• KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am
  • KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am

دوسرا دن: کوٹ رادھا کشن سے ننکانہ صاحب

شائع April 20, 2013

دوسرا دن: کوٹ رادھا کشن سے ننکانہ صاحب

مقامات: کوٹ رادھا کشن، بھائی پیرو، موڑ کندہ، اڈا منگتا والا، ننکانہ صاحب

(تصاویر کو بڑا کرنے کے لیے کلک کریں)

photo11 کوٹ رادھا کشن سے نکلتے ہوئے میں نے گاؤں دیہاتوں کے بیچوں بیچ گزرنے والی ایک راہ منتخب کی جو چک چوّن، جلھر عبدالقادر اور بھاگیانہ کلاں سے ہوتی گزرتی ہے۔

ان راستوں کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ ان پر ٹریفک بہت کم ہوتی ہے۔ میں حیران تھا کہ اپنے اس چوہتر کلومیٹر طویل سفر کے دوران مجھے اتنی گاڑیاں نہیں دکھائی دیں، جتنی روزانہ لاہور میں گھر سے دفتر تک کے چار کلومیٹر سفر میں، مجھے پیچھے چھوڑتے گزر جاتی ہیں۔ photo21 خانہ بدوش میرے لیے ہمیشہ ہی کشش کا باعث رہے ہیں۔ میں طویل عرصے سے اُن کی زندگی کا نہایت قریب سے مشاہدے کا خواہشمند رہا ہوں۔

اور آج تک یہ مشاہدہ دورانِ سفر صرف گاڑی کی کھڑکی سے انہیں دیکھنے کی حد تک ہی محدود رہا تھا۔

لیکن اس بار میں آزاد تھا، لہٰذا جب ان کی بستی دیکھی تو میں ان سے بات چیت کے لیے تیار ہو گیا۔

وہاں کے تمام مرد، مویشی چرانے نکلے ہوئے تھے۔ عورتیں اپنے روز مرّہ کام نمٹانے میں جُتی تھیں، جبکہ بچے کمسن بچھڑوں کے گرد کھیل کود میں مشغول تھے۔ photo31 ایک اجنبی مسافر سے بات کرنے میں وہ خواتین ہچکچاہٹ کا شکار تھیں۔ آخر ایک عمر رسیدہ خاتون مجھ سے گفتگو پر آمادہ ہوگئیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ نسلی طور پر ایک بلوچ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور پنجاب کے ان علاقے میں گھومتے پھرتے پڑاؤ ڈالتے ہیں، جہاں ان کے پالتو مویشیوں کے لیے باآسانی چارہ دستیاب ہو۔

وہ اوکاڑہ ضلع سے یہاں آکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ہیں۔ اس علاقے میں ہر طرف گندم کاشت ہوتی ہے اور ان کی گائیوں کے لیے فصل کی باقیات اور ارد گرد پھیلی ہریالی اچھا چارہ ہے۔

ویسے بھی اگلی فصل کے لیے زمین تیار کرنے سے قبل اس کی صفائی میں، چرائی کا یہ عمل مددگار ثابت ہوتا ہے، اس لیے کاشتکار بھی خانہ بدوشوں کو بخوشی پڑاؤ کی اجازت دے دیتے ہیں۔

ایک دودھ والا آکر نقبی کے عوض ان کے گائیوں کا سارا دودھ لے جاتا ہے۔ photo41 وہ معمر خاتون الیکشن سے متعلق میرے سوالوں کے جوابات دینے کی حالت میں نہیں تھیں اور میں بھی انہیں مزید روکے رہنا نہیں چاہتا تھا۔

خیر کسی اور وقت، کسی اور مقام پر، مجھے ان لوگوں کو زیادہ بہتر انداز سے جاننے، سمجھنے کا موقع مل جائے گا، لیکن جہاں تک بات قانون کی ہے تو اگر آپ کسی علاقے کے مستقل رہائشی نہیں تو وہاں آپ کو ووٹ دینے کا حق بھی حاصل نہیں ہوتا۔

بھائی پیرو کے مرکزی بازار میں، پاکستان مسلم لیگ نون کے امیدوار برائے صوبائی اسمبلی نشست، رانا اقبال کو اسپیکر صاحب پکارا جاتا ہے۔

ایک نمائندے کی حیثیت سے ان کے منصب کی ترقی کا تعلق اس بات سے بھی بن جاتا ہے کہ وہ اپنے حلقے کو کچھ مہیا کرے۔

"تو کیا یہ عنصر انہیں حریفوں پر فوقیت دے سکتا ہے؟" ایک سموسے والے سے میں نے سوال کیا۔ photo61 اس نے نفی میں سر ہلایا لیکن پھر کہا 'صرف اس صورت میں اگروہ اپنے حلقے کے لیے زیادہ اچھا کام کریں'۔

