وقت سے بہت پہلے
اصغر خان کیس میں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے نے سیاسی حلقوں کے اندر اور باہر، پاکستان میں سول - فوجی تعلقات کی از سر نو تشکیل کے بارے میں خاصی بڑی بحث کو جنم دیا ہے .
میرا مقصد اس فیصلے کی اہمیت کو گھٹانا نھیں ہے اگرچہ کہ فیصلہ کرنے میں خاصا وقت لگا - البتہ ریکارڈ پر یہ بات لانا ضروری ہے کہ بہت سے جنرلوں کے نام اس سے پہلے بھی داغدار ہو چکے ہیں.
اس کے باوجود فوج کے ادارے پر کبھی آنچ نہ آسکی- مختصرا یہ کہ اس پاک سرزمین میں فوج کی بالادستی کو مطلقا چیلنج کرنے کے لئے ابھی بہت کچھ تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے .
میرا خیال ہے کہ اس مسئله کی اصل جڑ فوجی اقتدار کا معاشرتی ڈھانچہ ہے- اس سے میری مراد یہ ہے کہ ملک میں فوجی بالادستی کی ماہیت کو سمجھنے کے لئے نہ صرف براہ راست یا با الواسطۂ مروجہ سیاست کے دایره میں بلکہ معیشت اور معاشرت کے ڈھانچے میں بھی اس کے اثرو رسوخ کو سمجھنے کی ضرورت ہے.
عملا اقتدار کی یہ شکلیں آپس میں ایک دوسرے سے گہرے طور پر مربوط ہیں.
پاکستان کی سیاست میں فوج کے سیاسی غلبے کی کہانی کی ابتدا اس منفرد سماجی روابط کے ڈھانچے سے ہوتی ہے جس پر پنجاب میں نو آبادیاتی نظام کے تحت عمل درآمد ہو رہا تھا.
راج کے دور کے مورخین میں اب اس بات پر اتفاق راۓ موجود ہے کہ راج کے دور اقتدار کے اواخر میں بر صغیرکے ذخیرہ اجناس کے طور پر اور برطانوی ہند کی فوج کے ایک اہم علاقے کی حثییت سے پنجاب کو نمایاں مقام حاصل تھا- پوٹوہار پلیٹو کا علاقه فوجی بھرتی کا اہم مرکز تھا جبکہ دیہی علاقوں میں پھیلے ہوے کنٹونمنٹس نے مذکورہ علاقوں کے سماجی اور معاشی منظرنامے کو تبدیل کر دیا تھا .
کاشتکاروں کی وسیع اکثریت فیصلہ کن طور پر --------- کم ازکم وہ کاشتکار جو زمینوں کے مالک تھے -------- اس" فوجی طرز" کے ترقیاتی ماڈل میں برضاورغبت تعاون کر رہی تھی .
حقیقت تو یہ ہے کہ بہت سے زرعی گھرانے یا تو فوج میں اپنے جوانوں کو بھرتی کر رہے تھے یا خود فوج سے ریٹایر ہونے والے افراد کو صوبہ کے مختلف حصوں میں (بلکہ بالائی سندھ کے سیراب شدہ میدانوں میں بھی) زرعی قطعات دئے جا رہے تھے .
آج پنجاب میں جس علاقه کو سرائکی بیلٹ کہا جاتا ہے اسے سیاسی معیشت اور ثقافتی، دونوں ہی اعتبار سےنمایاں حثییت حاصل تھی- گو ہرعلاقے میں پھیلے ہوۓ کنٹونمنٹس اور اراضی کی تقسیم کے اثرات آج بھی محسوس کئے جا رہے ہیں.
نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی پنجابی معاشرے کے ایک وسیع حصے اور فوج کے درمیان علامتی روابط تقریبا اسی صورت میں آج بھی قایم ہیں.
گو کہ نو آبادیاتی دور کی ساری مدت کےدوران طبقاتی، برادری اور دیگر سماجی تنازعے متواتر جاری رہے اور برطانوی حکومت کے اختتام کے بعد سرمایہ داری کے ارتقا نے نہ صرف ان تنازعوں میں شدّت پیدا کر دی بلکہ بہت سے اندرونی تنازعات بھی ابھر کر سامنے آنے لگے-
مثلا موجودہ ماحول میں اس بات کو فراموش کر دینا آسان ہے کہ جس عوامی تحریک کے نتیجے میں پی پی پی 1970 میں بر سر اقتدار آئ وہ پنجاب کا عین یہی علاقه تھا-
نچلے طبقے اور ابھرتے ہوۓ متوسط طبقے، دونوں ہی نے یکساں طور پر اپنے لئے معاشی امکانات اور سیاسی نمایندگی کا مطالبہ کیا- تاہم، پنجاب کا" فوجی ذہن"انتہا پسندی کی قدرے طبقاتی سیاست کے ساتھ ساتھ قایم رہا.
