سکول ہوں تو ایسے
امریکہ کی ریاست الی نوائے کے شہر شکاگو کےنواحی علاقہ آرلنگٹن ہائیٹس کے تھامس مڈل اسکول میں ''نوعمر سرمایہ کار" طلباء کے ساتھ 13 مارچ 2013 کو ایک شام کا اہتمام کیا گیا تھا- اتفاق سے مجھے بھی اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا اور وہ اس طرح کہ میرا پوتا احد علی جعفری بھی اسی اسکول میں پڑھتا ہے اور وہ بھی ان "نوعمر سرمایہ کار" طلباء میں سے ایک تھا جنہیں اس پروجیکٹ کیلئے منتخب کیا گیا تھا-
ینگ انٹرپرنیور اکیڈمی ایک ادارہ ہے جو امریکی اسکولوں میں طلباء کی ذہنی، تخلیقی اور کاروباری صلاحیتوں کو پروا ن چڑھانے کیلئے کام کر رہا ہے، اس ادارے نے آرلنگٹن ہائٹس اسکول ڈسٹرکٹ 25 میں ایک پروجیکٹ 2012 کے اوائل میں شروع کیا تھا جس میں علاقے کے مختلف اسکولوں سے اس پروجیکٹ میں حصہ لینے کے خواہشمند طلباء سے درخواستیں طلب کی گئیں- جن طلباء نے درخواستیں دی تھیں ان کا انٹرویو کیا گیا اور ان میں سے سات طلباء کو پروجیکٹ کیلئے منتخب کیا گیا-
دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ ان ساتوں طلباء سے کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے والدین کی مدد سے اپنے لئے کوئی بزنس پلان منتخب کریں-
ان ساتوں طلباء کا تعلق چھٹی جماعت سے لیکر آٹھویں جماعت تک تھا جن کی عمریں 11 سال سے لیکر 14 سال تک تھیں- انہیں ہفتہ میں ایک دن اسکول ختم ہونے کے بعد تین گھنٹہ مزید ٹھہر کر اپنے پروجیکٹ پر کام کرنا تھا- ان ساتوں طلباء کوپانچ ٹیموں میں تقسیم کر دیا گیا- ان کی رہنمائی کیلئے ایک ایک نگران مقرر کئے گئے-
منصوبہ یہ تھا کہ جب بزنس پلان کی تفصیلات مکمل ہو جائینگی تو یہ طلباء سرمایہ کا روں کے سامنے انفرادی طور پر اپنے منصوبے پیش کرینگے- یہ سرمایہ کار چیمبر آف کامرس آرلنگٹن ہائٹس کی جانب سے مدعو کئے جائینگے جو اس منصوبے کو سنیں گے، اس پر طلباء سے سوالات کرینگے اور مطمئن ہونے کے بعد اتفاق رائے سے چیمبر آف کامرس کی جانب سے ان طلباء کو مالی امداد دی جائیگی تاکہ وہ اپنے اپنے منصوبوں کو مکمل کر سکیں-
اپریل 2014 میں ان منصوبوں کے درمیان ایک اور مقابلہ ہوگا اور کامیاب ہونے والے "بزنس مین" کو نیو یارک چیمبرآف کامرس کے سامنے پیش ہونا ہوگا- جہاں ملک کے دیگرطلباء کے ساتھ اس کا مقابلہ ہوگا-
اس شام جو بزنس منصوبے طلباء نے پیش کئے وہ یہ تھے؛
ایک تو بنکنگ سے متعلق تھا- جسے چھٹی جماعت کی طالبہ گریس ہیوبرٹی نے پیش کیا تھا- وہ ایک نرم کھلونا 'پگی بینک' بنائے گی جس میں بچے پیسے جمع کر سکتے ہیں- اس طرح بچوں میں بچت کی عادت پیدا ہوگی-
دوسرا منصوبہ کتابوں سے متعلق تھا "دی بُک لُک" یہ منصوبہ احد علی جعفری اور ان کے ساتھی شان ڈی گرازیا نے پیش کیا تھا- ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ایک ویب سائٹ بنائینگے جس پر کتابوں پر تبصرے پیش کئے جائینگے- ان کا کہنا تھا کہ یوں تو کتابوں کی بہت سی ویب سائٹس پہلے سے بھی کمپیوٹر پر موجود ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ یہ ویب سائٹ بچوں کی طرف سے بچوں کیلئے ہوگی-
"بڑے" اگر کسی کتاب کا نام تجویز کریں تو "بچے" اسے اتنی خوشی سے قبول نہیں کرتے لیکن ہم عمر لوگ اگر کسی کتا ب کو پڑھنے کا مشورہ دیں تو وہ زیادہ کارگر ہوسکتا ہے- یہ دونوں ساتویں اور چھٹی جماعت میں پڑھتے ہیں-
تیسرا منصوبہ چھٹی جماعت کی طالبہ وائیلٹ ساراڈن نے پیش کیا - یہ لنچ باکس کا منصوبہ تھا "لو یور لنچ" وائیلٹ سارا ڈن نے بتایا کہ یہ منصوبہ بچوں اور بڑوں دونوں میں مقبول ہوسکتا ہے کیونکہ لنچ تو سبھی کرتے ہیں-