لہٰذا منصب اور اختیارات کے فوائد نیچے تک ضرور پہنچنے چاہئیں۔ رانا اقبال نے ملاقات میں ایمانداری سے تسلیم کیا کہ وہ اسپیکر شپ کے فرائض ادا کرنے میں اتنے مصروف رہے کہ اپنے حلقے پر توجہ ہی نہیں دے سکے۔

میں نے دوپہر کا کھانا ہیڈ بلوکی پر کھایا، جہاں سڑک کنارے تلی مچھلیاں فروخت کرنے والوں کے اسٹال تھے۔

وہ شخص نہایت روانی سے پنجابی بول رہا تھا مگر یہ سن کر میں حیران رہ گیا کہ وہ پٹھان تھا اور کوئی دو دہائیوں پہلے اُس کا خاندان مردان سے نقل مکانی کر کے یہاں آباد ہوا تھا۔ photo71 مچھلی فروشی کے اس دھندے کے علاوہ وہ ٹھیکے پر کاشت کاری بھی کرتا ہے۔

ان کے خاندان کا بڑا حصہ اب بھی وادیِ پشاور میں مقیم ہے مگر یہ مکمل طور پر مقامی رنگ ڈھنگ میں ڈھل چکے ہیں۔ اُن کے شناختی کارڈ یہیں کے ہیں اور اُن کے ووٹ بھی ضلع قصور کے اسی حلقے میں درج ہیں۔

موڑ کھنڈہ نے عقیدوں کی پہچان اوڑھ رکھی ہے جس کی علامتیں ناصرف سڑک کے ایک کلومیٹر کے ٹکڑے پر پھیلی اس چھوٹی سی آبادی بلکہ اس کے اطراف کے گاؤں دیہاتوں تک ملتی ہیں۔

لوگ امیرِ معاویہ چوک اور علی مدد اسٹریٹ سے اپنے علاقوں کی شناخت کراتے ہیں۔

موڑ کھنڈہ میں دو بڑی عبادت گاہیں ایک دوسرے کے انتہائی قریب واقع ہیں۔ ایک مسجد ہے اور دوسری امام بارگاہ۔

مسجد کا مینار غیر معمولی طور پر اونچا اور فلک کو چھوتا محسوس ہوتا ہے۔ photo9 ہر دوسری عمارت پر دعوتِ اسلامی کا سبز پرچم لہرا رہا ہے اور ایک مصروف چوراہے پر کھڑی سائیکل پر نصب لاؤڈ اسپیکر سے مذہب کی دعوت گونج رہی ہے۔

سڑک کے پار امام بارگاہ میں ہر محرم کے ایّام عزا میں مجالس بپا ہوتی ہیں اور ذوالجناح کا جلوس برآمد ہوتا ہے۔

تاہم اس سب کے باوجود یہاں مختلف عقائد اور فقہوں کے ماننے والوں کے درمیان تنازعہ یا کشیدگی کی کوئی علامت موجود نہیں۔

پی پی حلقہ ایک سو تھہتر، ننکانہ صاحب چار کے اس حلقے سے منتخب ہونے والے سابق رکنِ اسمبلی شیعہ تھے اور وہ اس حلقے کے صرف شیعہ ووٹ کی بدولت کامیاب نہیں ہوسکتے تھے۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مقامی باشندے اپنے اپنے عقائد کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ یہاں زندگی بسر کررہے ہیں۔

یہاں ایک بڑا مذہبی کمپلیکس بھی موجود ہے جسے نورالزماں اویسی چلارہے ہیں۔ وہ پیر آف چائند پور کے گدّی نشیں ہیں۔

ان کے کمپلیکس میں صرف مسجد اور مدرسہ ہی قائم نہیں بلکہ ایک چھوٹا سا ہسپتال بھی ہے، جس میں زچّہ بچہ (گائنی) اور امراض چشم کے وارڈ اور دو ایمبولینسیں بھی ہیں۔ photo8 اویسی صاحب نے اپنی مذہبی حیثیت اور رفاہی کردار کو نہایت دلچسپ اندازمیں مجتمع کر رکھا ہے جس کی وجہ سے وہ علاقے کے دو حلقوں میں اپنے پیروکاروں کی موجودگی اور سیاسی اثر و رسوخ کا دعویٰ کرتے نظر آتے ہیں۔

ان کی اویسی ویلفیئر فاؤنڈیشن کا ماننا ہے کہ مفت تعلیم و طبّی سہولتیں فراہم کرنا اسلامی نظریاتی اصولوں پر کاربند ہونے کا دعویٰ کرتی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور یہ کہ فلاحی تنطیم اپنے تئیں چھوٹے پیمانے پر خدمات انجام دینے کی کوششیں کر رہی ہے۔

میں نے اُن سے دیہی معاشرے کی زندگی اور سیاست میں پیروں کے کردار پر بھی گفتگو کی جو کچھ یوں تھی۔

Nooruz-Zaman-Ovaisi----Play-Button

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025