ہونے یا نہ ہونے کی مشکل
ہونے یا نہ ہونے کی مشکل
(تصاویر کو بڑا کرنے کے لیے کلک کریں)
سفر شروع ہونے سے پہلے ہی گبھراہٹ میرے جوش و خروش پر حاوی ہونے لگی ہے کیونکہ مجھے کچھ پریشانیاں لاحق ہیں۔ جن میں سے سب سے بڑی یہ کہ آیا میں اپنی اُمیدوں پر خود پورا اتر پاؤں گا۔
یہ سفر میرے لیے بڑا امتحان ثابت ہونے جا رہا ہے۔
اگر میری یاد داشت میرا ٹھیک ساتھ دے رہی ہے تو میں نے اس سے پہلے اپنی زندگی میں صرف ایک بار ہی اس طرح کی آوارگی کی تھی۔
یہ 1994ء کا زمانہ تھا، ان دنوں میں ایک ماہنامہ کے لیے کام کرتا تھا اور مجھے ایک اسٹوری کے سلسلے میں مالاکنڈ جانا تھا، جہاں مذہب پسندوں سے متاثر ہو کر پہلی عوامی بغاوت جنم لے رہی تھی۔
مسلح تحریک ہونے کے باوجود، اُن دنوں مالاکنڈ کو اتنا خطرناک نہیں سمجھا جاتا تھا، جتنا آج یا پھر شاید خطرے کے حوالے سے میری لاعلمی میرے لیے بہتر ثابت ہوئی۔
لیکن اس سفر کے حوالے سے میرے بہت سے اندیشے ہیں کیونکہ میں اب لاعلم نہیں۔
پبلک ٹرانسپورٹ سے اُترنے کے بعد میں نے سیدھا مٹہ پولیس اسٹیشن کا رخ کیا لیکن ہمشہ کی طرح سرکاری اہلکاروں نے مجھے مایوس ہی کیا۔
اس موقع پر مجھے ایک خان صاحب مل گئے، جنہوں نے مجھے اپنے گاؤں آنے کی دعوت دی۔
میں نے دعوت قبول کی اور ہم دور دراز ایک پہاڑ کی چوٹی پر اُن کے گھر کی جانب چل پڑے۔
اس کے بعد واقعات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا جس دوران مقامی لوگوں نے نا صرف میرا بے حد خیال رکھا بلکہ مجھے بیش قیمت معلومات بھی فراہم کیں۔
اس سفر کے دوران پیش آنے والا ایک دلچسپ واقعہ میرے ذہن میں آج بھی محفوظ ہے۔
ہوا کچھ یوں کہ ان مقامی لوگوں کا میڈیا سے واسطہ صرف بی بی سی ریڈیو سننے کی حد تک تھا۔ لہٰذا میرے میزبان نے انہیں میرا تعارف 'بی بی سی والا' کہہ کر کرادیا۔
میں نے اپنے میزبان کی تصیح کرنے کی کئی بار کوشش کی لیکن پھر مجھے احساس ہوا کہ وہ بھی غلط نہیں سمجھ رہا کیونکہ ان کے لیے بی بی سی کسی ادارے کا نام نہیں بلکہ وہ تو اس نام کو خبروں کے معنوں میں استعمال کرتے تھے اور اس لحاظ سے تو میں خبروں والا تھا۔
تقریباً پانچ دنوں میں اپنا کام ختم ہونے کے بعد میں بس کے ذریعے واپس راولپنڈی چلا گیا۔
جب میں نے اپنی اسٹوری فائل کی تو وہ میری ایڈیٹر کو اتنی پسند آئی کہ انہوں نے اسے میگزین کی کور اسٹوری بنا دی۔
لیکن اِس مرتبہ اپنی پہلی اسٹوری فائل کرنے سے پہلے ہی میں سرورق پر آ چکا ہوں، اور یہی میری پریشانی کا سبب ہے۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو مچھروں کی بھرمار میری پریشانیوں میں سرفہرست ہے۔
ابھی تو اپریل کا وسط ہے، اور ہمارے دیسی کیلنڈر کے حساب سے بیساکھی کا مہینہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ سفر کے دوران میں جہاں بھی جاؤں گا، وہاں راتیں ٹھنڈی لیکن دن گرم ہوں گے۔
موسم کی مناسبت سے کسانوں نے گندم کی بوائی شروع کردی ہوگی اور ہر طرف بے شمار کیڑے مکوڑے ہوں گے۔
میں نے کیمپنگ اور پہاڑوں میں چڑھنے میں مہارت رکھنے والے ایک دوست کو فون کیا تو انہوں نے مجھے ایک کیمپنگ سے متعلق اشیاء فروخت کرنے والے ایک دکان پتہ بتایا۔
دکان میں زیادہ تر وہ آلات اور چیزیں تھیں جو شمالی علاقوں میں پہاڑوں پر چڑھنے کے شوقین مہم جو افراد کے کام کی تھیں۔
