افغانستان: خودکش حملوں، فائرنگ سے 50 افراد ہلاک
ہیرات: افغانستان میں خودکش حملوں اور دھماکوں میں ایک دن میں پچاس افراد ہلاک اور تقریباً سو سے زائد زخمی ہوگئے۔
منگل کا دن افغان شہریوں کیلیے بدترین ثابت ہوا جب چودہ خود کش بمباروں کے شہر پر حملے اور پھر شہر کی مصروف ترین مارکیٹ میں موٹر سائیکل میں نصب بم پھٹنے اور پچاس افراد ہلاک ہو گئے۔
پہلا حملہ ایرانی سرحد کے ساتھ واقع افغانستان کے جنوبی مغربی صوبے نمروز کے دارالحکومت میں ہوا جس میں تین خودکش حملوں میں پینتیس افراد ہلاک اور چھیاسٹھ سے زائد زخمی ہوگئے۔
صوبائی پولیس چیف موسیٰ رسولی نے بتایا کہ صوبے زارنج کے دارالحکومت نمروز میں خود کش جیکٹ پہنے متعدد افراد نے شہر کے مختلف علاقوں میں خود کو اڑا لیا جس کے نتیجے میں گیارہ اہلکار اور پچیس شہری ہلاک ہوگئے۔
ایک گھنٹے بعد شمالی صوبے قندوز میں تاجکستان کی سرحد کے ساتھ ضلع بدخشن میں موٹر کے ساتھ نصب بم پھٹنے سے دس افراد ہلاک ہو گئے۔
سرکاری ذرائع عبدالمعروف راسخ نے اے ایف پی کو بتایا کہ شمال مشرقی صوبے بدخشاں میں گھات لگائے مسلح افراد نے صوبائی دارالحکومت کی طرف جانے والے ضلعی پولیس چیف اور چار سیکیورٹی آفیشلز کو فائرنگ کر کے قتل کردیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی نے بھی حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی تاہم اس طرح کے حملے عام طور پر طالبان شدت پسند کرتے ہیں تاکہ صدر حامد کرزئی کی حکومت کو ہٹایا جا سکے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گیارہ افراد پر مشتمل خودکش بمباروں کے گروپ میں سے تین نے شہر کے مختلف علاقوں میں خود کو اڑا لیا جبکہ ایک حملہ اسپتال کے باہر کیا گیا۔
صوبے کے ڈپٹی پولیس چیف مجیب اللہ لطیفی نے اے ایف پی کو بتایا کہ گیارہ افراد پر مشتمل یہ گروپ شہر کے مختلف علاقوں میں حملے کرنا چاہتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب سیکیورٹی فورسز نے ان میں دو افراد کو ہلاک کردیا جبکہ تین کو آج صبح نشانہ بنایا تھا، تین نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ بقیہ تینوں بمبار مارے گئے تھے۔