مصر نے غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی بحالی کیلئے نئی تجویز پیش کر دی
مصر نے غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کو بحال کرنے کے لیے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جبکہ فلسطینی صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اسرائیلی حملوں میں کم از کم 65 افراد شہید ہوئے ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ تجویز گزشتہ ہفتے 18 مارچ کو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں فضائی اور زمینی کارروائیاں دوبارہ شروع کیے جانے کے بعد پیش کی گئی تھی، جس کے بعد تشدد میں اضافہ ہوا تھا اور 15 ماہ کی جنگ کے بعد دو ماہ کی نسبتاً پرسکون مدت کا مؤثر طور پر خاتمہ ہوا تھا۔
غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری سے اب تک تقریباً 700 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں کم از کم 400 خواتین اور بچے شامل ہیں۔
طبی عملے کا کہنا ہے کہ پیر کو شہید ہونے والوں میں دو مقامی صحافی محمد منصور اور حسام شبات بھی شامل ہیں، حماس کا کہنا ہے کہ اس کے کئی سینئر سیاسی اور سیکیورٹی اہلکار بھی شہید ہوئے ہیں۔
دو سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مصری منصوبے میں حماس سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر ہفتے 5 اسرائیلی قیدیوں کو رہا کرے جبکہ اسرائیل پہلے ہفتے کے بعد جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کرے گا۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور حماس نے اس تجویز سے اتفاق کیا ہے لیکن اسرائیل نے اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مصر ی تجویز میں غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی ٹائم لائن بھی شامل ہے جس میں باقی قیدیوں کی رہائی کے بدلے امریکی گارنٹی بھی شامل ہے۔