا ہے۔
یہاں پاکستان کی انتخابی سیاست کا ایک اور تلخ پہلو بھی ہے کہ جو جماعت غریبوں کے حقوق کی جدوجہد کے لیے خدمت کے جذبے سے سرشار نمائندگی سے جھولی بھر کرسامنے آتی ہے، اپنی تمام تر انتخابی طاقت کو سب سے زیادہ استحصالی طبقے کے آگے ڈھیر کردیتی ہے۔
میں نے کچھ لوگوں سےجو بات چیت کی اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ شاید جاگیرداروں کا اپنی رعایا پر سے اختیار کمزور پڑنے لگا ہے۔
اب وہ چھڑی اور گاجر کا امتزاج لیے ایک اور بار واپسی کے لیے پر تول رہے ہیں۔
اس ساری صورتِ حال کی وضاحت ایک نے یوں کی کہ امیدوار (اور اس کے کارکن) گوٹھ والوں کو ووٹ کے لیے پیسے کے ساتھ ساتھ دھمکیاں بھی دے رہے ہیں کہ اگر وڈیرہ سائیں اُن کے پولنگ اسٹیش سے نہ جیت سکا تو پھر اُس کی زمینوں پر بنے گھروں کا خالی کرنا پڑے گا۔ زمین کی ملکیت چند ہاتھوں میں ہے اور متوسط طبقہ بہت ہی مختصر۔
ڈھائی سو کلومیٹر طویل سفر میں ہر جگہ، کسی اور سواری کے مقابلے میں مجھے موٹر سائیکل سوار زیادہ ملے ماسوائے تھل کے۔
اگرچہ وہاں بہت زیادہ کاریں تو نہیں تھیں البتہ ایسی فور بائی فور گاڑیوں کی تعداد غیر ممولی طور پر بہت زیادہ تھیں جن پر پی پی پی کا ترنگا لہراہا تھا۔
یہ مجھ جیسے سڑک چھاپ کے لیے سندھی مڈل کلاس کی ہیئت اور اس کے عناصر تراکیبی کا معیار تھا۔
ٹماٹر کے اُس کاشت کار سے میری ملاقات بھٹو کے مزار سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہوئی، جو اپنی پیداوار کو لاہور اور راولپنڈی کی منڈیوں میں بھیجنے کے لیے پیک کر رہا تھا۔
[vimeo
w=400&h=300]گڑھی خدا بخش کی گرد آلود سڑک پر بھٹو کے مزار سے ذرا فاصلے پر نواز لیگ کا دفتر ہے جس کا انتظام 'ممتاز بھٹو کا بندہ' (سردار کا آدمی) چلاتا ہے۔
ذوالفقار بھٹو کے کزن نے چند ماہ قبل اپنی پارٹی کو مسلم لیگ نواز میں ضم کردیا تھا۔ دفترمیں موجود بندے نے دونوں پہلوؤں پر اظہارِ خیال کیا: بھٹو خادان سے وابستگی اور سردار مرتضیٰ سے اپنی وفاداری۔
روایات اور قبائلی وفاداری کی اس بہتری پر میں نے سوال کیا کہ نواز شریف نہ تو بھٹو ہیں اور نہ سندھی تو پھر وہ کیوں ان کی حمایت کررہے ہیں۔
اس نے جھٹ سے ہاتھ لہراتے ہوئے کہا 'لیکن وہ مسلمان ہیں۔' لہٰذا سندھی کے بعد جو سب سے اچھی شے ہے، وہ ہے مسلمان ہونا۔
میرے خیال میں شاید یہی وہ سبب ہے کہ سندھ کے اس علاقے میں انتخابی منظر نامہ پر جمیعتِ علمائے اسلام کے پرچموں کی بھی بہار ہے۔
گڑھی خدا بخش ایک نہایت پسماندہ گوٹھ یا آپ کہہ سکتے ہیں کہ سندھ کا ایک اور گوٹھ ہے۔ اس ملک کے طول و عرض کے غریبوں کے دلوں پر راج کرنے والے رحمدل بادشاہ نے غموں کے مارے ان غریبوں کی زندگی کو چھوا تک نہیں۔
یہ بدستور پسماندگی میں زندہ رہتے ہوئے، اپنے مصائب کے خاتمے اور خوابوں کی تعبیر پانے کی جستجو میں ہیں۔
مزار کی اپنی معاشی ملکیت بہت محدود اور صرف چند ریفریجریٹر تک محدود ہے جو کولڈ ڈرنکس سے بھرے رہتے ہیں اگرچہ ایسا سال کے اہم مواقعوں پر ہی بطور انعام ہوتا ہے۔
