بابا چی گویرا اور امام ضامن
بابا چی گویرا اور امام ضامن
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ لال چوغہ پہنے ایک صوفی شخصیت 'بابا چی گویرا' میرے خواب میں آئے۔ ان کا پرُنور چہرہ اندھیرے میں جگمگا رہا تھا۔ انہوں نے اپنی انگلی سے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا 'اے بندے، تجھے میری راہ انقلاب پر چلنا چاہیے'۔
اگر آپ سمجھ رہے ہیں کہ میری موٹر سائیکل ڈائری کی ابتدا اس خواب سے ہوئی، تو ایسا نہیں تھا۔
موٹر سائیکل ڈائری دراصل مشہور انقلابی چی گویرا کی سوانح عمری کا ٹائیٹل ہے۔
انیس سو پچاس کی دہائی میں انہوں نے اپنی موٹر سائیکل پر پورے لاطینی امریکا کا سفر کیا تھا اور یہی وہ سفر تھا جس نے انہیں سامراجیت پر مبنی نظام کے خلاف ایک گوریلا جنگجو میں بدل دیا۔
چی کے کچھ نظریات سے اختلاف اپنی جگہ، لیکن میں ان کے محض کتابیں پڑھ کر چیزیں سمجھنے کے بجائے میدان میں اُتر کر انہیں محسوس کرنے کے عمل سے بہت متاثر ہوں۔
میرے اس سفر کی بنیاد چی نہیں بلکہ کچھ ذاتی وجوہات تھیں۔ میں اپنی تنظیم کے کئی منصوبوں پر کام کے دوران مختلف دیہات جا چکا تھا اور اس دوران مجھے سواری کی اہمیت کا باخوبی اندازہ ہو گیا ہے۔
یہ آپ کے پاس سواری کی نوعیت ہی طے کرتی ہے کہ جن لوگوں سے آپ ملنے جا رہے ہیں وہ آپ سے کیسا برتاؤ کریں گے۔
ایک عام موٹر سائیکل سوار سے ان لوگوں کی اُمیدیں کم ہی ہوتی ہیں لہٰذا وہ آرام سے گھل مل جاتے ہیں اور نتیجتاً گفتگو انتہائی موثر ثابت ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ، چار پہیوں کی سواری کی نسبت موٹر سائیکل زیادہ مستعد اور با آسانی استعمال ہونے والی سواری ہے۔
چونکہ میں نے اپنے راستے اور ٹھہرنے کے مقامات پہلے سے طے نہیں کیے ہیں، لہٰذا میں اپنے ساتھ بہت سی ضروری اشیاء لے کر چلوں گا۔
میری کوشش ہو گی کہ دوران سفر میں توجہ اور توانائیاں محض اپنی اشیاء کی حفاظت پر ہی مرکوز نہ ہوں۔
میرا مطلب ہے کہ اگر مجھ پر ہر وقت یہی خوف طاری رہے گا کہ کہیں میرا آئی پیڈ یا پھر کچھ اور چوری نہ ہو جائے تو میں کام کیسے کروں گا۔
اس لیے میں نے طے کیا کہ اپنی موٹر سائیکل پر اضافی ڈبے اور لاک لگاؤں۔
مجھے معلوم تھا کہ پولیس اہلکاروں کی موٹر سائیکلوں پر ایسے اضافی باکس ہوتے ہیں لہذا میں نے ایک اہلکار سے ان ڈبوں کو لگوانے کے لیے معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے کچھ معلوم نہیں تھا۔
میں نے آن لائن دکانوں پر بھی کوشش کیں لیکں وہاں بھی 'سب کچھ بکتا ہے' سوائے میری ضرورت کے ڈبوں کے۔
موٹر سائیکل کے پارٹس اور متعلقہ اشیاء کے بازاروں کے کئی چکر بھی بےسود ثابت ہوئے۔
جب کوئی اور راستہ نظر نہیں آیا تو اپنی مدد آپ کے تحت میں نے اپنی ڈیزائننگ کی صلاحیتوں کو جانچنے کا فیصلہ کیا اور کچھ مستریوں سے رابطے بڑھائے۔
زیادہ تر مستری اس حوالے سے تربیت یافتہ نہیں تھے، انہوں نے کچھ مخصوص ہنر حاصل کر لیے ہیں جنہیں وہ خوشی خوشی ہر گاہک کو دکھانے کے لیے تیار رہتے ہیں۔
اسٹیل کا کام کرنے والے رشید کے لیے دو مخصوص ڈیزائن کردہ ڈبے تیار کرنا اس کے روز مرہ کے معمول سے ہٹ کر کام تھا۔
ہمیں ان ڈبوں کے آرمیچر تیار کرنے میں کافی دن لگ گئے۔ انہیں تیار کرنے کا مقصد ڈبوں کو ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی سختیاں برداشت کرنے اور موٹر سائیکل سے مضبوطی سے جڑے رہنے کے قابل بنانا تھا۔
تاہم بجلی، رشید کی ایک بڑی مشکل تھی۔ میں نے ان کی ورکشاپ میں کئی گھنٹے صرف کیے تھے اور اس دوران میں نے نوٹ کیا کہ کاریگروں نے اپنے تمام کام لوڈشیڈنگ کو مدنظر رکھتے ہوئے بانٹ لیے ہیں۔
دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ طے کر رکھا تھا کہ بجلی آنے کے دوران کیا کرنا ہے اور جب بجلی نہ ہو تو کون سے کام کیے جا سکتے ہیں۔
ان کاریگروں سے جب سیاست اور الیکشن پر بات کرنے کی کوشش کرتا تو ان کی باتوں کا اختتام توانائی بحران کے پیچھے لاتعداد سازشوں کے ذکر پر ہی ختم ہوتا۔
لوڈ شیڈنگ کے ستائے ان کارگروں سے میں کسی اور قسم کی گفتگو کی توقع بھی نہیں کر رہا تھا۔
اپنے سیاسی خیالات کے حوالے سے محتاط لکڑی کا کام کرنا والے شکیل اس معاملے میں زیادہ باتونی ثابت ہوئے۔
دوران گفتگو وہ کافی کھل کر بات کرتے تھے تاہم انہوں نے کسی ایک جانب سیاسی جھکاؤ سے پرہیز کیا۔
شکیل کے کام کا انحصار بجلی پر زیادہ نہیں تھا لیکن پھر بھی انہوں نے یو پی ایس لگوا رکھا تھا جس کی مدد سے وہ چھوٹے اوزاروں کو استعمال کرتے تھے۔
اپنے کام کے دوران وہ فراخ دلی سے مجھے چائے اور کھانے کی بھی پیشکش کرتے رہے۔ مجھے معلوم ہوا کہ یہاں چائےکا بے تحاشا استعمال کیفین کے لیے نہیں بلکہ خون میں شوگر لیول کے لیے ہوتا ہے۔
اسٹیل فریم پر لکڑی کے ڈبے چڑھا تو دیے گئے لیکن یہ اتنے مضبوط نہ تھے کہ ٹھوٹی پھوٹی سڑکوں کی مار برداشت کر سکتے، لہٰذا میں نے ان پر فائبر گلاس کی تہہ چڑھانے کا فیصلہ کیا۔
میں بنیادی طور پر فائبر گلاس کی ڈائی اور کاسٹ کو ہی ترجیح دے رہا تھا لیکن یہ قدرے مشکل اور وقت طلب کام تھا اور ویسے بھی فاروق کو دوسرے گاہکوں کے کام بھی نمٹانے تھے۔
انہوں نے ورک شاپ پر کام کرنے والے پُرتجسس چھوٹے کو بتایا کہ 'صاحب پاکستان کے ورلڈ ٹور پر جا رہے ہیں'۔ یہاں لفظ 'ورلڈ' سے ان کی مراد عظیم تھا۔
تیار ہونے والے ڈبے وزن میں بہت ہلکے اور دیکھنے میں سادہ تھے۔ میں انہیں جاذب نظر اور بھڑکیلا بنانے کی ٹھانی اور بند روڈ پر موجود ٹرک اور بس کی باڈی بنانے کی مارکیٹ کا رُخ کیا۔
وہاں ایک دلچسپ چیز یہ دیکھنے میں آئی کہ کچھ نقش و نگار بنانے والے کاریگروں نے کمپیٹرز کو خود کٹرز سے منسلک کر رکھا تھا۔
لیکن ان کا استعمال صرف گاہکوں کی خواہش پر صرف اس صورت میں ہوتا تھا جب کوئی انتہائی پیچیدہ اور غیر روایتی نقش یا پھرعربی کیلیگرافی پر مشتمل ڈیزائن کی کٹنگ کرنا ہوتی تھی۔
ان ڈبوں کو فٹ کرنے کے لیے مجھے اپنے موٹر سائیکل کے پچھلے سائیڈ انڈیکیٹرر ہٹانا پڑے لیکن ان کے بغیر سفر کا آغاز نہیں کیا جا سکتا تھا۔
چونکہ کسی بھی موٹر سائیکل کے انڈیکیٹر ان ڈبوں کی موجودگی میں فٹ نہیں ہو سکتے تھے لہذا مجھے مجبوراً رکشہ کے انڈیکیٹرز کا سہارا لینا پڑا۔
ان سب کے بعد جب میں ٹیسٹ ڈرائیو پر نکلا تو ہر چوک اور ٹریفک سگنل پر دوسرے موٹر سائیکل سوار مجھ سے اس بارے میں پوچھتے رہے۔
کچھ تو فوراً ہی کوئی نہ کوئی مشورہ بھی دے بیٹھے اور ایک نے تو مجھے موٹر سائیکل سے جڑی اشیاء کا کاروبار کرنے کی صلاح دے کر حیران کر دیا۔
میں نے اپنی ٹیسٹ ڈرائیو کی تصویریں فیس بک پر شیئر کیں اور یہ میرا ٹور کے حوالے سے پہلا عوامی اعلان تھا۔
میں نے اس حوالے سے اپنے کچھ خاص دوستوں اور اہل خانہ سے بات چیت کر رکھی تھی لیکن دوسرے قریبی ساتھی اس منصوبے کے بارے میں بے خبر تھے۔
اگلی ہی صبح مجھے والدہ کی ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔ اس موقع پر مجھے یاد آیا کہ وہ تو میری فیس بک فرینڈ تھیں۔
جب انہوں نے مجھ سے ٹور کے بارے میں تفصیلات پوچھیں تو میں اپنی سانسیں روکے بس انہیں سنتا رہا۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ انہوں نے صرف ایک ہی مشورہ دیا اور وہ تھا موٹر سائیکل کے کسی حصے پر امام ضامن باندھنے کا۔ انہوں نے مجھے بار بار صدقہ دینے کی بھی تلقین کی۔
میں ان کے مشوروں پر ضرور عمل کروں گا کیونکہ دوران سفر ماں کی دعا بہت اہم ہوتی ہے۔