دنیا کے مسلمان بنیادی عقائد پر متفق
واشنگٹن: دنیا بھر میں آباد ایک ارب60 کروڑ سے زائد مسلمان اپنے خدا کی توحید اور رسول کی رسالت سمیت اپنے بڑے مذہبی اصولوں پر متفق ہیں تاہم مذہبی برداشت کے حوالے سے ان کی رائے بہت مختلف ہے۔ یہ بات جمعرات کو شائع ہونے والے ایک سروے میں کہی گئی ہے۔ پیو ریسرچ سنٹر کی نئی جائزہ رپورٹ کے بڑے مصنف جیمز بیل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ”مسلمان بنیادی عقائد اور اپنی مذہبی عبادات کے حوالے سے متفق ہیں جن میں خدا کی توحید، نبی کریم کی رسالت اور رمضان المبارک میں روزے شامل ہیں لیکن مذہبی تشریحات کے حوالے سے ان میں کافی اختلافات پائے جاتے ہیں“ ۔ بیل نے کہا کہ یہ انتہائی اہم رپورٹ دنیا کی مسلمان آبادی کے67 فیصد رقبے پر پھیلے ہوئے 39 ملکوں میں 80 سے زائد زبانوں میں سروے کے بعد تیار کی گئی ہے۔ اس سروے میں سال 09۔2008 اور 12۔2011 کے دوران 38 ہزار سے زائد افراد کے انٹرویو کیے گئے۔ یہ سروے عالمی مذاہب میں تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ سروے میں کہا گیا ہے کہ 85 سے 100 فیصد مسلمان خدا اور اپنے نبی پر یقین رکھتے ہیں۔ جنوبی افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا میں 10میں سے 8 افراد نے مذہب کو ”انتہائی اہم“ قرار دیا، لیکن مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 10 میں سے6 افراد نے اس سے اتفاق کیا۔ روس اور کچھ وسطی ایشیائی ریاستوں میں یہ تعداد 2 میں سے ایک رہی ہے ۔ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 35 سال سے زائد عمر کے مسلمان نوجوانوں زیادہ مذہبی رجحان رکھتے ہیں لیکن روس میں یہ شرح اس سے متضاد ہے۔ انتالیس ممالک کے سروے کے دوران خواتین کے مقابلے میں مردوں کی اکثریت مسجد میں جاتے ہوئے دیکھی گئی جو سماجی ثقافت کا حصہ ہو سکتی ہے کیونکہ خواتین سرعام عبادت نہیں کرنا چاہتیں۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اکثر ممالک کے مردوں کی طرح خواتین نے بھی روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کی حمایت کی۔ مسلمانوں کی 63 فیصد آبادی والے ملکوں میں لوگوں کی رائے تھی کہ اسلام کی تشریح کا صرف ایک ہی طریقہ ہے لیکن امریکی مسلمانوں کی 37 صرف فیصد تعداد نے اس موقف سے اتفاق کیا۔ لبنان اور عراق جیسے ملکوں میں جہاں سنی اور شیعہ ساتھ ساتھ رہتے ہیں ان کے لوگ ایک دوسرے کو قبول کرتے ہیں۔ سروے کے دوران ایک تہائی لوگوں نے اپنا تعارف شیعہ سنی کی بجائے صرف مسلمان کی حیثیت سے کرایا۔ دس میں سے 9 مسلمان پیدائشی طور پر مذہبی تھے۔
مذہب کی تبدیلی کی شرح سب سے زیادہ سابق کمیونسٹ ملکوں میں دیکھی گئی جو 7 فیصد تک رہی اور ان کی اکثریت ملحدین پر مشتمل تھی جو پہلے خدا کے وجود کا انکار کرتے تھے۔ بیل نے کہا ” ان لوگوں کے مذہب کی تبدیلی کے باوجود دنیا بھر میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں بڑھ رہی“۔
پیو ادارے کا کہنا ہے کہ وہ جلد مسلمانوں کے سماجی اور سیاسی رویوں کے حوالے سے بھی ایک اور سروے بھی شائع کریگا۔
تبصرے (1) بند ہیں