مہم کی تین وجوہات
سفر کی تین وجوہات
کہتے ہیں زندگی بہت بے معنی ہے۔ اسے گزارنے کے لیے ایک بڑی وجہ کا ہونا ضروری ہے اور اسے کوئی نہ کوئی مقصد بھی دینا پڑتا ہے۔
مجھے بہرحال بے معنی زندگی سے نکلنے اور اپنے سفر کے آغاز کے لیے ایک نہیں تین تین وجوہات کا سہارہ لینا پڑا۔
پہلی وجہ
اعداد و شمار سے کھیلنا میرا کام رہا ہے۔ الیکشن کے نتائج سے لے کر شرح خواندگی اور ادویات کی قیمتوں تک، میں نے کئی سال مختلف شعبوں میں بھاری بھرکم اعداد و شمار پر مشتمل کام کیے ہیں۔
آپ نے یہ تو سن رکھا ہو گا کہ چینی بنانے والے ایک نہ ایک دن میٹھا کھانے کی رغبت کھو دیتے ہیں لیکن میرا کیفیت اس سے بھی کہیں آگے کی ہے۔
اعداد و شمار بذات خود کچھ نہیں ہوتے، یہ تو محض حقائق کی نمائندگی کرتے ہیں۔
میرے پاس مختلف شعبوں کے حوالے سے اعداد و شمار کی بے انتہا معلومات ہیں لیکن کیا اس بنیاد پر میں حقائق سے مکمل آگاہی کا دعوی بھی کر سکتا ہوں؟
مجھے ایسا نہیں لگتا، حالانکہ کبھی کبھار مجھے ایسا لگتا بھی ہے۔ ایسی صورتال میں، میں حقائق کو پرکھنے کو ترجیع دوں گا۔
میں بڑے عرصے سے حقائق اور ان کی نمائندگی کرنے والے اعداد و شمار کے درمیان کھڑا ہوں۔
میں حقائق کو اعداد و شمار کی عینک سے دیکھتا ہوں لیکن کیوں نہ اس بار الٹ کیا جائے اور حقائق کی روشنی میں اعداد و شمار کی جانچ کی جائے؟
میں اپنی بات دوسرے الفاظ میں کہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ جمہوریت الیکشن کے ذریعے آتی ہے اور الیکشن نمبروں کا کھیل ہے۔
نمبر جمع ہوتے ہیں، ضرب بھی دیے جاتے ہیں لیکن ریاضی کی خصوصیات کے علاوہ بھی ان کی کچھ اہمیت ہوتی ہے؟
شاید کسی کے لیے اس کا ایک ووٹ ایک خواب کی طرح ہو، یا پھر مزاحمت کی علامت یا کسی لالچ کا اظہار یا محض ایک بے جان معمولی کام؟
مجھے یہ جاننے کی جسجتو ہے۔
دوسری وجہ
میڈیا کسی بھی معاشرے کا عکس ہوتا ہے لیکن یہ سراب بھی پیدا کرتا ہے۔ ہم جس دنیا میں رہتے ہیں میڈیا اسی میں سے اپنی مرضی سے ایک دنیا
تخلیق کر کے ہمیں دکھاتا ہے۔
وہ اپنی اس دنیا پر یقین رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ ہم بھی اسے ہی حقیقت سمجھیں۔
میں تسلیم کرتا ہوں کہ کوئی بھی چیزحتمی طور پر سچ نہیں ہوتی۔ لیکن میں میڈیا کے اپنی منتخب کردہ حقائق اور پھر انہیں پیش کرنے کے انداز سے اتفاق نہیں کرتا۔
میرے خیال میں مسئلہ میڈیا کی حقیقت کی مخالف سمت سے پیدا ہوتا ہے۔
سادہ لفظوں میں انفارمیشن ایک ایسی چیز ہے جسے معلومات پر مبنی صنعت تیار کرتی ہے۔
اس کا انحصار دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ ایک تو یہ کہ اس معلومات کے صارفین کون ہیں اور دوسرا اس سے کتنا منافع کمایا جا سکتا ہے۔
لیکن اسی بات کو 'خدمت' یا 'عبادت' کے پردے میں یا پھر 'آگاہی' اور 'سماجی تبدیلی' جیسے الفاظ کے گفٹ ریپر میں پیش کیا جاتا ہے۔
آپ اسے کسی بھی انداز میں پیش کریں۔ اشیاء صرف ان صارفین کے لیے ہوتی ہیں جو ان کی براہ راست یا بالواسطہ قیمت ادا کر سکیں۔
کیا معلومات کے ایسے صارفین بھی ہوتے ہیں جو اسے استعمال نہیں کرتے؟ ایسے لوگ جو کہ معلومات کی 'سطحِ غربت' تلے زندگی گزارتے ہیں؟
وہاں زندگی کیسی ہے؟ مجھے یہ جاننے کا تجسس ہے۔
تیسری وجہ
میرے صحافت سے پچیس سال پرانے تعلقات ہیں۔ میں نے لفظ 'طویل' کے بجائے 'پرانے' استعمال کیا ہے، کیوں کہ میں اس شعبے سے ہر وقت جڑا نہیں رہا۔
میڈیا کی کشش مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے لیکن جب میں اس سے منسلک ہوجاتا ہوں تو مجھے اس کی غیر معقول باتیں مجھے پریشان کرنے لگتی ہیں۔
مثلا، مجھے اس کے ہرفن مولا کردار سے الجھن ہے۔ یہ ہر موضوع پر تھوڑی بہت معلومات تو رکھتا ہے لیکن کسی ایک شعبے پر اسے مکمل دسترس نہیں۔
میڈیا کی چمک دمک اس کے اندر کے خالی پن کو چپھا لیتی ہے۔ میں اس کے گلیمر کے ساتھ نہیں چل سکتا۔
آپ میرے ان خیالات کو جاننے کے بعد کہیں گے کہ میں تو میڈیا کے ساتھ صرف فلرٹ کرتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہے۔
ایک دفعہ میں میڈیا کے ساتھ مسنلک ہوجاؤں تو اس کے ساتھ کافی زیادہ پر خلوص ہونے کے علاوہ محنتی اور مستعد بھی ہو جاتا ہوں۔
میرے اندرگرمجوشی پر مبنی بہتر تعلقات بنانے کی خواہش بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے میں دوسرے مواقع بھی حاصل کرتا ہوں خواہ وہ کتنے ہی کم پرکشش کیوں نہ ہوں۔
لیکن میں نے دوسرے جو بھی کام کیے ہیں وہ میڈیا کے ساتھ ایک طرح کی ہم آہنگی میں ہی ہوئے۔
بعض اوقات یہ عمل قدرتی تھا لیکن کئی بار میرے اندر چھپے ایک صحافی نے اس حوالے سے سازش بھی کی۔
میں ایک سال پہلے میڈیا کی طرف واپس لوٹا ہوں اور اعلی معیار برقرار رکھنے اور ہرفن مولا بننے کے بجائے میں نے اس بار گہرائی میں جا کر کام کرنے کی ٹھانی ہے۔ یہ میں ہوں۔