محمد آصف برطانوی جیل سے رہا

لندن: اسپاٹ فکسنگ میں ملوث پاکستانی فاسٹ باولر محمد آصف کو چھہ ماہ سزا پوری ہونے کے بعد آج برطانوی جیل سے رہا کردیا گیا۔
تیس سالہ آصف کو لندن کی ایک عدالت نے گزشتہ سال نومبر میں ایک سال قید کی سزا سنائی تھی لیکن انہیں آدھی سزا پوری ہونے کے بعد آج کینٹربری جیل سے رہا کر دیا گیا۔ وہ دن اور رات شمار ہونے کی وجہ سے چھ ماہ قید میں رہے۔
آصف رہائی کے بعد اپنے اوپر عائد الزامات کے خلاف اپیل کرنے کا اردہ رکھتے ہیں۔
ان کے وکیل روی سکل کے مطابق وہ برطانیہ میں قیام کی مدت میں اضافے کے لئے محکمہ داخلہ میں درخواست دائر کریں گے۔
سکل کا کہنا ہے کہ برطانوی قوانین کے مطابق ایک سال سے کم عرصے تک جیل میں رہنے والے مجرم کو ملک بدر نہیں کیاجاسکتا اور دو ماہ کے اندر وہ اپنے موکل کی جانب سے کورٹ آف اپیل میں فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پراسکیوشن پہلے اس بات کا تعین کرے گی کہ اپیل جائز ہے کہ نہیں جس کے بعد کیس کی سماعت ہوگی۔
آصف کو2010 میں انگلینڈ کے خلاف لارڈز ٹیسٹ میں جان بوجھ کر نو بالز پھینکنے پر برطانوی عدالت نےایک سال قید کی سزا ہوئی تھی۔
عدالت نے آصف کے ساتھ ساتھ محمد عامر اور اس وقت کے کپتان سلمان بٹ کو بھی سپاٹ فکسنگ میں ملوث ہونے پر سزا سنائی تھی۔
محمد عامر گزشتہ فروری میں تین ماہ کی سزا کے بعد واپس پاکستان آ چکے ہیں جبکہ سلمان بٹ ابھی تک جیل میں ہیں۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بھی ان تینوں کھلاڑیوں کے کم از کم پانچ سال تک کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے تاہم ان کو اس فیصلے کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی ایک عدالت میں اپیل دائر کرنے کا حق ہے۔
پنجاب کے شہر شیخو پورہ میں پیدا ہونےوالے آصف نے اپنے ٹیسٹ کیریر کاآغاز 2005 میں آسٹریلیا کےخلاف سڈنی میں کیا۔
اب تک انہوں نے تئیس ٹیسٹ میچوں میں 106 جبکہ 38 ایک روزہ میچوں میں 46 وکٹیں حاصل کیں ۔
انہوں نے گیارہ ٹی ٹونٹی میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ انڈین پریمئر لیگ میں دہلی ڈیرڈیویلز کی بھی نمائندگی کی۔