بال ٹیمپرنگ کے بعد جنوبی افریقہ پر جُرمانہ، پروٹیز کی تردید
دبئی: پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز جنوبی افریقہ کی جانب سے بال ٹیمپرنگ کرنے پر جرمانے کے طور پر پانچ رنز پاکستان کو دیدیئے گئے ہیں۔
ٹی وی فوٹیج کے ریپلے میں دکھایا گیا ہے کہ جنوبی افریقہ کے فیلڈر فاف ڈیوپلسی نے بار بار گیند کو اپنی پینٹ پر رگڑا جس پر زپ تھی اور انہوں نے بظاہر بال ٹیمپرنگ کی ایک کوشش کی۔
اس کے بعد آسٹریلوی امپائر روڈ ٹکر اور انگلینڈ کے ایان گولڈ نے جنوبی افریقہ کے کپتان گرائم اسمتھ کو بلایا، گیند تبدیل کی اور پاکستانی اسکور میں پانچ رنز کا اضافہ کردیا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ نے اس کی تردید کی ہے۔
پاکستان اس وقت باسٹھ رنز بنا چکا تھا اور اس کے تین کھلاڑی آؤٹ ہوئے اور اس وقت اکتیسواں اوور شروع ہوا تھا جب امپائروں نے گیند کا نوٹس لیا اور اپنا فیصلہ سنایا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کے بال ٹیمپرنگ قانون 42.1 کے تحت اگر امپائر گیند کی پوزیشن اور حالت میں تبدیلی دیکھ لے اور اسے معلوم نہ ہو کہ یہ کس نے کیا ہے تو وہ پہلی اور آخری وارننگ کپتان کو دیتا اور گیند بھی تبدیل کرتا ہے۔
اگر دوبارہ گیند ٹیمپر کی جائے تو بولنگ کرانے والی ٹیم پر پانچ رنز کا جرمانہ ہوتا ہے، نہ صرف امپائر گیند تبدیل کرتا ہے اور اس کا ذمے دار کپتان کو قرار دیتے ہوئے رپورٹ کرتا ہے ۔
لیکن اس معاملے میں امپائروں نے فاف ڈیوپلسی نے گیند کو رگڑا جو بظاہر ٹیمپرنگ کا ایک عمل تھا اور اس واقعے کے تصدیق آئی سی سی کے ایک ترجمان نے بھی کی ہے۔
دوہزار چھ کے اوول ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم پر بھی ایسا ہی جرمانہ ہوا تھا ۔ اس وقت فیصلے کے خلاف کپتان انضمام الحق میدان سے واک آؤٹ کرگئے تھے۔ ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ ایک ٹیم نے کھیلنے سے انکار کردیا اور دوسری کو جیت دیدی گئی تھی۔
ہم نے کوئی چیٹنگ نہیں کی، اے بی ڈی ولیرز
اس واقعے پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے اے بی ڈی ولیرز نے کہا پروٹیئس دھوکے باز نہیں۔
' ایمانداری سے، ہم وہ ٹیم نہیں جو گیند کھرچیں،' انہوں نے کہا۔ ' ہم دھوکے بازی نہیں کرتے ۔ میں فیفی کو اچھی طرح جانتا ہوں، وہ ایسی چیز کرنے والا آخری شخص ہوگا۔ '
ڈی ولیرز نے کہا کہ فاف ڈیوپلسی ٹی ٹوینٹی میں کپتان تھے اور وہ گیند کی چمک اور اس کی حالت بہتر رکھنے کے ذمے دار تھے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ میں اس سے گزر چکا ہوں۔
جنوبی افریقہ کے وکٹ کیپر اور بیٹسمین نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ امپائروں نے کب اس کا انکشاف کیا۔ ' نہ کوئی بات ہوئی، کوئی وارننگ نہیں دی گئی۔'
ڈیو پلسی کو مختلف جرمانے بھی ہوسکتے ہیں جن میں میچ فیس کے پچاس سے سو فیصد تک جرمانے اور ایک ٹیسٹ یا دو ون ڈے میچ کھیلنے پر پابندی شامل ہے۔