غازی عبدالرشید قتل کیس میں مشرف کی ضمانت منظور
اسلام آباد: اسلام آباد میں متعلقہ عدالت نے سابق فوجی آمر اور صدر پرویز مشرف کو 2007 میں لال مسجد میں فوجی آپریشن کے دوران مسجد کے پیش امام غازی عبدالرشید کو قتل کرنے کے کیس میں ضمانت پر رہا کردیا ہے۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج واجد علی نے سابق فوجی حکمراں کو حکم دیا کہ وہ ضمانت کے طور پر ایک ایک لاکھ کے دو مچلکے جمع کرائیں۔
پیر کے روز ان کی ضمانت ہونے کے بعد ان کے وکیل نے رپورٹروں اس متعلق بتایا ۔
واضح رہے کہ عبدالرشید غازی کو 2007 میں لال مسجد کے ایک فوجی آپریشن میں ہلاک کردیا گیا تھا۔
اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سابق صدر مشرف پر تقریباً ان تمام مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے جو ان پر خود ساختہ جلا وطنی کے بعد ملک واپس آنے پر قائم کئے گئے تھے۔ ان میں بلوچستان کے بزرگ سیاسی رہنما نواب اکبر خان بگٹی قتل کیس اور سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس بھی شامل ہے۔
لیکن ضمانت کے باوجود 70 سالہ پرویز مشرف کو اسلام آباد کی نواح میں ان کے فارم ہاؤس میں گارڈز کی بھاری نفری کے ساتھ نظر بند رکھا جائے گا ۔ وہ اس سال اپریل سے ہی یہاں مقیم ہیں کیونکہ مشرف کو قتل کی کئی دھمکیاں مل چکی ہیں۔
ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں بھی شامل ہے اور وہ ملک سے باہر نہیں جاسکتے۔
مشرف کو دس اکتوبر کو دوبارہ گرفتار کیا گیا تھا۔ عبدالرشید غازی کے بیٹے ہارون رشید کی جانب سے راولپنڈی میں آب پارہ پولیس کی جانب سے اپنے والد کے قتل کی رپورٹ پرویز مشرف کیخلاف درج کرائی تھی اور اس کے بعد یہ گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ ان کی گرفتاری سے ایک روز قبل ہی انہیں ان پر درج آخری تین مقدمات میں مشرف کو ضمانت ہوئی تھی۔
فوج کے سابق کمانڈو اس سال مارچ میں پاکستان واپس آئے تھے اور وہ عام انتخابات میں حصہ لے کر ملک کو ' بچانے' کے خواہشمند تھے۔
لیکن انہیں انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا جبکہ سابق وزیرِ اعظم نواز شریف جنہیں مشرف نے 1999 میں حکومت سے بے دخل کردیا تھا دوبارہ اقتدار میں آئے تھے۔
تبصرے (1) بند ہیں