• KHI: Zuhr 12:40pm Asr 4:26pm
  • LHR: Zuhr 12:11pm Asr 3:42pm
  • ISB: Zuhr 12:16pm Asr 3:42pm
  • KHI: Zuhr 12:40pm Asr 4:26pm
  • LHR: Zuhr 12:11pm Asr 3:42pm
  • ISB: Zuhr 12:16pm Asr 3:42pm

31 جنوری تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تو مذاکرات آگے نہیں چلیں گے، حامد رضا

شائع January 12, 2025
— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

حکومت سے مذاکرات کرنے والی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کمیٹی کے رکن صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ ہم تیسرے مذاکراتی دور کے لیے تیار ہیں، حکومت جوڈیشل کمیشن کے لیے ورکنگ کرکے آئے اور اگر 31 جنوری تک جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تو مذاکرات آگے نہیں چلیں گے۔

سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد مذاکراتی کمیٹی کے دیگر ارکان کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حامد رضا کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی کمیٹی تیسرے مذاکراتی راؤنڈ کے لیے تیار ہے، 2 مطالبات تحریری شکل میں فراہم کردیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں ظلم و ستم کا ازالہ اور ذمہ داروں کا تعین ہو، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے جب کہ عمران خان نے بانی پی ٹی آئی نے اپنی رہائی کی کوئی بات نہیں کی، تاہم ہمارے اسیران کے ٹرائل مکمل ہوچکے ہیں ،قانونی حق سے محروم رکھا جارہا ہے۔

حامد رضا کا کہنا تھا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن کے لیے ورکنگ کرکے آئے، مذاکرات کو حتمی نتائج تک پہنچانے کے لیے بال اب حکومت کی کورٹ میں ہے، 31 جنوری تک مذاکرات مکمل ہونے کی ہماری تاریخ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے تفصیلی ملاقات ہوئی لیکن آج بھی بانی سے ملاقات کنٹرولڈ ماحول میں کرائی گئی۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ 31 جنوری کی تاریخ میں توسیع کا فیصلہ بانی پی ٹی آئی ہی کریں گے، ہمارے پاس مذاکرات کی تاریخ میں توسیع کا اختیار نہیں ہے۔

اس سے قبل، حکومت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کی مذاکراتی کمیٹی نے اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی۔

تحریک انصاف کے بانی عمران خان سے ملاقات کے لیے مذاکراتی کمیٹی میں شامل اپوزیشن لیڈرعمر ایوب، اسد قیصر، سنی اتحاد کونسل کےحامد رضا اور مجلس وحدت مسلمین (ایم ڈبلیو ایم) کے ناصرعباس راجا اڈیالہ جیل پہنچے۔

اڈیالہ جیل کے باہر صحافی نے حامد رضا سے سوال کیا کہ کیا عمران خان آج باقاعدہ این آر او پر دستخط کریں گے؟

حامد رضا نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس این آر او کی کوئی اطلاع ہے؟ کیا آپ نے این آر او دیکھا ہے؟ مجھ سے شیئر کریں، این آر او عمران خان نہیں حکومت مانگ رہی ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ اللہ اللہ کرکے آج ملاقات کی اجازت ملی ہے، خوشی ہے آج اپنے لیڈر سے ملاقات ہوگی۔

قبل ازیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور بھی عمران خان سے ملاقات کے لیے مکمل سرکاری پروٹوکول کے ساتھ اڈیالہ جیل پہنچے۔

ترجمان قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسپیکر کے پیغام کے بعد اڈیالہ جیل میں مذاکراتی کمیٹی کی ملاقات کا اہتمام کیا ہے، پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن صاحبزادہ حامد رضا نے بھی تصدیق کی تھی۔

اس سے قبل اپوزیشن لیڈر عمرایوب اور اسد قیصر نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا، دونوں رہنماؤں نے باضابطہ طور پر مذاکراتی کمیٹی کی بانی سےملاقات کی درخواست کی تھی، ایازصادق نے دونوں رہنماؤں کے پیغام سےحکومت کو آگاہ کردیا تھا۔

ترجمان قومی اسمبلی کے مطابق اسپیکر ایاز صادق نےصرف پیغام رسانی کا کردار ادا کیا، ایازصادق نے پیغام دیاکہ حکومت مذاکراتی کمیٹی کی بانی سے ملاقات کروا دے۔

