قانون کے مطابق بیرون ملک کیے گئے جرم پر پاکستان میں بھی کارروائی ہو سکتی ہے، لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ اگر کوئی شخص بیرون ملک ایسا جرم کرے جو پاکستان میں بھی جرم ہو، تو ایسے شخص کے خلاف پاکستان میں کارروائی ہو سکتی ہے، جسٹس تنویر احمد شیخ نے ملزم محمد ارشاد کی درخواست ضمانت میں قانونی نقطہ طے کر دیا۔
ڈان نیوز کے مطابق جسٹس تنویر احمد شیخ کے تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ مدعی مقدمہ کے مطابق وہ 1992 سے عمان میں گولڈ جیولری کا کاروبار کر رہا ہے، مدعی کے مطابق ملزم ارشاد 4 سال سے عمان میں اس کے پاس نوکری کر رہا تھا۔
مدعی نے ہیرے کی انگوٹھی اور سونا خریدنے کے لیے ملزم کو 23 ہزار 600 عمانی ریال دیے تھے، ملزم نے اسی دن رقم اپنے اور اپنی بیوری کے پاکستان میں موجود بینک اکاونٹ میں ٹرانسفر کرلی۔
ملزم ساری رقم اپنے بینک اکاونٹس میں منتقل کرنے کے بعد مسقط سے پاکستان آگیا۔
عدالت عالیہ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ملزم کے وکیل کے مطابق ملزم کے خلاف عمان میں کارروائی جاری ہے، ملزم کے وکیل کے مطابق ایک ہی الزام میں 2 جگہ پر کارروائی نہیں ہوسکتی۔
مدعی نے اس معاملے کی اطلاع عمان میں موجود پاکستانی سفارت خانے کو دی، پاکستانی سفارت خانے نے معاملہ پاکستان میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو ریفر کیا۔
قانون کے مطابق بیرون ملک کیے گئے جرم پر پاکستان میں بھی کارروائی ہو سکتی ہے، صرف اس صورت میں پاکستان میں کارروائی نہیں ہو سکتی اگر بیرون ملک کی عدالت ملزم کو سزا یا بری نہ کر دے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کیس میں ملزم کے خلاف عمان میں صرف مقدمہ درج ہوا ہے، سزا یا بریت نہیں ہوئی، ملزم کو پاکستان داخل ہونے پر ایف آئی اے نے گرفتار کرلیا۔
فاضل جج نے کہا کہ مووجدہ صورتحال میں ملزم کے خلاف پاکستان میں کارروائی ہو سکتی ہے، لاہور ہائی کورٹ ملزم کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری خارج کرتی ہے۔