• KHI: Fajr 5:05am Sunrise 6:22am
  • LHR: Fajr 4:26am Sunrise 5:49am
  • ISB: Fajr 4:28am Sunrise 5:53am
  • KHI: Fajr 5:05am Sunrise 6:22am
  • LHR: Fajr 4:26am Sunrise 5:49am
  • ISB: Fajr 4:28am Sunrise 5:53am

وکٹوریہ میوزیم کی تلاش - 1

شائع September 6, 2013 اپ ڈیٹ May 15, 2015

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو -- اختر بلوچ --.

is blog ko Hindi-Urdu mein sunne ke liye play ka button click karen [soundcloud url="http://api.soundcloud.com/tracks/110042530" params="" width=" 100%" height="166" iframe="true" /]

ہمارے ایک ملتانی سرائیکی دانشور دوست محبوب تابش نے ہمیں فون پر اپنے کراچی آنے کے بارے میں بتایا۔ اُس کے ساتھ ہی یہ فرمائش بھی کر ڈالی کہ وہ وکٹوریہ میوزیم بھی دیکھنا چاہیں گے۔ ہم نے بھی حامی بھر لی۔  تین دن بعد وہ کراچی پہنچ گئے۔ اس دوران ہم وکٹوریہ میوزیم والی بات بھول چکے تھے۔ ہم اُنھیں پریس کلب کے قریب ایک رہائشی ہاسٹل لے گئے۔ نہانے دھونے سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے کہا کہ میوزیم کب چلیں گے۔ اب ہم اُنھیں کیا بتاتے کہ ہمیں وکٹوریہ میوزیم کی جگہ کے بارے میں کُچھ معلوم ہی نہیں! بہرحال وہ خود ہی بھانپ گئے۔ بولے کوئی بات نہیں آج اردو بازار چلتے ہیں کل میوزیم چلیں گے۔ ہم نے بھی سُکھ کا سانس لیا اور سوچا کہ کل تک تو پتہ چل ہی جائے گا کہ میوزیم کہاں ہے۔ رات کو ہم نے دو تین دوستوں سے اس بارے میں معلوم کیا۔ سب نے کراچی میں وکٹوریہ میوزیم کے وجود سے انکار کیا۔ اگلے دن ہاسٹل جانے سے پہلے ہم پریس کلب پہنچے اس اُمید پر کہ شاید وکٹوریہ میوزیم کا پتہ معلوم ہو جائے۔ کلب میں ہمارے فوٹو جرنلسٹ دوست ماجد بھائی موجود تھے۔ ہم نے ان سے جب اس بابت معلوم کیا تو اُنھوں نے کہا کہ وکٹوریہ میوزیم کے بارے میں تو نہیں معلوم ہاں البتہ ایک میوزیم ہے۔ ہم نے اُن سے پتہ پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ اگر آپ کا کبھی آرٹس کاؤنسل جانا ہو تو کاؤنسل کی عمارت ختم ہوتے ہی آپ کو ایک بہت بڑا پارک نظر آئے گا۔ یہ پارک عموماً ویران ہوتاہے۔ اس پارک کے درمیان میوزیم کی عمارت موجود ہے۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو -- اختر بلوچ --. میں نے ان سے کہا کہ اس میوزیم کے بارے میں ہمیں بھی معلوم ہے، لیکن یہ نیشنل میوزیم ہے۔ بہرحال میں محبوب کو لے کر پارک پہنچا۔ پارک کے مرکزی گیٹ پر نیشنل میوزیم کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک ٹکٹ گھر بنا ہوا تھا۔ جس میں کوئی موجود نہ تھا۔ میوزیم کی عمارت گیٹ سے تقریباً آدھ فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ خیر ہم یہ فاصلہ طے کر کے میوزیم میں داخل ہو گئے۔ میوزیم کے استقبالیے پر بھی کوئی موجود نہ تھا۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر جیسے ہی پہلی منزل پر پہنچے تو اچانک دوڑتے قدموں کی آواز سُنائی دی۔ مُڑ کر دیکھا تو ایک دُبلے پتلے سے صاحب نے ہانپتے ہوئے ہم سے ٹکٹ کا مُطالبہ کیا۔ ہم نے اُنھیں بتایا کہ ٹکٹ گھر پر کوئی نہیں ہے۔ جواباً اُنھوں نے کہا کہ ہم اُنھیں 20 روپے دے دیں۔ ٹکٹ وہ منگوا دیں گے۔ ہم نے اُنھیں پیسے دے دیے۔ اُنھوں نے ہمیں نیچے انتظار کرنے کو کہا۔ کُچھ ہی دیر میں ٹکٹیں آگئیں۔ ہم نے دورے کا آغاز میوزیم کے دائیں جانب سے کرنا چاہا۔ ایک صاحب نے کہا ترقیاتی کام چل رہا ہے۔ اس لیے ہال بند ہے۔ ہم نے بائیں جانب جانا چاہا تو یہ ہی جواب ملا۔ اُن صاحب نے مشورہ دیا کہ ہم دوسری منزل پر چلے جائیں تو جناب ہم دوسری منزل پر پہنچے۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ دائیں جانب پہلی گیلری پر قبائلی تمدن گیلری لکھاتھا۔ ہم اُس میں داخل ہو گئے۔ بالکل سامنے ایک شیشے کا بڑا باکس تھا۔ اس میں کُچھ گُڑیاں اور گُڈے رکھے ہوئے تھے۔ باکس پر انگریزی میں کافرستان لکھا ہوا تھا۔ باکس کے بالکل ساتھ قدیم ہتھیاروں سے لیس ایک بہت بڑا مجسمہ تھا جس کے بارے میں ہمیں وہاں موجود اہلکار نے بتایا کہ یہ کافر کا مجسمہ ہے۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ پاکستان کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ازراہ مذاق اُن سے پوچھا لگتا ہے پاکستان میں کافروں کی تعداد میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا ہے، ان کا تعلق کون سے کافروں سے ہے۔ اُنھوں نے فوراً کہا کیلاش والے۔

علامہ اقبال کا سامان، نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ گیلری میں مُختلف صوبوں کی نمائندگی کے حوالے سے کُچھ اور مجسموں کے علاوہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی تحریک آزادی گیلری تھی۔ گیلری میں تحریک کے حوالے سے سب سے اہم چیز شیشے کے دو باکسوں میں تھیں۔ ایک باکس میں علامہ اقبال کی پگڑی اور چھڑی جب کہ دوسرے باکس میں لیاقت علی خان کی گھڑی، چھڑی، لائٹر اور سونے کا عطر دان رکھا ہوا تھا۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ ایک الگ باکس میں ایک تلوار بھی تھی جو قائداعظم کو ضلعی مسلم لیگ علیگڑھ کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ ہم اگلی گیلری کی جانب چل پڑے، یہ قران گیلری تھی۔ یہاں سب سے پہلے ہمارے جوتے اُتروائے گئے۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو -- اختر بلوچ --. اندر داخل ہو نے سے پہلے ہم نے اہلکار سے درخواست کی کہ ہماری رہ نمائی فرمائیں۔ اُنھوں اس سلسلے میں معذرت کی اور کہا کہ ہم خود ہی دیکھ لیں۔ اُنھیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ خیر ہم اندر داخل ہو گئے۔ گیلری میں قران پاک کے قدیم نسخے موجود تھے۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ اگلی باری گندھارا تہذیب کی گیلری کی تھی۔ اس گیلری میں گوتم بدھ کے مجسمے رکھے ہوئے تھے۔ اچانک ہماری نظر ایک کتبے پر پڑی جس پر ہندو مجسمے لکھا تھا۔ ہم نے وہاں موجود صاحب سے پوچھا کہ یہ تو ہندو مجسمے ہیں۔ باقی کا تعلق کن مذاہب سے ہے۔ اُنھوں نے ناگواری سے ہماری طرف دیکھا اور کہا بُدھ مت سے۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ --. اس کے علاوہ ہڑپہ، موئن جو دڑو اور ما قبل تاریخ کی گیلریاں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے گذشتہ ایک سال سے بند پڑی ہیں لہٰذا  ہمارا یہ دورہ ادھورا ہی رہا۔ عمارت سے باہر نکلنے لگے تو استقبالیہ کے بائیں جانب کُچھ مورتیاں فرش پر نظر آئیں۔ ہم اُن کی جانب بڑھے۔ ایک صاحب نے ہمارا راستہ روک کر ہمیں آگاہ کیا کہ یہ علاقہ ممنوعہ ہے۔ پتا چلا کہ یہ وہ مورتیاں ہیں جو پچھلے دنوں کراچی سے بیرون ملک اسمگل کرتے ہوئے پکڑی گئیں لیکن تحقیق کے بعد جعلی ثابت ہوئیں۔ ہم نے باتوں ہی باتوں میں اُن سے عمارت کی تاریخ دریافت کی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس عمارت کا قیام 1970 میں ہوا۔ ہم نے اُن سے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق میوزیم جس گارڈن میں قائم ہے بہت قدیم ہے۔ اُنھوں نے اس بات سے اتفاق کیا اور بتایا کہ عمارت کے پچھلے حصے میں ایک تختی لگی ہوئی ہے اُسے دیکھ لیں۔ ہم عما رت کے عقب میں موجود باغ میں پہنچ گئے۔ بالکل آخر میں ایک تختی نظر آئی جس پر 1923 اور اس کے ساتھ ایک پلر پر 'سوبھراج چیتو مل ٹیرس' لکھا تھا۔ الیگزینڈر ایف بیلی اپنی کتاب کراچی ماضی، حال، مُستقبل میں لکھتے ہیں کہ برنس گارڈن میں ایک نئے میوزیم کا قیام عمل میں آیا جسے وکٹوریہ میوزیم کہا جاتا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ 1851 میں فرئیر ہال کی تعمیر مکمل ہوئی تو اُس کی نچلی منزل پر ایک کمرہ میوزیم کے لیے مخصوص کیا گیا۔ جسے بعد میں برنس گارڈن مُنتقل کر دیا گیاتھا۔ اس کا افتتاح ڈیوک آف کناٹ نے کیا تھا۔ معروف مُورخ عثمان دموہی اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں لکھتے ہیں کہ چارلس نیپئیر نے 1844 میں سندھ کی نادر اشیاء کو جمع کرنے کی غرض سے 'سندھ ایسوسی ایشن' کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد کراچی میں ایک عجائب گھر قائم کرنا تھا۔ اس ادارے نے بہت سی نادر اشیاء جمع کیں، مگر نیپئر کی مصروفیت کی وجہ سے یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ تمام جمع شدہ اشیاء کو ایک کمرے میں رکھ کر بند کر دیا گیا۔ 1892 میں اسے ڈی جے کالج کے لیے تعمیر ہونے والی نئی عمارت کی بالائی منزل میں منتقل کردیا گیا اور کراچی میونسپلٹی کو اس کے انتظام کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ میونسپلٹی نے اس کی خوب تزئین کی اور مثالی عجائب گھر بنادیا۔ ان ہی دنوں کراچی میں اس تحریک نے زور پکڑا کہ کراچی کے عجائب گھر کو لندن کے عجائب گھر کی طرز پر ڈھالا جائے۔ چنانچہ کراچی میوزیم کو ایک شایان شان میوزیم بنانے کے لئے عوام سے نادر اور قدیم اشیاء کی زیادہ سے زیادہ عطیات دینے کی اپیل کی گئی۔ اس دوران 21 مئی 1892 کو میوزیم کی عمار ت مکمل ہوگئی۔ اس عمارت کو وکٹوریہ میوزیم کا نام دے دیا گیا۔

نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ محمودہ رضویہ اپنی کتاب 'ملکہ مشرق' مطبوعہ 1947 میں لکھتی ہیں کہ برنس گارڈن میں عجائب گھر ہے۔ جو کہ جنگ کی وجہ سے فریئر ہال منتقل کر دیا گیا تھا۔ عجائب گھر میں ہر مردہ جانور دوائیں لگا کر رکھا گیا ہے۔ موئن جو دڑو سے دستیاب چیزیں بھی یہاں موجود ہیں۔ ہند اور بیرون ہند کے رہنے والوں کے مجسمے اور دنیا بھر کے مشاہیر کی تصاویر اور دو انسانی ڈھانچے بھی رکھے ہیں۔ یہ سب تو اپنی جگہ ٹھیک۔ محبوب واپس ملتان چلے گئے، لیکن ہمارے ذہن میں یہ سوال چھوڑ گئے کہ آخر وکٹوریہ میوزیم گیا کہاں؟ جاری ہے... 

  اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان      کے کونسل ممبر کی  حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں

اختر بلوچ

اختر بلوچ سینئر صحافی، لکھاری، اور محقق ہیں۔ وہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے کونسل ممبر ہیں۔ وہ سوشیالوجی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبصرے (20) بند ہیں

Syed Afzal Hussain Sep 06, 2013 05:36pm
If only there is a pic before 1970 showing a building inside Burns Garden, that can shed some light on whereabouts of Museum.
Syed Afzal Hussain Sep 06, 2013 05:48pm
Some information found at wikipedia describes the current one replaced Victoria Museum in Frere Hall in 1950s - Source (http://de.wikipedia.org/wiki/National_Museum_of_Pakistan)
Samjad Sep 07, 2013 04:54am
victoria museum pe Pakistan Taliban Burgaid ne Kabza ker k us ko Islami identity de dali. "National Museum Pakistan"
khalil Nasir Sep 07, 2013 03:22pm
aik intresting blog hay. Hamaisha ki tarah akhter balooch nay gumashta karachi ko dohandnay ki kooshish ko jari rakha hay. Iss blog k baad sawal tu yehi bantaa hay keh aakhir yeh victoria meuseum hay kahaan aur kiuon gum hoo gaya hay, lagta hay keh iss k jawab k liyay blog ki doosri qist ka intezar karna paray gaa.
گلشن لغاري Sep 07, 2013 03:33pm
اختر صاحب وڪٽوريه ميوزيم تو غائب هوگيا، پر اب ڪراچي خود ايڪ ميوزيم مين تبديل هوتا جا رها هي. ان لوگون ڪي هاتهون، جن ڪو هم ني اپنايا، ان جيسي اپنون ڪي لئي هي ڪها گيا هي ڪه: هو.ي تم دوست جس ڪي، اس ڪا دشمن آسمان ڪيون هو؟ اور وه برٽش امپائر ڪي لوگ تهي، جن ڪو هم لعن طعن ڪرتي هين ، انهون ني سنده ڪي ڪلچر، زبان اور قدرون ڪو بچاني ڪي ڪوشش ڪي. هم وه لوگ هين ڪه مورتيون ڪو سمگل هوني سي بچايا جائي تو وه جعلي نڪل آتي هين... هم خود ڪچهه ڪم جعلي نهين... صرف تحقيق ڪرني ڪي ضرورت هي
Shoaib Durrazai Sep 07, 2013 03:45pm
واجہ اختر بلوچ باز وش ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپ نے ایک ہی کالم میں ہمیں کراچی میوزیم کا سیر کروادیا ۔۔۔۔
ایم اے عظیم Sep 07, 2013 03:51pm
ملکہ وکٹوریا ہویا پھر وکٹوریا میوزیم تاریخ نے اپنے اندر ایک بھرپور کہانی سمورکھی ہے.بادشاہت اور بادشاہوں کے یوں تو کارنامے عجیب و غریب ہمیشہ سے رہے ہیں اور یقینا ان کے پیچھے بھی ایک پوری کہانی ہے.عجیب اُن کے کارنامے اِس لئے کہ وہ نہ چاہتے ہوں‌بھی کچھ کرگئےاور غریب اس لئے کہ اردای طور پر ایسی غلطیاں کیں جو اُن کی ذہنی غربت کی عکاسی کرتی ہیں.اُن میں ایک شخصیت ملکہ وکتوریا بھی تھیں جنہوں نے اچھے اور بھلے اور بدنامی کا باعث بننے والے کام بھی بہت کئے.گو کہ یہ بھی سچ ہے کہ ملکہ سلامت سے زیادہ بادشاہ سلامت کا ہاتھ زیادہ خطرناک رہاہے جنہوں نے اچھی بھلی ملکائوں کو بھی دن میں تارے دکھائے اور بات جب برطانیہ کی ہو اور ملکہ ڈیانا کا نام نہ ائے تو یہ قارئین اور ناظرین دونوں کیلئے تکلیف کا سبب بنے گا.