• KHI: Asr 5:03pm Maghrib 6:50pm
  • LHR: Asr 4:36pm Maghrib 6:24pm
  • ISB: Asr 4:42pm Maghrib 6:31pm
  • KHI: Asr 5:03pm Maghrib 6:50pm
  • LHR: Asr 4:36pm Maghrib 6:24pm
  • ISB: Asr 4:42pm Maghrib 6:31pm

پی پی پی وہیل چیئر پر

شائع April 18, 2013

saeen-hara-1000

میں بمشکل ہی سمجھ پا رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے بڑی دقت سے چند الفاظ بڑبڑائے جو بمشکل ہی قابلِ فہم تھے۔

آپ انہیں با آسانی پاگل بھکاری قرار دے کر نظر انداز کرسکتے ہیں لیکن ان کی ویل چیئر نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی۔

روایتی بھکاری مکمل طور پر ڈرامائی انداز اختیار کیے رکھتے ہیں۔ گلے میں رنگ برنگ موٹے موٹے نگینوں کی مالائیں، ہاتھوں کی انگلیاں انگوٹھیوں سے بھری پُری، رنگ برنگ ٹکڑوں سے بنی ٹوپی اور بہت کچھ۔

مگر وہ جس شے کا سہارا لیے تھے، ایک وہیل چیئر تھی، جس پر ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کے پورٹریٹ کے ساتھ پیپلز پارٹی کا پرچم لہرارہا تھا۔

وہیل چیئر نہایت بوسیدہ تھی اور مجھے یقین تھا کہ وہ ضرور کسی کباڑ کے ڈھیر سے اٹھائی گئی ہوگی۔

درحقیقت، وہ ہڈیوں کے ڈھانچے کی صورت وہیل چیئر پر بیٹھے تھے اور ان کے چہرے پر زندگی بھر کی مشقت صاف عیاں تھی۔

وہ اپنے ناتواں جسم کے ساتھ مزنگ کے علاقے میں اپنی وہیل چیئر کھینچتے پھرتے ہیں اور جب ان کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں تو کہیں بھی رک کر ذرا سا سستا لیتے ہیں۔

شاید اُس وقت تک وہ وہیل چیئر بھی بہت تھک چکی ہوتی ہوگی۔

سائیں ہیرا اور پیپلز پارٹی لازم و ملزوم ہیں۔ جب میں پہلی بار اُن سے ملا تو مجھے ان کی ذہنی حالت پر بھی شبہ تھا لیکن انہیں یاد آگیا کہ پہلی بار انہوں نے تلوار پر نشان لگایا تھا اور دوسری بار تیر پر۔

میں ان کے اندازِ گفتگو سے متاثر ہوا اور مجھے یقین ہوگیا کہ وہ ایک نارمل انسان ہیں۔

انہوں نے یہ کہہ کر مجھے حیران کردیا کہ وہ آج جو بھی ہیں وہ روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرہ کی بدولت ہیں۔

سائیں کو کہانی سنانے کا بہت شوق تھا اور انہیں بار بار وہ الفاظ دہرانے میںکوئی پریشانی محسوس نہیں ہوتی تھی، جنہیں سمجھنا مشکل تھا۔

اُنیّسو ستر کی دہائی میں وہ کسی وقت جلسے میں بھی گئے تھے، اپنے ہاتھوں میں ذوالفقار علی بھٹو کے لیے پھولوں کا ہار لیے، مگر انہیں پُرجوش ہجوم نے دھکیل کر اسٹیج سے دورکردیا لیکن بھٹو نے اسٹیج پر سے اِس معذور کارکن کی جدوجہد دیکھ لی اور ان کے لیے راستہ صاف کرنے کا حکم دیا۔

"میں نے انہیں پھولوں کا ہار پہنایا، انہوں نے مجھے گلے لگایا اس کے بعد میں نیچے اتر کر جلسے میں آنے والوں کے ساتھ بیٹھ گیا۔"

شاید سائیں کی زندگی میں بدلاؤ کا موڑ یہی لمحہ تھا جب ان کا سیاسی عزم دیوانگی میں بدل گیا۔

انہوں نے اپنی گدھا گاڑی پر ساؤنڈ سسٹم نصب کیا اور دن بھر پورے شہر کی سڑکوں گلیوں میں گھوم پھر کر بھٹو کی تقریروں کا پرچار کرنے لگے۔

اُنہوں نے مجھے خوشی سے سرشار لہجے میں بتایا کہ وہ اپنی گدھا گاڑی پر دور دراز کے شہروں جیسے شیخوپورہ اور گوجرانوالہ تک جاتے رہے، حتیٰ کہ ضیاالحق کے دور میں بھی وہ بستور اپنے اس خود اختیاری مشن پر لگے رہے۔