چوتھا منصوبہ تھا "لالی پاپ کے رییپر"- آج کل تو ہر شئے کو"انفرادی رنگ" دینے کا رجحان ہے- تو اپنے اپنے لالی پاپ کا ریپر خود ڈیزائن کیجئے- ہماری کمپنی آپ کی خواہش پوری کریگی یہ منصوبہ نیال مکنالی کا تھا-
پانچواں منصوبہ تھا گھروں کے اندرچھوٹے چھوٹے کاموں کی مرمت اور ڈیزائننگ سے متعلق جسے آٹھویں جماعت کے دو طالب علموں نے پیش کیا تھا - کولن راکفورڈ اور میٹان مووال آٹھویں جماعت کے طالب علم ہیں-
یہ پانچوں منصوبے چیمبر آف کامرس کے ایک پینل کے سامنے پیش کئے گئے جو سات افراد پر مشتمل تھا- ان میں سے کم از کم چار چیمبر آف کامرس کے ڈائرکٹرز یا پریذیڈنٹ رہ چکے ہیں اور باقی کا تعلق بھی یہاں کی مشہور و معروف کمپنیوں سے ہے-
پینل نے سارے منصوبوں کو غور سے سنا، ان کی بزنس اسٹریٹجیز کے بارے میں طلباء سے سوالات کئے اور انھیں مشورے بھی دئے- آخر میں ایک بند کمرے میں پینل نے میٹنگ کی اور اتفاق رائے سے ان تمام منصوبوں کیلئے مالی امداد دینے کا اعلان کیا گیا جو ڈھائی سو ڈالرز سے لیکر پانچ سو ڈالرز کے درمیان تھا-
پینل نے" فزی پگی بینکس" کا منصوبہ پیش کرنے والی گریس ہیوبرٹی کو نیو یارک چیمبر آف کامرس میں نمائندگی کیلئے منتخب کر لیا جہاں اسکا مقابلہ امریکہ کی دیگر ریاستوں سے منتخب ہونے والے طلباء سے ہوگا-
قابل تحسین بات جو دیکھنے میں آئی وہ ان "نو عمر" سرمایہ کاروں کا اعتماد تھا- ذرا سوچئے چیمبر آف کامرس کے تجربہ کار صدر اور ڈائرکٹرز وغیرہ اور انکا سامنا کررہے ہیں گیارہ سے لیکر چودہ سال تک کے بچے-
جو بات مجھے پسند آئی وہ یہاں کا ماحول تھا اس پروگرام کے سارے منتظمین، نگران اور پینل کے افراد نہ صرف اپنے "نو عمر" سرمایہ کاروں سے بلکہ ہال میں موجود سامعین سے گھل مل گئے- پینل کے ایک رکن نے غیر رسمی گفتگو کے دوران کہا - ہم جس زمانے میں پڑھا کرتے تھے ہم سے کہا جاتا تھا کہ پڑھو تاکہ ملازمت حاصل کرسکو - آج ہم کہتے ہیں پڑھو تاکہ ملازمتیں دے سکو -
آخر میں کچھ ذکر یہاں کے تعلیمی نظام کا- امریکہ میں سارے اسکول سرکآ ری اسکول ہیں جو پبلک اسکول کہلاتے ہیں نجی اسکولوں کی تعداد بہت کم ہے-
پبلک اسکولوں کی سالانہ فیس تقریبا ڈیڑھ سو ڈالرز ہے یعنی ہر مہینہ 13 ڈالرز سے بھی کم- اس میں اسکول کی بس کی فیس بھی شامل ہے جو بچوں کو انکے گھروں کے قریب واقع بس سٹاپ سے اٹھاتی اور وہیں چھوڑتی بھی ہے -
کتابیں اسکول کی جانب سے مفت فراہم کی جاتی ہیں جو تعلیمی سال کے ختم ہونے پر واپس لے لی جاتی ہیں- بلکہ اب تو انٹرنیٹ پر بھی کتابیں فراہم کی جا تی ہیں- کاپیاں البتہ خود خریدنی ہوتی ہیں-
ہر بچے کا اپنا لاکر ہوتا ہے جس میں وہ اپنا سامان رکھتا ہے- ہر اسکول میں جمنازیم اور لائبریری کا ہونا لازمی ہے. آڈیٹوریم بھی ہوتا ہے جہاں مختلف پروگرام پیش کئے جاتے ہیں-
یہاں یونیورسٹیوں اور کالجوں کی طرح اسکولوں کی بھی ریٹنگ ہوتی ہے- بچوں کو اس علاقے کے اسکولوں میں داخلہ ملتا ہے جہاں ان کی رہائیش ہے- اس لئے اکثر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ ایسے علاقے میں رہیں جہاں کے اسکولوں کی ریٹنگ اچھی ہے-
یہاں کے اسکولوں اور انکی سرگرمیوں کودیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم کی ان کے یہاں کتنی اہمیت ہے اور طلباء اور اساتذہ کے درمیان پیار ، محبت اور عزت کا رشتہ دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے-
تبصرے (1) بند ہیں