میں تو پہاڑی علاقے کے بجائے مخالف سمت میں سفر کرنے جا رہا ہوں، ہاں البتہ طے شدہ پلان کے تحت میرا گزر پوٹھار کے کچھ پہاڑی علاقوں سے ضرور ہو گا۔
میں نے ایک ٹینٹ کا انتخاب کیا جو ہوا دار تو نہیں تھا لیکن مچھروں سے دور رکھنے میں مفید ثابت ہو سکتا تھا۔
یہاں میں بتاتا چلوں کہ سفر کے دوران میرا کیمپنگ کا کوئی ارادہ نہین لیکن احتیاطا اپنے ساتھ ایک سیٹ لے جا رہا ہوں تاکہ اگر مجھے کہیں رات گزارنے کی موزوں جگہ نہ ملے تو اسے استمعال میں لایا جا سکے۔
میں ممکنہ طور پر بلوچستان بھی جاؤں گا۔ اس سے پہلے میں کئی دفعہ وہاں جا چکا ہوں۔
آخری مرتبہ میں اگست 2008 میں ٹماٹر کے چھوٹے کاشت کاروں سے متعلق ایک رپوٹ کی تیاری کے سلسلے میں وہاں گیا تھا۔
ملک میں ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار قلعہ سیف اللہ میں ہوتی ہے۔
دوسرے صوبوں میں جہاں موسم سازگار ہونے پر ہی ٹماٹر کاشت کیا جاتا ہے وہیں یہ ضلع اور بالعموم پورا صوبہ سال کے بارہ مہینے ٹماٹر کی کاشت کے لیے موزوں ہیں۔
اس دورے کی انتہائی قیمتی یادگاروں میں سے ایک میری 'وسعتوں' سے ملاقات تھی۔
ہم لوگ لورا لئی اور قلعہ سیف اللہ کے درمیان سفر کر رہے تھے اور میں اپنی گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا کہ مجھے ایک وسیع و عریض میدانی علاقہ نظر آیا۔ یہ منظر میرے لیے اتنا حسین تھا کہ میں نے اپنے ڈرائیور سے رکنے کو کہا۔
میری نگاہوں کے سامنے حد نگاہ تک خودرو جھاڑیوں سے اٹی بیابان زمین تھی۔
وسیع و عریض، کشادہ اور انتہائی کھلی زمین۔ مجھے یہاں بس دو چھوٹے جھونپڑے ہی نظر آرہے تھے۔ سوچیں کہ آپ ان میں سے ایک میں رہتے ہیں۔ میں اپنے جذبات کو لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا۔
اس وقت بھی بلوچستان امن و امان کی خراب صورتحال یا پھر دوسری برے واقعات کی وجہ سے خبروں میں آتا تھا۔ صوبے میں بغاوت تو بہت پہلے ہی شروع ہوچکی تھے اور 2006 میں نواب اکبر بگٹی کو ہلاک کر دیا گیا تھا لیکن اس سب کے باوجود مجھے سیکیورٹی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ میں نے سیکیورٹی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کسی ماہر کی خدمات حاصل نہیں کی تھیں۔
لیکن اس بار میں نے یہی غلطی کی ہے اور اس کے نتیجے میں میرے پاس صوبے میں امن و امان کی خراب صورتحال سے متعلق گٹھری بھر خبریں موجود ہیں جن پر میں یقین بھی کر رہا ہوں۔
جب میں اپنے سفر کا نقشہ ازسر نو ترتیب دے رہا تھا تو میرا بھائی آیا اور بتانے لگا کہ لاہور کے ایک پوش علاقے میں گزشتہ رات ہی اس کے گھر کے باہر ایک ڈاکو اس سے پرس لے اڑا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ پولیس اسٹیشن اس کے گھر سے اگلی گلی میں ہی ہے۔ اگر وہ ذرا سی بھی مزاحمت کرتا تو اسے گولی مار دی جاتی۔
ایک مرتبہ پھر اس نے میرے منصوبوں کوخراب کر دیا تھا۔
یہ سیکیورٹی کیا ہوتی ہے؟ امکان کا نظریہ بھی بہت عجیب و غریب ہوتا ہے۔
کسی بھی چیز کے ہونے کا اگر ایک فیصد بھی امکان ہے تو ہو چیز ہو سکتی ہے، لیکن دوسری جانب اگر کسی چیز کے 99 فیصد ہونے کے امکانات ہیں تو ممکن ہے کہ وہ نہ بھی ہو۔
میں اسی ہونے اور نہ ہونے کے درمیان پھنسا ہوا ہوں کہ کس کا انتخاب کروں ایک فیصد کا یا پھر 99 فیصد کا۔
امکان ہونے کا یا پھر نہ ہونے کا۔