• KHI: Fajr 5:05am Sunrise 6:22am
  • LHR: Fajr 4:26am Sunrise 5:49am
  • ISB: Fajr 4:28am Sunrise 5:53am
  • KHI: Fajr 5:05am Sunrise 6:22am
  • LHR: Fajr 4:26am Sunrise 5:49am
  • ISB: Fajr 4:28am Sunrise 5:53am

فیس بک نے سرقلم کرنے جیسی ویڈیو پر عائد پابندی ختم کردی

شائع October 22, 2013

فیس بک ۔ فائل تصویر
فیس بک ۔ فائل تصویر

لندن: فیس بک کو اب اس متنازعہ فیصلے پر آڑے ہاتھوں لیا جارہا ہے جس میں اس نے اپنے پلیٹ فارم پر سرقلم کرنے سمیت دیگر پرتشدد ویڈیوز پوسٹ کرنے پر عائد پابندی میں نرمی کی گئی ہے۔

اس سال مئی میں متنازعہ اور پرتشدد مناظر پر مبنی ویڈیو پوسٹ کرنے پر عوامی تنقید کے بعد فیس بک نے سرقلم کرنے اور اس جیسی دیگر ویڈیوز پر پابندی عائد کردی تھی۔

اس کے بعد فیس بک نے ان ویڈیوز کو ہٹادیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس طرح کے ویڈیوز پر اپنی پالیسی کا دوبارہ جائزہ لے گا۔

اب اس کمپنی نے پابندی میں نرمی برتتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سرقلم کرنے جیسی پرتشدد ویڈیوز پوسٹ کرنے کی اجازت دے رہے ہیں جس کا مقصد تشدد کی تشہیر نہیں بلکہ اس کے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے ۔

فیس بک یوزر شرائط میں یہ شامل ہے کہ وہ تصاویر کسی فرد یا گروہ پر تشدد کو بڑھاوا نہ دیتی ہوں۔

تاہم یہ کہا گیا ہے کہ ایسی ویڈیوز سے قبل انتباہی پیغام نمایاں انداز میں دکھایا جائے گا۔

یہ خبر پہلے بی بی سی پر نشر ہوئی تھی جس کے بعد عوام نے فیس بک اور ٹویٹر پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ فیس بک پر سر کاٹنے جیسی ویڈیو کی تشہیر ایک غیر ذمے دارانہ عمل ہے خصوصاً کسی وارننگ کے بغیر۔ انہیں ( فیس بک انتظامیہ کو) پریشان والدین کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔

فیس بک پر برہنہ مواد، پورنوگرافی اور منشیات جیسی آڈیو ویڈیو اور تصاویر پر پابندی ہے اور ان پر پابندی برقرار رہے گی لیکن فلٹرز کو جُل دینا بہت آسان ہوتا ہے۔

اس سے ایک اور مسئلہ بی زیرِ بحث آگیا ہے کہ آیا فیس بک ایک نیوز ویب سائٹ ہے یا پھر مختلف معلومات کا کوئی پلیٹ فارم ہے۔

فیس بک نے کہا ہے کہ اس کی پالیسیوں پر غور جاری رہتا ہے اور وہ اس پتھر پر لکیر نہ سمجھاجائے۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025