• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm

اجمل جنوبی افریقہ کیخلاف بہترین کارکردگی کیلیے پرعزم

شائع October 1, 2013

اسپنر سعید اجمل۔ فوٹو اے ایف پی

لاہور: پاکستان کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اسپن باؤلر سعید اجمل نے کہا ہے کہ انہوں نے 70 فیصد وکٹیں دوسرا کی بدولت ہی حاصل کی ہیں، وہ کوئی نئی ورائٹی متعارف نہیں کرا رہے بلکہ دوسرا پر ہی تمام توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جنوبی افریقہ لے خلاف سیریز کے لیے جاری قومی ٹیم کے تربیتی کیمپ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اسپنر نے رواں سال اپنی کارکردگی کا دفاع کیا اور کہا کہ وہ متحدہ عرب امارات میں ہونے والی دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ 'ساؤتھ افریقہ کے خلاف سیریز میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے مین آف دی سیریز کا ایوارڈ حاصل کرنے کی کوشش کروں گا'۔

دوسرا کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ دوسرا اب بھی موثر ہتھیار ہے اور میں نے 70 فیصد وکٹیں دوسرا سے ہی حاصل کی ہیں۔

ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر چار اور ایک روزہ میچز کی درجہ بندی میں تیسرے نمبر پر موجود عالمی شہرت یافتہ اسپنر نے کہا کہ ہم گزشتہ سال انگلینڈ کے خلاف کھیلی گئی سیریز جیسی کارکردگی دکھانے کی کوشش کریں گے۔

اسپنر کا کہنا تھا کہ 'یو اے ای کی کنڈیشنز پاکستانی ٹیم کے لئے موزوں ہیں جس طرح دنیا کی ٹاپ کی ٹیم انگلینڈ کے خلاف قومی ٹیم نے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا تھا اسی طرح کی کارکردگی ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کے خلاف بھی دہرائیں گے'۔

سعید اجمل نے یاد دہانی کراتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال جب ہم نے انگلینڈ کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی تو اس وقت بھی ہم چھٹے درجے پر فائض تھی اور اس وقت بھی ہماری عالمی رینکنگ میں چھٹی پوزیشن ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال متحدہ عرب امارات میں انگلینڈ کے خلاف تین میچوں کی سیریز میں اجمل نے 24 وکٹیں حاصل کی تھیں اور پاکستان نے اس وقت کی ورلڈ نمبر ایک ٹیم کے خلاف کلین سوئپ کیا تھا۔

تاہم رواں سال اجمل جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے خؒلاف اس درجے کی پرفارمنس دکھانے میں ناکام رہے اور پاکستان کو گزشتہ پانچ میں سے چار ٹیسٹ میچز میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی اسپنر نے جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان کی 3-0 سے شکست کے دوران صرف گیارہ وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں سے دس وکٹیں انہوں نے کیپ ٹاؤن ٹیسٹ میں لی تھیں۔

پھر گزشتہ ماہ زمبابوے جیسی نسبتاً کمزور ٹیم کے خلاف بھی پاکستان اسپنر کی کارکردگی کچھ خاص نہ تھی جہاں وہ پہلے ٹیسٹ میچ میں تو گیارہ وکٹیں لے کر پاکستان کو فتح سے پمکنار کرانے میں کامیاب رہے لیکن دوسرے ٹیسٹ میں اسپنر صرف تن ہی لے سکے اور پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم اسپنر نے اس کے باوجود اپنی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ میں گزشتہ پانچ میچوں میں 25 وکٹیں لی ہیں جن میں سے تین میچ جنوبی افریقہ گھاس والی وکٹوں پر کھیلے گئے تھے، ایسی کارکردگی کو کون خراب کہہ سکتا ہے؟۔

دائیں ہاتھ کے گیند باز نے کا کہنا تھا کہ زمبابوے کے خلاف ٹیسٹ میچز میں ہماری بیٹنگ اچھی نہیں تھی جس کی وجہ سے ہماری باؤلنگ پر دباؤ آگیا۔

انہوں نے کہا کہ میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں جنوبی افریقہ کے خلاف 20 یا 40 وکٹیں لوں گا لیکن میں سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز پانے کی ہرممکن کوشش کروں گا۔

سعید اجمل کا کہنا تھا کہ ہم نظریں جنوبی افریقہ سے بدلہ لینے پر مرکوز نہیں لیکن ہم دبئی کی اسپن وکٹوں پر انہیں چیلنج دے سکتے ہیں۔

'کرکٹ میں بدلہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن ہم انہیں اچھا جواب دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کافاسٹ باؤلنگ اسکواڈ اچھا ہے اور اسپنگ باؤلنگ میں میرے علاوہ عبدالرحمان بھی ہیں، پاکستان کی ٹیم دنیا کی کسی بھی ٹیم کو دو مرتبہ آؤٹ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب نوجوان بلے باز اسد شفیق نے کہا ہے کہ پچھلی سیریز میں میری پرفارمنس اچھی نہیں تھی لیکن امید ہے کہ ساؤتھ افریقہ کے خلاف اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ ساؤتھ افریقہ کی ٹیم ٹیسٹ کی عالمی درجہ بندی میں پہلے نمبر پر فائض ہے اور اس کے خلاف سیریز ٹف ہوگی۔

بلے باز نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں کنڈیشنز کافی مشکل تھیں جس کا فائدہ انہیں ملا اور اب یو اے ای کی کنڈیشنز ہمارے حق میں ہیں اور ہم بھی اسی طرح ساؤتھ افریقہ کی ٹیم کو مشکلات میں مبتلا کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد شفیق نے کہا کہ ٹیم میں ہر کھلاڑی ان آؤٹ ہوتا ہے، کپتان اور کوچ میچ کے حساب سے کھلاڑی کو موقع دیتے ہیں تاہم اگر ایک کھلاڑی کو مسلسل موقع دیا جائے تو اس کی پرفارمنس بہتر ہوتی ہے۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025