• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

نجی شعبے نے ایک ماہ میں بینکوں کا 48 فیصد قرض اتار دیا

شائع February 28, 2025
— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

بینکوں نے ایک ماہ کے اندر نجی شعبے کو دی گئی رقم کا تقریباً 48 فیصد واپس لے لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نجی شعبے کے پاس نئے آئیڈیاز یا وینچرز کے ساتھ مارکیٹ میں آنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یکم جولائی 2024 سے 17 جنوری 2025 تک نجی شعبے نے بینکوں سے 13 کھرب 98 ارب روپے کا قرضہ لیا، لیکن سال 2024 کے آخری دو ماہ (نومبر اور دسمبر 2024) میں بینکوں نے زیادہ تر قرضے ایڈوانس ٹو ڈپازٹ ریشو 50 فیصد برقرار رکھنے کے لیے دیے تاکہ اس میں ناکامی کے جرمانے سے بچ سکیں۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ نجی شعبے کو دی گئی رقم کی تیزی سے واپسی ٹیکس کی ادائیگی سے بچنے کے لیے ایک عارضی انتظام تھا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نجی شعبہ بینکوں کی طرف سے دی گئی رقم کو استعمال کرنے کے لیے پروجیکٹس کے لیے تیار نہیں ہے۔

17 جنوری 2025 تک نجی شعبے کو دیا گیا کُل قرضہ 13 کھرب 98 ارب روپے تھا، لیکن 24 فروری میں یہ تقریباً نصف کم ہو کر 742 ارب روپے رہ گیا۔

بینکوں کو ایک ماہ کے اندر 656 ارب روپے (48.3 فیصد) واپس کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نجی شعبے کی شرکت گزشتہ سال کی طرح کم رہے گی۔

قرض لینے کی صورتحال حوصلہ افزا ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک نے جون 2024 سے شرح سود میں 1000 بیسس پوائنٹس کی کمی کر کے 12 فیصد کردی ہے۔

ترقیاتی اخراجات میں کمی

دوسری جانب پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں 11 کھرب روپے کی نظرثانی شدہ رقم کے مقابلے میں صرف 148 ارب روپے رہ گیا ہے۔

وزارت منصوبہ بندی و ترقیات کے جاری کردہ ششماہی (جولائی تا دسمبر 2024) کے اعداد و شمار کے مطابق پی ایس ڈی پی کے کُل اخراجات تقریباً 148 ارب روپے تھے، جو کہ 14 کھرب روپے کے اصل مختص بجٹ کا تقریباً 10.5 فیصد بنتا ہے۔

اسی عرصے کے دوران، ملک کو ہدف کے مقابلے میں 386 ارب روپے کی آمدنی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔

ترقیاتی منصوبوں کے لیے حکومت اور نجی شعبے دونوں کے اخراجات مالی سال 25 کے لیے جی ڈی پی نمو کا ہدف 3.2 فیصد تک پہنچنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔

مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف کے ہدف کو پورا کرنے کے لیے سختی کی ضرورت ہے، لیکن مالی سال 25 کی پہلی ششماہی میں مقامی قرضے 27 کھرب 23 ارب روپے بڑھ کر 498 کھرب 83 ارب روپے ہو گئے۔ اسی عرصے کے دوران حکومت کو اسٹیٹ بینک سے 27 کھرب روپے بطور منافع حاصل ہوئے۔

اس اضافے کے باوجود لیکویڈیٹی کی کمی اور پی ایس ڈی پی پر کم اخراجات سے ترقی کے ہدف کو نقصان پہنچنے کی توقع ہے۔

بینک اب بھی اپنی زیادہ سے زیادہ لیکویڈیٹی سرکاری کاغذات میں دکھانے کی کوشش میں ہیں اور خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ بینکرز کا کہنا ہے کہ سیاسی محاذ پر بےیقینی صورتحال کی وجہ سے خطرہ زیادہ ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکی تجارتی پالیسی بھی پاکستان کے لیے بُری خبر لا سکتی ہے۔

سینئر بینکر ایس ایس اقبال نے کہا کہ ’چین کے ساتھ امریکا کی تجارتی جنگ اور یورپ میں معاشی زوال کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات کی پیمائش کے لیے کوئی پالیسی نہیں ہے۔‘

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ اسلامی بینکوں نے جارحانہ طور پر قرضے دینے اور نجی شعبے کے ساتھ اپنی لیکویڈیٹی کا انتظام کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

14 فروری تک نجی شعبے کے پاس 742 ارب روپے کی کُل رقم میں سے اسلامی بینکوں کا قرضہ 550 ارب روپے تھا۔ روایتی بینکوں کی طرف سے قرضے کی رقم صرف 142 ارب روپے تھی جبکہ روایتی بینکوں کی اسلامی شاخوں نے 50 ارب روپے قرض دیے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025