سو زیادہ تر ملکائنیں اچھی ہی تھیں ،بس اُن پر اثر بادشاہوں‌کا رہا اور وہ وہ کام انجام نہ دے سکیں جو وہ کرنا چاہتی تھیں.بادشاہوں‌کی بات ہو تو ہمارے صدور بھی کسی بادشاہ سے کم نہ تھے.کوئی کمیٹیاں بنانے میں مشہور رہا تو کسی نے جام میں فلاح پائی اور کسی نے خوبصورتی میں اپنا مقدر جانا.اور اتفاقیہ صدر بننے والے یحییٰ کا بھی یہی حال تھا.ایوب صاحب مجبور ہوئےاور منصب دلبری کو ان کے نام کردیا جو کہ مشکل کام تھا اور یہ بھی ایک خط کے ذریعے ایسا کیاکہ صاحب ائیں اور اب تھوڑا مزا آپ بھی چکھ لیں.سو اپنے دو سال میں یححیٰ صاحب کو جہاں منصب چھوڑنا پڑا وہاں دوسرے بادشاہوں اور صدور کی ریت رکھتے ہوئے انہوں‌نے بھی نمائشی انداز میں‌تختیوں‌پر تختیاں بنوا ڈالیں اور اُن میں ایک تختی وکٹوریا میوزیم کی بھی ٹھہری ،سو زیادہ نہ سہی کسی بہانے ہی سہی یہ بادشاہ تو ایسی حرکتیں کرتے رہتے ہیں جن کی بہرحال داد اُن کو ملنی چاہیئے،باقی رہی بات اختر صاحب کی تو اللہ ان کو مزید زندگی اور سوچ کو اور وسیع کرے ،وہ گاہے بگاہے ،لوگوں کے لئے دل و دماغ کو روشن کرنے کا سامان مہیا کرتے رہتے ہیں
ashraf solangi Sep 07, 2013 04:59pm
saien zabrdast kam pya kyo,haqeqt pucho ta maan twhanja blogs parhe pahnji university ji dostan khi budhaendo ahyan ta parhan aen khi je historical place je bare main jaan hasil kan,,,,,,,,,,,,
ابوبکر بلوچ Sep 07, 2013 05:05pm
اختر بلوچ کاتازہ علمی اورتحقیقی مضمون یقینا ماضی کےدرخشاں دورکی جانب لےجاتاہے وہیں اپنےماضی سے ناشناسائی سےدردکااحساسبھی دلاتا ہے۔ افسوس تواس بات کاہے کہ جس میوزیم کانام تبدیل کردیاگیاہے اس میں اب تک کوئی قابل قدر کوئی چیز باقی نہیں رہی جو تھیں وہ بھی اب حفاظت نہ کئےجانے کے باعث خراب ہوتی جارہی ہیں ۔ ستم ظریفی یہ کہ ادارے میں کام کرنے والوں تک کو نہیں معلوم کہ وہ کس ادارے اورکون سا کام کررہے ہیں ۔ بس تنخوا آنی چاہئے۔ ان جاہلوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ یہ قرآن پاک کے کتنے قدیم نسخے ہیں۔ اور مختلف قدیم تہذیبوں کےحوالے سے بھی ان جاہلوں کو کچھ نہیں معلوم ۔ بدھ مت ،ہندو مذہب ،ہڑپہ ،گندھارا،موہن جودڑو،اور مہرگڑھ اس خطے کی قدیم تہذیبیں ہیں ۔ اہم اورانتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنے اہم اور تاریخی نوعیت کےادارے میں معتصب لوگوں کو تعینات کیاگیا ہے، جو یہاں آنے والے لوگوں کو کہتے ہیں کہ یہ کافر کامجسمہ ہے ۔ اس بات پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ سیاسی کے بعد اب ہمارااخلاقی اور تہذیبی زوال بھی آ گیاہے لہذا اب ہمیں دنیا کی کوئی بھی طاقت برباد ہونے سے نہیں روک سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اب ہمیں فاتحہ پڑھنی ہی چاہئے ۔۔۔ باقی جناب وکٹوریہ میوزیم کی تلاش ختم کردیں کیوں کہ ہم نے اب سےقومی دھارے میں شامل کرکے نیشنل میوزیم کانام دے دیاہے۔۔۔۔
danish.khanzada Sep 07, 2013 05:13pm
zabardast akhter bhai.... bohat he acha likha he......