واضح رہے کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات کی تیسری بیٹھک منگل کو ہونے کاامکان ہے، مشیر وزیراعظم بیرسٹر عقیل نے واضح کیا ہے کہ تمام معاملات عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔

حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن عرفان صدیقی نے واضح کیا کہ مذاکرات ٹریک پر ہیں، کوئی پیچھے نہیں ہٹا۔

انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بیان میں براہ راست وزیرِاعظم کی ذات پر حملہ کیا گیا، اگلی ملاقات میں درخواست کریں گے کہ ایسے بیانات نہ آئیں، نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے باور کرایا کہ مذاکرات کی موجودہ صورتحال کی ذمے دار ن لیگ نہیں ہے۔

خواجہ آصف اور مریم نواز کی کوشش ہے مذاکرات ناکام ہوجائیں، اسد قیصر

دوسری جانب، پی ٹی آئی رہنما اسدقیصر نے الزام عائد کیا کہ خواجہ آصف اور مریم نواز کی کوشش ہے مذاکرات ناکام ہوجائیں ۔

اسد قیصرنے واضح کیا ہے کہ مذاکرات سے متعلق ان کی کمٹمنٹ ہے اس لیے اعتماد سے بات کر رہے ہیں۔صرف پاکستان کی خاطر اپنے تحفظات کو پیچھے کیا ہے۔

پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے خبردارکیا کہ عمران خان کی رہائی نہ ہونے پر اس بار سخت ترین احتجاج ہوگا، ڈان نیوز کے پروگرام پروگرام دوسرا رخ میں بات کرتے ہوئے شیر افضل مروت نے اپنے اوپر تنقید کرنے والوں کوسخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے کہ اب انہیں بھی ڈیجیٹل دہشت گرد بننا پڑے گا۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے گزشتہ روز حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے 31 جنوری کی ڈیڈ لائن میں توسیع پر اتفاق کیا تھا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کی قیادت نے گزشتہ ماہ جیل میں قید پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کے بعد الٹی میٹم کا اعلان کیا تھا، اس مقصد کے لیے اب تک پی ٹی آئی اور حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹیوں کے درمیان مذاکرات کے 2 دور ہو چکے ہیں۔

پی ٹی آئی نے عمران خان اور جیلوں میں بند دیگر پارٹی رہنماؤں کی رہائی، 9 مئی 2023 اور 26 نومبر 2024 کے مظاہروں کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مذاکرات بظاہر 2 جنوری کو ہونے والی آخری ملاقات کے بعد سے تعطل کا شکار ہیں اور اطلاعات ہیں کہ دونوں فریق مذاکرات کے طریقہ کار پر آنکھیں بند نہیں کر سکے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں عمران خان تک ’غیر نگرانی‘ رسائی پر اصرار تنازع کی ایک نئی وجہ بن گیا ہے۔

ڈان نیوز کے پروگرام ’دوسرا رخ‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما شبلی فراز نے کہا کہ مثبت پیش رفت ہونے پر مذاکرات 31 جنوری سے آگے بھی جا سکتے ہیں اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا دوسرا اِن کیمرا اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت 2 جنوری کو اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا تھا۔

مذاکرات کے جاری اعلامیے کے مطابق پی ٹی آئی کمیٹی کے سربراہ عمر ایوب اور دیگر اراکین نے تفصیل سے اپنا نکتہ نظر پیش کیا اور عمران خان سمیت پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

اعلامیے کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے کہا تھا کہ حکومت کو ضمانتوں کے حصول میں حائل نہیں ہونا چاہیے، حقائق کو پوری طرح سامنے لانے کے لیے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔

پی ٹی آئی کمیٹی نے کہا تھا کہ تحریری طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرنے کے لیے انہیں اڈیالہ جیل میں بانی پی ٹی ائی عمران خان سے ملاقات، مشاورت اور رہنمائی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جائے، عمران خان نے مذاکراتی عمل شروع کرنے کی اجازت دی ہے، اپوزیشن کے مطابق مذاکرات مثبت طریقے سے جاری رکھنے کے لیے ان کی ہدایات بہت ضروری ہیں۔

ترجمان مذاکراتی کمیٹی کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کمیٹی عمران خان سے مشاورت اور رہنمائی کے بعد اگلے اجلاس میں چارٹر آف ڈیمانڈ باقاعدہ تحریری شکل میں پیش کرے گی۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 13 جنوری 2025
کارٹون : 12 جنوری 2025