برطانیہ سے پاکستانی طلبہ کی بے دخلی کا خدشہ
برطانیہ کی سرحدی ایجنسی نے لندن کی ایک یونیورسٹی کا غیر ملکی طلبہ کو داخلہ اور تعلیم دینے کا لائسنس منسوخ کردیا ہے، جس کے بعد پاکستانیوں سمیت ہزاروں طلبہ کی بے دخلی کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
لائسنس کی منسوخی کے بعد لندن میٹروپولیٹن یونیورسٹی اب یورپیئن یونین کے باہر طلبہ کو سپانسر کرنے اور ویزوں کی منظوری دینے کی مجاز نہیں رہے گی۔
یہ یونیورسٹی برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کے حوالے سے پاکستان میں بے حد مشہور ہے۔ پاکستانی طلبہ میں اس کی شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں کے موقر روزناموں میں اس یونیوسٹی کے اشتہارات وفتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔
یونیورسٹی کے غیر ملکی طلبہ کے پاس بے دخلی سے بچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ دو ماہ سے پہلے کسی متبادل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیں۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق اس فیصلے سے تیس ہزار طلبہ متاثر ہوں گے۔ یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔
یونیورسٹی نے بدھ کے روز اپنی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام دور رس نتائج کا حامل ہو گا ۔ یونیورسٹی نے طلبا کو اپنی بنیادی ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس حوالے سے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کریں گے۔
دوسری جانب، انگلینڈ کی ہائر ایجوکیشن فنڈنگ کونسل کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا دیگر برطانوی جامعات کے موجودہ اور آنے والے غیر ملکی طلباء پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