ذوالفقارعلی بھٹو کے غلو آمیز قوم پرستی اور ہندوستان دشمنی کے نعرے مکمل طور پر ایک مخصوص رجحان کا نتیجہ نہ تھے، ان لوگوں کی بیشتر اکثریت جو برسہا برس سے پاکستان پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی ------- بشمول بھٹو ------ انھیں واضح طور پر اس بات کا یقیں تھا کہ وہ اپنے مقصد کو " فوجی ذہن" کے پنجاب کی مرضی کے بغیر حاصل نہیں کر سکتے-
بالائی پنجاب اور وسطی پنجاب کے علاقے آج بھی فوجی اقتدار کا مرکز ہیں- یہاں اگرچہ زبردست تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں فوج کو آج بھی زندگی کے تمام شعبوں پر برتری حاصل ہے
یہ استدلال پیش کیا جا سکتا ہے کہ بالادستی کی مخالفت کرنے والے رجحانات کو دبانا اب اتنا آسان نہیں رہا جتنا ماضی میں تھا- یہ بات اس لئے بھی درست نظر آتی ہے کہ فوجی زیادتیوں کے معروضی حقایق سے آج پنجابی معاشرے کا وسیع حصه واقف ہو چکا ہے- تاہم، اب بھی ایک مضبوط حلقه ایسا موجود ہے جسے اس ادارے اور براۓ نام نجی - فوجی کمپنیوں کی نفرت انگیز منافع خوری کی ذہنیت سے کوئی شکایت نہیں ہے.
بحریہ ٹاون اور عسکری ہاوسنگ اسکیم میں زمینوں کے خریدنے میں غیر سیاسی متوسط طبقے کی مادی دلچسپی کا سبب ان کا کسی حد تک یہ یقین بھی ہے کہ سیاستدانوں کے برعکس فوجی اپنے امور کو بہتر طور پرنمٹا سکتے ہیں - یہی وجہ ہے کہ، فوجی قوت میں یقین کرنے کی روایت جو ایک طویل عرصے سے چلی آرہی ہے از سر نو جڑ پکڑ رہی ہے - بعض مبصرین کا یہ خیال تھا کہ مشرف کی آمریت کے خلاف وکیلوں کی تحریک متوسط طبقے کے سیاسی رجحانات میں زبردست تبدیلی کا سبب بنی .
تاہم اس سیاسی حد بندی کی دوسری جانب کھڑے کم و بیش اتنے ہی لوگ اس بات پر مصر تھے کہ اس تحریک نے نہ تو پاکستان کے اندر بالائی اور وسطی پنجاب کے تاریخی غلبے کو چیلنج کیا ہے اور نہ ہی یہ "فوجیائی" بیلٹ کے غیر سیاسی ذہنی رویہ میں تبدیلی کو ظاھرکرتا ہے .
چار سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اب یہ بات کافی حد تک واضح ہو گئی ہے کہ پنجابی معاشرے کے بعض حصوں اور " اسٹیبلشمنٹ " کے درمیان گہرے معاشرتی روابط --------- جس میں صرف فوج ہی شامل نہیں ہے -------- آج بھی اسی طرح قائم ہیں.
مثلا پنجاب کے مرکزی علاقوں میں آج بھی کوئی عوامی تحریک ایسی نہیں چل رہی ہے جو بلوچ عوام کے خلاف ریاستی جبر کو ختم کرنے کا مطالبہ کرے- ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ جس عوامی محرک سے متاثر ہوئی ہے اس کا تعلق خاص طور پر پنجاب سے تھا وغیرہ وغیرہ .
یہ سب کچھ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جہاں پاکستان میں اقتدار کا موجودہ ڈھانچہ ٹوٹ رہا ہے جس کی وجہ اندرونی تضادات ہیں، بالادستی کی جنگ ابھی جیتی جانی ہے- چونکہ اس قسم کی جنگیں ریاست میں نہیں بلکہ معاشرے کی حدود میں لڑی جاتی ہیں ( دونوں کے درمیان ایک واضح تقسیم موجود ہے ) .
بلا شبہہ یہ حقیقت کہ خود ریاست کے اندر ایک ارتعاش برپا ہے جو ان بیشمار دانشوروں ، مصنفوں ، سیاسی کارکنوں ، فنکاروں، ٹریڈ یونین لیڈروں، استادوں وغیرہ کی طویل اور لاحاصل جد و جہد سے ظاہر ہے جو اس ملک کے قیام بلکہ پہلے سے "فوجی" ترقی کی من گھڑت خرافات کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں.
ان ترقی پسندوں نے ماضی میں پاکستان اور اس کی ترقی کا ایک واضح تصور پیش کیا تھا جو جامع ، منصفانۂ اور قابل عمل تھا اور آج بھی ہے.
یہی وہ تصور اور اس کے حصول کی جدوجہد ہے جو ایک صحت مند اور جمہوری معاشرے میں فوج کے کردار کے تعلق سے ایک نئی متفقہ راۓ کی تشکیل کا موقع فراہم کرتی ہے .
تاہم آج بھی بلوچستان کے نالوں میں مسخ شدہ لاشیں پھینکی جا رہی ہیں، میڈیا کے لوگ آج بھی تحفظ اسلام اور پاکستان کی خودمختاری کو کمزور کرنے کی سازشوں کو منکشف کرنے کی پرانی ڈگر پر چل رہے ہیں اور آج بھی سویلین لوگوں کی خاصی بڑی تعداد موجود ہے جو ملٹری کارپوریٹ امپائر کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہے.
پاکستان کے خدو خال کو تبدیل کرنے کی جدو جہد جاری ہے- ہمیں چاہئے کہ ہم قبل از وقت شوروغوغا بلند نہ کریں بلکہ اس بات کو سمجھیں کہ ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے- جو کام ہمارا ہے وہ ہمیں ہی کرنا ہوگا. اسے جج صاحبان یا دوسرے ریاستی اہلکار انجام نہیں دے سکتے.
اس مضمون کے مصنف قائد آعظم یونیورسٹی اسلام آباد میں پڑھاتے ہیں
ترجمہ: سیدہ صالحہ