شاید اُن کا سبز لباس کی وجہ سے ہی ضیا دور میں پولیس والے انہیں درویش سمجھ کر گرفتار کرنے سے گریز کرتے رہے ہوں گے۔

"ایک مرتبہ غصے میں انہوں نے مجھے سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا تھا"۔

انہوں نے بے دانتوں کا منہ کھولا اور ہاتھ بڑھا کر ہتھیلی میری طرف کی اور پانچوں انگلیاں پھیلا کر شرارت آمیز ہنسی ہنستے ہوئے بولے۔

پھر انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر مجھے اس طرح قریب کرنے کی کوشش کی جیسے کوئی راز کی بات کہنے جارہے ہوں۔

"میں رہا نہیں ہونا چاہتا تھا۔ میرا لیڈر جیل میں تھا اور میری پارٹی کا فیصلہ تھا جیل بھرو۔"

پولیٹکل سائنس کا کوئی بھی علم اُس شخص اور اُس کے والہانہ لگاؤ کو سمجھنے میں میری مدد نہیں کرسکتا۔

جب وہ بوڑھا ہوا اور لاہور شہر میں دن بھر گدھا گاڑی کو گھمانا بہت مہنگا سودا ہو کر ممکن نہ رہا تو اُنہوں نے اس کا بھی حل نکال لیا۔

گدھا گاڑی وہیل چیئر میں بدل گئی۔ اگرچہ اب وہ پہلے کی طرح بہت دور دور تک نہیں پھرسکتے مگر جہاں تک وہ جاسکتے ہیں، جاتے ہیں، بھٹو کو ساتھ ساتھ لیے۔

میں نے کوشش کی کہ اُن سے اختلاف کروں اور کہوں کہ پی پی پی نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے پرعوام کو دھوکہ دیا لیکن انہوں نے مجھے بیچ میں ہی روک دیا اور کہنے لگے: انہوں نے مجھے مکان دیا تھا۔

اس وقت جہاں وہ رہ رہے ہیں کبھی ایک غیر آباد ٹیلہ تھا، تب مزنگ کو لاہور سے باہر کا علاقہ سمجھا جاتا تھا۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس جگہ پر سب سے پہلے ان کی جھونپڑی تھی لیکن اگلی چند دہائیوں میں وہ ایک کچی آبادی کی صورت پھیلتی چلی گئی۔

پھر بینظیر بھٹو نے کچی آبادی کو ریگولرائز کر کے مکینوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دیے، لہٰذا اس طرح اُنہیں بھی مکان مل گیا لیکن میرے جیسے یقین نہ کرنے والوں کے لیے سائیں اپنے دلائل محفوظ ہی رکھتا ہے۔

شاید ہی انہیں اپنے دیوتاؤں کی عظمت کا ثبوت پیش کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہوگی۔

سائیں لوئر مڈل کلاس علاقے کی ایک تنگ گلی کے نہایت چھوٹے سے مینار نما مکان میں رہتے ہیں۔

ان کا کمرہ ان کے پلنگ جتنا ہی چوڑا ہے، جس کے سرہانے دونوں بھٹوؤں کی تصویریں لگی ہیں۔

سیڑھیوں سے اوپر جاؤ تو وہاں اُن کے بیٹا رہتا ہے جو ہمسائے میں، چھوٹے پیمانے پر پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے۔

سائیں کے مقابلے میں ان کے بیٹے اکبر کو اپنے خاندان کی پی پی پی سے وابستگی کے بارے میں زیادہ سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔

"یہ ہمارے لہو میں شامل ہے، اگر پارٹی چھوڑتا ہوں تو یقین کرو میں اپنی موت سے پہلے ہی مرجاؤں گا"۔ وہ پکّا جیالا اور سرگرم سیاسی کارکن ہے۔

ان کے اپنے نظریات بھی ہیں اور پارٹی قیادت کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں، اس کی فہرست بھی وہ تجویز کرتے ہیں، مگر اس کی پرواہ کس کو ہے؟ saeen-harra-006 جب بینظیر بھٹو کی شہادت ہوئی تو سائیں نے کئی روز تک کچھ نہیں کھایا پیا۔ اُس واقعے کے ایک ماہ بعد ان کی پانچویں پوتی پیدا ہوئی تو سائیں نے اُس کا نام بینظیر رکھا۔

کیا اسکول جانے والی وہ بچی یہ نام اگلی نسل تک بھی لے جاسکے گی۔ کیا وہ سائیں کی میراث کو بھی اگلی نسل تک منتقل کرپائے گی؟

ترجمہ: مختار آزاد

طاہر مہدی

لکھاری الیکشن اور گورننس میں دلچسپی رکھنے والے آزاد محقق ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر TahirMehdiZ@ کے نام سے لکھتے ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025