ابوبکر بلوچ Sep 07, 2013 05:33pm
اختر بلوچ کاتازہ علمی اورتحقیقی مضمون یقینا ماضی کےدرخشاں دورکی جانب لےجاتاہے وہیں اپنےماضی سے ناشناسائی سےدردکااحساسبھی دلاتا ہے۔ افسوس تواس بات کاہے کہ جس میوزیم کانام تبدیل کردیاگیاہے اس میں اب تک کوئی قابل قدر کوئی چیز باقی نہیں رہی جو تھیں وہ بھی اب حفاظت نہ کئےجانے کے باعث خراب ہوتی جارہی ہیں ۔ ستم ظریفی یہ کہ ادارے میں کام کرنے والوں تک کو نہیں معلوم کہ وہ کس ادارے اورکون سا کام کررہے ہیں ۔ بس تنخوا آنی چاہئے۔ ان جاہلوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ یہ قرآن پاک کے کتنے قدیم نسخے ہیں۔ اور مختلف قدیم تہذیبوں کےحوالے سے بھی ان جاہلوں کو کچھ نہیں معلوم ۔ بدھ مت ،ہندو مذہب ،ہڑپہ ،گندھارا،موہن جودڑو،اور مہرگڑھ اس خطے کی قدیم تہذیبیں ہیں ۔ اہم اورانتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنے اہم اور تاریخی نوعیت کےادارے میں معتصب لوگوں کو تعینات کیاگیا ہے، جو یہاں آنے والے لوگوں کو کہتے ہیں کہ یہ کافر کامجسمہ ہے ۔ اس بات پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ سیاسی کے بعد اب ہمارااخلاقی اور تہذیبی زوال بھی آ گیاہے لہذا اب ہمیں دنیا کی کوئی بھی طاقت برباد ہونے سے نہیں روک سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اب ہمیں فاتحہ پڑھنی ہی چاہئے ۔۔۔ باقی جناب وکٹوریہ میوزیم کی تلاش ختم کردیں کیوں کہ ہم نے اب سےقومی دھارے میں شامل کرکے نیشنل میوزیم کانام دے دیاہے۔۔۔۔ اختر بلوچ کاتازہ علمی اورتحقیقی مضمون یقینا ماضی کےدرخشاں دورکی جانب لےجاتاہے وہیں اپنےماضی سے ناشناسائی سےدردکااحساسبھی دلاتا ہے۔ افسوس تواس بات کاہے کہ جس میوزیم کانام تبدیل کردیاگیاہے اس میں اب تک کوئی قابل قدر کوئی چیز باقی نہیں رہی جو تھیں وہ بھی اب حفاظت نہ کئےجانے کے باعث خراب ہوتی جارہی ہیں ۔ ستم ظریفی یہ کہ ادارے میں کام کرنے والوں تک کو نہیں معلوم کہ وہ کس ادارے اورکون سا کام کررہے ہیں ۔ بس تنخوا آنی چاہئے۔ ان جاہلوں کو یہ تک نہیں معلوم کہ یہ قرآن پاک کے کتنے قدیم نسخے ہیں۔ اور مختلف قدیم تہذیبوں کےحوالے سے بھی ان جاہلوں کو کچھ نہیں معلوم ۔ بدھ مت ،ہندو مذہب ،ہڑپہ ،گندھارا،موہن جودڑو،اور مہرگڑھ اس خطے کی قدیم تہذیبیں ہیں ۔ اہم اورانتہائی افسوس ناک بات یہ ہے کہ اتنے اہم اور تاریخی نوعیت کےادارے میں معتصب لوگوں کو تعینات کیاگیا ہے، جو یہاں آنے والے لوگوں کو کہتے ہیں کہ یہ کافر کامجسمہ ہے ۔ اس بات پر جتنا بھی ماتم کیا جائے کم ہے۔ سیاسی کے بعد اب ہمارااخلاقی اور تہذیبی زوال بھی آ گیاہے لہذا اب ہمیں دنیا کی کوئی بھی طاقت برباد ہونے سے نہیں روک سکتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اب ہمیں فاتحہ پڑھنی ہی چاہئے ۔۔۔ باقی جناب وکٹوریہ میوزیم کی تلاش ختم کردیں کیوں کہ ہم نے اب سےقومی دھارے میں شامل کرکے نیشنل میوزیم کانام دے دیاہے۔۔۔۔
کمال ایوب Sep 07, 2013 10:01pm
واجہ اختر صاحب بہت عمدہ، آپ کا تحقیق پر مبنی یہ آرٹیکل ہی بہت ہی عمدہ اور جامع ہے
khobaib hayat Sep 08, 2013 01:35am
bohot khoob
majidhussain Sep 08, 2013 07:30pm