میں ایک گھنٹے تک مزار کمپلیکس کے اندر گھوم پھر کر کسی من کے سچے جاں نثار وفادار کی تلاش میں رہا مگر مجھے صرف وہاں وہ فیملیز یا نوجوانوں کے گروپ نظر آئے جو تفریح کی غرض سے آئے تھے اور ہاتھوں میں کیمرہ تھامے مختلف پس منظر میں جامد کھڑے ہو کر تصویر بننے اور بنانے میں مصروف تھے۔
یہ شاید اُن کی زندگی میں، سندھ میں طاقت کی سب سے مضبوط ترین علامت کے نزدیک ہونے کا واحد موقع ہوگا۔
سفر کے نقطہ آغاز پر لاہور میں میری ملاقات مزنگ کے سائیں ہیرا سے ہوئی تھی اور اب غریبوں کے صوفی کے مزار سے میرے سفر کا دھارا الٹا چل پڑا ہے۔
منصوبے کے مطابق میرے سفر کا اختتام لاڑکانہ میں بھٹو کے مزار پر ہونا تھا۔
ہائی وے کی آسان رہ گذر کے بجائے گاؤں دیہاتوں سے گذرنے والی چھوٹی سڑکوں پر سفر کا انتخاب میری عادت بن چکی ہے۔
میں نے موٹر سائیکل اسٹینڈ کے ساتھ، سڑک کنارے بیٹھے گُل فروش سے لاڑکانہ پہنچنے کے لیے سب سے مختصر راستا پوچھا تو اس کے بجائے اُس نے مجھے لمبے لیکن محفوظ ہائی وے پر سفر کا مشورہ دیا۔
گذشتہ دو روز کے دوران درجنوں بار مجھے اس قسم کے حفاظتی مشورے مل چکے تھے کیا یہ صرف حفاظت کے نقطہ سے تھا یا پھر حقیقت میں خطرہ ہے؟
یہ جاننے کے لیے کہ اگر ممنوعہ راستوں کا انتخاب کروں تو کس قسم کے خطرات لاحق ہوسکتے ہیں، میں نے اس سے مختصراً گفتگو کی۔
وہ تمہاری موٹر سائیکل،نقدی اور قیمتی سامان لوٹ سکتے ہیں اور پھربازیابی کا کوئی راستا نہیں۔
سلامتی کے معاملے پر پنجاب کے سوا، دیگر صوبوں کے لیے میرے تمام دوستوں نے اپنی تشویش اور مشورے، دونوں دیے تھے۔
وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کریں گے اور میں اُن پر ہنسوں گا۔ جیسا کہ میرا منصوبہ ہے کہ مستقبل میں اسی طرح کا سفر دوسرے صوبوں میں بھی کروں گا تو میرے لیے اہمیت کی بات یہ ہے کہ سلامتی کو لاحق خطرات کے تصورات اور زمینی حقائق کو ایک دوسرے سے علیحدہ رکھوں۔
اسی طرح میں نے گُل فروش کا مشورہ تو لے لیا مگر پھربھی 'محفوظ' بائی پاس کے بجائے اسی سڑک کا انتخاب کیا جو نو ڈیرو قصبے کے درمیان سے گذرتی ہے۔
دو مشہور ترین وزرائے اعظموں کے اس آبائی قصبے میں مجھے کوئی ایسی موٹر سائیکل نظر نہیں آئی جس پرنمبر پلیٹ لگی ہو۔ یہاں میرے لیے یہ ریاست کی عملداری کامعیار تھا۔
آپ کی ملکیت ریاست سے ضمانت شدہ نہیں۔ یہاں ہر شخص اپنی ذات میں صاحبِ اختیار ہے، جس کا مطلب یہ کہ وہ اپنی طاقت کے لیے کسی دوسرے پر انحصار نہیں کرتے اور نہ ہی طاقت ور ہونے کے لیے طاقت وروں کے ساتھ رابطوں اور ذاتی تعلقات کے جال میں الجھے ہیں۔
یہاں انتخابی سیاست کا مطلب موقع کی آزمائش ہے، اپنے جال کا ازسرِ نو تعین کریں، یا پھر اسے توسیع دیں یا پھر کوئی نیا تخلیق کریں۔ لہٰذا میں یہاں کس طرح آزادانہ گھوم پھرسکتا ہوں؟
ایک اچھی تجویز یہی ہے کہ میں بھی اپنی موٹر سائیکل کی نمبر پلیٹ اتار پھینکوں۔'اس طرح آپ بھی اُن جیسے ہوسکتے ہیں اور شک کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بقا یقینی بناسکتے ہیں۔'
میں اپنے اخذ شدہ نتائج کل، سیریز کے اختتامی حصے میں لکھوں گا۔
ترجمہ: مختار آزاد