• KHI: Fajr 5:10am Sunrise 6:27am
  • LHR: Fajr 4:33am Sunrise 5:55am
  • ISB: Fajr 4:35am Sunrise 6:00am
  • KHI: Fajr 5:10am Sunrise 6:27am
  • LHR: Fajr 4:33am Sunrise 5:55am
  • ISB: Fajr 4:35am Sunrise 6:00am

عاشورہ جلوسوں کا اختتام، موبائل سروس بحال

کراچی میں نو محرم کو نشترپارک سے برآمد ہونے والے جلوس کا ایک منظر—فوٹو اے ایف پی۔
کراچی میں نو محرم کو نشترپارک سے برآمد ہونے والے جلوس کا ایک منظر—فوٹو اے ایف پی۔

کراچی: ملک بھر میں یومِ عاشور کے موقع پر جلوس اختتام کو پہنچ گئے ہیں جبکہ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے بند کی گئی موبائل فون سروس بحال ہو گئی ہیں۔

پاکستان بھر میں آج دس محرم الحرام عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جبکہ اس موقع پر ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں ماتمی جلوس کے نکالے گئے جو جن اپنی منزل پر پہنچ کر اختتام پر پذیر ہو چکے ہیں۔

ان چلوسوں کی حفاظت کے لیے ملک بھر میں سیکیورٹی کے خصوصی اور غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ جبکہ جلوس کے راستوں پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری رہی۔

چھوٹے بڑے شہروں کے جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتے ہوئے امام بارگاہوں پر پہنچے  جہاں شامِ غریباں کے تحت بیانات قافلہ حسینی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔

پاکستان کے کونے کونے میں ذولجناح ، تعزیئے بھی ان جلوسوں میں شامل ہیں اور شیعہ مسلمانوں کی بڑی تعداد شہدائے کربلا کو نذرانہ عقیدت پیش کررہی ہے۔

کراچی میں سب سے بڑا جلوس آج صبح نشتر پارک سے برآمد ہوا جس کے ساتھ دیگر جلوس بھی شامل ہوتے گئے ۔

 عزاداروں نے راستے میں ہی نماز پڑھی اوریہ جلوس امام بارگاہ حسینیہ ایرانیاں کھارادر پر اختتام پذیر ہوا جبکہ لاہور میں بھی کربلا گامے شاہ پر مرکزی جلوس اختتام پذیر پوا۔

اس کے علاوہ کوئٹہ سے مرکزی جلوس علمدار روڈ سے برآمد ہوا اور کراچی کی طرح یہاں بھی سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔

فوج، پولیس ، رینجرز اور دیگر نیم فوجی اداروں کی بھاری نفری کو حساس مقامات پر تعین کیا گیا ہے۔ خصوصاً کوئٹہ، ڈیرہ غازی خان، کوہاٹ، ہنگو، جھنگ اور بہاولپور میں سیکیورٹی کو انتہائی سخت رکھا گیا ہے۔

اس سال خصوصی حفاظتی اقدامات یوں بھی کئے گئے ہیں کہ حال ہی میں امریکی ڈرون حملے میں تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی ) کے چیف ہلاک ہوئے تھے اور اس کے بعد کالعدم تنظیم نے ملک بھر میں حملے کرنے کی دھمکی دی تھی۔

 اس کے علاوہ کل کراچی میں لشکرِ جھنگوی کے چھ کارکن مارے گئے تھے اور اس کالعدم گروہ کی جانب سے بھی انتقامی کارروائیوں کا خدشہ موجودتھا۔

نو اور دس محرم کو کئی شہروں میں موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کر دی گئی تھی جبکہ سندھ میں اس پابندی میں مزید دو دن کی توسیع کر دی گئی ہے۔

بڑے شہروں میں جلوس کے راستوں پر کیمرے نصب کئے گئے ہیں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ان کی فضائی نگرانی بھی جاری رہی۔

جلوسوں کی راستوں  میں پانی کے اسٹال لگائے گئےتھے اور ابتدائی طبی امداد کی سہولت موجود تھی۔

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر روالپنڈی میں بھی سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

کراچی میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم اور ڈی جی رینجرز میجر جنرل رضوان اختر نے مرکزی جلوس کا دورہ کیا اور سیکیورٹی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا۔

کارٹون

کارٹون : 28 مارچ 2025
کارٹون : 27 مارچ 2025