احسن اقبال کا برآمدات بڑھانے کیلئے ’ایس ایم ایز‘ کی بہتر مالی معاونت پر زور
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے اڑان پاکستان پروگرام کے تحت بینکوں پر برآمدات کو دوگنا کرنے کے لیے ’ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ ونڈو‘ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ چھوٹی اور درمیانے درجے (ایس ایم ایز) کی صنعتوں کو آسان شرائط پر قرض فراہم کیا جائے۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق انہوں نے ملک میں ترقی کی شرح کو 6 فیصد تک لے جانے کے لیے برآمدات کو 30 ارب سے بڑھا کر 100 ارب ڈالر کرنے کی ضرورت پر روز دیا۔
وفاقی وزیر نے برآمدات، زراعت کو بڑھانے، صنعتی ترقی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں کو مزید پروان چڑھانے میں مالیاتی شعبے کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
احسن اقبال نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو کراچی میں پاکستان اسٹیٹ بینک میں ملک کے بڑے بینکوں کے صدور سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ ’ ماضی میں پاکستان نے 3 بار اڑان بھرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کریش ہوئی، مزید کہا کہ پاکستان نے پہلی کوشش 60 کی دہائی میں کی لیکن 65 کی جنگ نے اسے ناکام کردیا، دوسری کوشش 90 کی دہائی میں کی لیکن سیاسی عدم استحکام آڑے آگیا، تیسری کوشش 2016 کی تھی جو 2018 میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں کے پیش نظر شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکی۔’
وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے ایس ایم ایز کو معاونت فراہم کرنے کے لیے بینکوں سے برآمدی سہولت کے لیے ونڈو قائم کرنے کی درخواست کی تاکہ آئندہ 5 سالوں میں 40 سے 60 ارب ڈالرز کی برآمدات کی جائیں۔
انہوں نے بینکوں کو حکومت کی معاونت کے علاوہ ملک میں برآمدات کو بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے کاروباری لوگ اکثر اپنے کمفرٹ زون میں رہنا پسند کرتے ہیں اور مقامی مارکیٹ سے اربوں روپے کماتے ہیں، اسی طرح بینک بھی حکومت کو قرض دینے پر خود کو محفوظ سمجھتے ہیں، تاہم ہم نے بینکوں کو ایس ایم ایز کی معاونت فراہم کرنے پر زور دیا ہے، یہ صورتحال بنیادی شرح سود کے ساتھ دونوں فریقین کے لیے سودمند ہے، مقامی بینکوں سے قرض کا حصول چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے نمایاں فوائد کا ایک ذریعہ بن سکتا ہے۔
وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اگلے 22 سالوں میں پاکستان میں نمایاں ترقی کے حصول کی بے پناہ صلاحیت ہے۔
احسن اقبال نے اسٹیٹ بینک کے تعاون سے ورک فورس کے لیے اسکالرشپ پروگرام متعارف کرانے پر بھی زور دیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اسی طرح مرکزی بینک اور دیگر مالیاتی اداروں کے تعاون سے تعلیمی اخراجات برداشت نہ کرنے والے طلبہ کو دنیا کی 25 بہترین جامعات میں داخلے کے لیے اسکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔
احسن اقبال نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں قومی معاشی ٹرانسفارمیشن یونٹ قائم کیا گیا ہے جو اڑان پاکستان پروگرام کے تحت ہر وزارت کی نگرانی کرے گا۔