• KHI: Asr 5:03pm Maghrib 6:49pm
  • LHR: Asr 4:36pm Maghrib 6:23pm
  • ISB: Asr 4:41pm Maghrib 6:30pm
  • KHI: Asr 5:03pm Maghrib 6:49pm
  • LHR: Asr 4:36pm Maghrib 6:23pm
  • ISB: Asr 4:41pm Maghrib 6:30pm

پشاور میں ایک ہفتے کے دوران تیسرا دھماکہ، 41 ہلاک متعدد زخمی

شائع September 29, 2013

اے ایف پی فوٹو --.
اے ایف پی فوٹو --.

پشاور: پشاور کا شہر ایک ہفتے میں تیسری بار دہشتگردی کانشانہ بن گیا۔ گذشتہ اتوار کو ایک چرچ اور پھر جمعہ کوگل بیلہ میں ہونے والے خوفناک بم دھماکوں کے بعد دہشتگردوں نے پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار کانشانہ بنایا۔

اب تک ان دھماکوں میں41  افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں۔  ایک ایڈمنسٹریٹر افسر، صاحبزادہ محمد انیس نے تصدیق کی ہے کہ اب تک اس دھماکے میں سینتیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

دھماکے سے بازار کی کم ازکم آٹھ دکانیں مکمل طور پر مسمار ہو گئیں اور دھماکے کے مقام پر موجود متعدد گاڑیاں بری طرح تباہ ہو گئیں۔

اتوارکی وجہ سے شہریوں کی بڑی تعداد خریداری میں مصروف تھی۔ دھماکے کی شدت بہت زیادہ تھی جس کی آواز پورے پشاورمیں سنی گئی۔

دھماکے کے بعد قصہ خوانی بازارمیں افراتفری پھیل گئی اورخواتین اور بچے خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر بھاگتے ہوئے نظر آئے۔ موقع پر موجود لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا۔

فائربریگیڈ کے دھماکے کے مقام پر پہنچنے میں تاخیر کے باعث لوگ اپنی مدد آپ کے تحت پانی پھینک کرگاڑیوں اوردکانوں کی آگ بجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کی زد میں آنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایک نمایندے کے مطابق دھماکے کے وقت خریداری مے مصروف پانچ سے چھ خواتین اور بچے بری طرح جھلس گئے۔

اطلاعات کے مطابق، پہلے ایک چھوٹا دھماکا ہوا جس کے بعد لوگ دھماکے کی جگہ پر لوگ جمع ہو گئے اور اس کے بعد دوسرا دھماکہ ہو گیا جس کی شددت بہت زیادہ تھی اور زیادہ تر ہلاکتیں دوسرے دھماکے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

خیبر پختونخواہ کے وزیر صحت شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ پشاور کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے جبکہ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور وہ لوگوں کو دھماکے کی جگہ سے دور ہٹانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے تھانے کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی میں نصب تھا جبکہ دھماکے کے لئے 200 کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔

وزیراعظم نواز شریف نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سیاسی قیادت نے بھی پشاور میں دھماکے کی مذمت کی ہے۔ اے این پی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پشاور میں سرچ آپریشن کی ضرورت ہے۔

عوام نیشنل پارٹی کے رہنماء زاہد خان نے پشاور میں دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور میں دہشتگرد واپس آگئے ہیں اور وہ رات کو گشت کرتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنماء میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ پشاور میں سرچ آپریشن کی ضرورت ہے۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے بھی دہشتگردوں کی اس کارروائی کی مذمت کی ہے۔

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے سربراہ آغا حامد علی موسوی اور جنرل سیکریٹری سید مظہر علی شاہ نے دھماکے کی مذمت کی ہے۔ سید مظہر علی شاہ کا کہنا ہے کہ دھماکوں میں بھارت ملوث ہے۔

پشاور میں دھماکے کے بعد اے این پی کے رہنماء حاجی غلام احمد بلور کارکنوں کیساتھ دھماکے کی جگہ پر پہنچے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ عمران خان ایک طرف طالبان کو دفتر دلانے کی بات کر رہے ہیں اور دوسری طرف بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔

طالبان کی تردید

 کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان ( ٹی ٹی پی) نے خود کو قصہ خوانی بازار میں ہونے والے دھماکے سے لاتعلق رکھتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں ان کا کوئی کردار نہیں۔

 ٹی ٹی پی کے ترجمان، شاہد اللہ شاہد نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ وہ سیکیورٹی فورسز اور حکومتی اداروں کو نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن وہ عوامی مقامات پر حملے نہیں کرتے اور قصہ خوانی بازار دھماکے سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

 شاہد اللہ شاہد نے کہا کہ ٹی ٹی پی قصہ خوانی بازار دھماکے کی مذمت کرتی ہے جس میں بڑے پیمانے پر عوامی نقصان ہوا اور کہا کہ ٹی ٹی پی کی عوام سے کوئی دشمنی نہیں۔

تبصرے (2) بند ہیں

احمد Sep 29, 2013 01:10pm
Destroy the Taliban
افشاں – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ Oct 01, 2013 02:59pm
ہم اتوار کے روز قصہ خوانی بازار ميں ہونے والے انتہائی بہیمانہ حملے کی بھر پور مذمت کرتے ہیں جس ميں 41 معصوم شہری ہلاک ہوۓ ہم اتوار کے روز قصہ خوانی بازار ميں ہونے والے اس سفاکانہ حملے کے متاثرين کے دوستوں اور خاندانوں والوں کو گہری دلی تعزیت پيش کرتے ہيں عسکريت پسند قتل و غارت ، تباہی اور دہشت کے ذريعے پاکستانی عوام پر اپنی انتہاپسند سياسی نظريات کو مسلط کرنا چاہتے ہيں

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025