• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm

ہر گھر میں قبریں

شائع October 28, 2013

چکر نگر گاؤں کے ایک گھر میں موجود قبر۔— تصویر بشکریہ دی انڈین ایکسپریس
چکر نگر گاؤں کے ایک گھر میں موجود قبر۔— تصویر بشکریہ دی انڈین ایکسپریس

سماج وادی پارٹی کی حکومت ریاست اتر پردیش میں قبرستانوں کی دیواروں کی تعمیر کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے پر خود کو شاباشی دیتی رہتی ہے لیکن پارٹی کے مرکزی رہنما ملائم سنگھ یادو کے آبائی ضلع ایتاوہ میں مسلمانوں کے پاس قبروں کے لیے جگہ ہی نہیں ہے۔

بار ہا درخواستوں کے باوجود مسلمانوں کو ایک قبرستان کے لیے جگہ مختص نہیں کی جا رہی جس کے بعد یہ برادری مُردوں کو اپنے گھروں کے کمروں اور صحن وغیرہ میں دفنانے پر مجبور ہو چکی ہے۔

ایتاوہ سے پینتیس کلو میٹر دور چکر نگر گاؤں کے تاکیہ محلہ میں رہنے والے تمام مسلمان کھیت مزدور اور ہاری ہیں۔

یہاں ہر گھر میں ہی کئی کئی قبریں موجود ہیں، جن پر بڑے تو بطور احترام پاؤں نہیں رکھتے لیکن بچے ان پرکھیلتے نظر آتے ہیں۔

ایتاوہ کے ڈی ایم پی گرو پراساد کہتے ہیں کہ وہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں۔ 'ہم نے یہاں سے دو کلومیٹر دور چاندنی گاؤں میں قبرستان کے لیے ایک زمین دیکھی ہے، لیکن یہ لوگ اسے قبول نہیں کر رہے'۔

تاکیہ میں رہنے والے صلاح احمد کے ایک کمرے پر مشتمل گھر میں تین قبریں ہیں۔ احمد نے بتایا کہ ان کی والدہ، بھائی اور دادا یہاں دفن ہیں۔

ان کے گھر سے کچھ فاصلے پر تین فٹ کے ایک چبوترے پرمزید دو قبریں بھی ہیں۔

احمد نے افسوس سے بتایا کہ ان کے لیے سب سے زیادہ شرمندگی کا باعث اپنی بیوی کو باہر سڑک پردفنانا تھا۔انہوں نے آہ بھرتے ہوئے کہا: میں اسے مرنے کے بعد بھی مناسب مقام نہ دے سکا۔

ایک شخص مختیار علی نے بتایا کہ چکرنگر میں پہلے مشکل سے مسلمانوں کے چھ گھر تھے۔

'ماضی میں یہاں بہت کھلی جگہ موجود تھی لیکن اب یہاں 250 کے قریب لوگ رہ رہے ہیں'۔

اسلم خان نے دکھ بھرے انداز میں بتایا کہ ان کے بچے بعض اوقات رات کو رونا شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کی قبر کے پہلو میں سو رہے ہیں۔

'ہم نے انتخابات کے دوران سیاسی رہنماوں کو اپنے مسئلے سے آگاہ کیا تھا، انہوں نے ہمیں قبرستان کے لیے جگہ دینے کا وعدہ بھی کیا۔ لیکن اب تک کچھ بھی نہیں ہوا'۔

احمد نے بتایا کہ وہ سب اس حوالے سے وزیر اعلٰی اکلیش یادو سے بھی ایک مرتبہ مل چکے ہیں۔

مسئلے سے نمٹنے کے لیے یہاں کے لوگوں نے عارضی قبریں بھی بنانا شروع کردی ہیں جنہیں بعد میں مسمار کر دیا جاتا ہے۔

بشکریہ: دی انڈین ایکسپریس

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025