خفیہ اداروں کا دہشت گردی بڑھنے کا عندیہ
اسلام آباد: پاکستان کی صف اول کی خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ہونے والے پاکستان تحریک طالبان سوات کے عسکریت پسندوں اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والے گٹھ جوڑ کے باعث متعدد سرحدی علاقوں میں دہشت گردی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ان مقامات میں باجوڑ اور مہمند ایجنسیاں جبکہ سوات، دیر اور چترال کے علاقے شامل ہیں۔
انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ ایڈوکیٹ راجہ محمد ارشاد نے پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ سوات کے طالبان کو علاقہ بدر کردینے کے بعد انہوں نے سیکیورٹی فورسز اور امن لشکروں کو امپرووائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائز کے ذریعے نشانہ بنارہے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے منگل کو خیبرپختونخواہ حکومت کی معاونت کے لیے ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشنز2011ء کی آئینی حیثیت سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔
اس ریگولیشن کے تحت گرفتار دہشتگردوں کو قبائلی علاقوں میں قائم خصوصی حراستی مراکز میں رکھا گیا ہے۔
رپورٹ میں 2008ء سے 2013ء تک کے خود کش حملوں، ٹارگٹ کلنگز اور تباہ شدہ اسکول اور کالجوں سے متعلق معلومات درج تھیں جبکہ متاثرین سے متعلق گرافک تصاویر اور سی ڈیز بھی اسی رپورٹ کا حصہ تھیں۔
راجہ ارشاد نے عدالت میں رپورٹ پڑھ کر سنائی جس میں کہا گیا ہے کہ فرقہ وارانہ گروپ کراچی اور کوئٹہ میں اہل تشیع حضرات کو نشانہ بنانے میں ملوث ہیں جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ ان تنظیموں کے کام کرنے کا طریقہ مختلف ہوگیا ہے جس میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا فرقہ ورانہ گروہوں کے ساتھ ضم ہوجانا شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی اور اتحادی گروپوں نے چندہ، بنک ڈکیتی اور اغواء برائے تاوان جیسے روایتی طریقوں کو فنڈز جمع کرنے کے لیے دوبارہ اپنالیا ہے۔
ریگولیشنز کی اہمیت ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ انہیں فوج کو سہارا دینے کے لیے بناگیا تھا تاکہ غیر معمولی زمینی حقائق سے نمٹہ جاسکے۔
رپورٹ میں ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ فوج کا فاٹا اور پاٹا میں عسکریت پسندوں سے چھڑائے گئے علاقوں میں رہنا ضروری ہے اس لیے انہیں اس حوالے سے باقاعدہ اجازت کی بھی ضرورت ہے جس اس ریگولیشن میں دی گئی ہے۔
اس میں کہا گیا کہ ریگولیشن فوج کی جانب سے قانون کے مطابق آپریشن کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔
رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ گرفتار کیے گئے افراد کو حراستی مراکز میں فاٹا\پاٹا ریگولیشن کے تحت منتقل کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اٹارنی جنرل عرفان قادر نے 24 جنوری کو پہلی مرتبہ اس بات کو تسلیم کیا تھا کہ اس ریگولیشن کے تحت 700 مبینہ دہشت گرد حراست میں ہیں۔
خفیہ اداروں کی اس رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ اگر حراستی مراکز میں قید دہشتگردوں کو رہا کیا گیا تو وہ پھر سے ریاست پر حملے کرینگے۔ ان دہشتگردوں کو خیبرپختونخواہ تک محدود رکھنا مشکل ہو جائے گا اور وہ لاہور، کراچی جیسے شہروں میں داخل ہو کر دہشتگردی کی نئی لہر شروع کر سکتے ہیں۔
رپورٹ کیمطابق حراستی مراکز میں ان دہشتگردوں کے لیے خصوصی پروگرام بھی جاری ہے تا کہ ان کی پاکستان اور اس کے آئین سے وفاداری کو بحال کیا جا سکے۔
عدالت نے رپورٹ پر درخواست گزار کے وکیل سے جواب طلب کر لیا جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری پاٹا اور سیکرٹری فاٹا نے بھی الگ الگ رپورٹس پیش کیں۔
بعد ازاں، کیس کی سماعت کل تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