لوڈ شیڈنگ کے دور میں جہاں سامنے رکھی شے نظر نہیں آتی وہاں ایک سر پھرا اور وہ بھی بلوچ ، ہمیں گمشدہ تاریخ دیکھانے نکلا ہے۔ بہترین مزاح اور کہیں شائستہ سی ظنز کا تڑکا پڑھنے والے کو ادھر اودھر نہیں جانے دیتا۔ مجھے تو ڈر ہے کہیں یہ بلوچ آثار قدیمہ کی بنیادیں ہی نہ کھود ڈالے۔
Waqar Muhammad Khan Sep 09, 2013 01:13pm
آختر بھائی امید ہے اگلی قسط میں آپ وکٹوریہ میوزیم سے ملکہ وکٹوریہ اور کراچی سے متعلق بھی کچھ دریافت کر کے سامنے لائیں گے . . . . . .
such Sep 10, 2013 04:57pm
بلوچ صاحب آپ نے لکھنا سیکھ لیا، آپ نے سیکھ لیا کہ کیسے قاری کی دلچسپی حاصل کی جاءے، اسے کس طرح آخر تک تحریر سے جوڑے رکھا جاءے۔ یقین جانیے مجھے پاکستان یا کراچی کے ماضی سے ٹکے کی دلچسپی نہیں ہے بس غلام ابن غلام ہونے کے ناطے اپنی سابقہ مالکن کا نام دیکھ کربلاگ پڑھنا شروع کیا لیکن آخر تک وکٹوریہ میوزیم کا پتہ نہ چلا۔ خیر یہ یہ ذرا نوٹ کر لیں کہ انسان کہا کرتے ہیں، جانور بولا کرتے ہیں۔ بہ حوالہ 3 پیراگراف : بولے کوئی بات نہیں آج اردو بازار چلتے ہیں کل میوزیم چلیں گے میرا خیال ہے غلط ہوں تو معاف کیجیے گا۔
2-وکٹوریہ میوزیم کی تلاش Sep 13, 2013 08:00am
[…] یہ اس بلاگ کا دوسرا حصّہ ہے، پہلے حصّے کے لئے کلک کریں […]
tayyab jajjvi Sep 15, 2013 02:40pm
sahen behtereen ..ap karachi ka asal khubsurti ki talash me lage hoi hai ..aur sat me hum nojawano ko b share kr rahen hai
Basit Nadeem Sep 16, 2013 04:03pm
Sir ji parh kr boht hi acha laga... aap nay jo message dia hay wo bilkul samaj aa gia hay .. or aap ka andaz lajawab hay... youn lag raha tha jesay main khud is waqt karachi k is museum main mujood hon. .. Balauch shb the Great.... khush kr dia aap nay
aadarshlaghari Sep 17, 2013 01:01pm
Dear Akhtar sahib, The best thing about this blog is, of course, the window, the forgotten, covered-with-cobwebs window of our not so distant history. There cannot be any disagreement that the light your research sheds on the forgotten heritage of our political and cultural history is the beauty of your writings. I am certain your work is soon to receive the actual praise it deserves. Rare are those thirsty souls whose thirst can only be quenched with hard work and result, productive and praiseworthy result. ABOUT THE RECORDING: Sir, I believe the recording could have been much better. Considering the technical acumen is quite visible, I believe a bit more concentration can make the sound of your voice more appealing. The reading style, too, I beg to state, is a bit unnatural. I could have said that the use of 'hum' (English: us, the first person group pronoun) should be avoided, but I believe that is the style of authorship - skin that cannot be changed. I hope the recording becomes better. I will copy this comment onto the second part as well, since I have heard and read both the parts consecutively, my comment is collectively for both of them. Sincere Regards...

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025