وکٹوریہ میوزیم کی تلاش - 1
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو -- اختر بلوچ --.
is blog ko Hindi-Urdu mein sunne ke liye play ka button click karen [soundcloud url="http://api.soundcloud.com/tracks/110042530" params="" width=" 100%" height="166" iframe="true" /]
ہمارے ایک ملتانی سرائیکی دانشور دوست محبوب تابش نے ہمیں فون پر اپنے کراچی آنے کے بارے میں بتایا۔ اُس کے ساتھ ہی یہ فرمائش بھی کر ڈالی کہ وہ وکٹوریہ میوزیم بھی دیکھنا چاہیں گے۔ ہم نے بھی حامی بھر لی۔ تین دن بعد وہ کراچی پہنچ گئے۔ اس دوران ہم وکٹوریہ میوزیم والی بات بھول چکے تھے۔ ہم اُنھیں پریس کلب کے قریب ایک رہائشی ہاسٹل لے گئے۔ نہانے دھونے سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے کہا کہ میوزیم کب چلیں گے۔ اب ہم اُنھیں کیا بتاتے کہ ہمیں وکٹوریہ میوزیم کی جگہ کے بارے میں کُچھ معلوم ہی نہیں! بہرحال وہ خود ہی بھانپ گئے۔ بولے کوئی بات نہیں آج اردو بازار چلتے ہیں کل میوزیم چلیں گے۔ ہم نے بھی سُکھ کا سانس لیا اور سوچا کہ کل تک تو پتہ چل ہی جائے گا کہ میوزیم کہاں ہے۔ رات کو ہم نے دو تین دوستوں سے اس بارے میں معلوم کیا۔ سب نے کراچی میں وکٹوریہ میوزیم کے وجود سے انکار کیا۔ اگلے دن ہاسٹل جانے سے پہلے ہم پریس کلب پہنچے اس اُمید پر کہ شاید وکٹوریہ میوزیم کا پتہ معلوم ہو جائے۔ کلب میں ہمارے فوٹو جرنلسٹ دوست ماجد بھائی موجود تھے۔ ہم نے ان سے جب اس بابت معلوم کیا تو اُنھوں نے کہا کہ وکٹوریہ میوزیم کے بارے میں تو نہیں معلوم ہاں البتہ ایک میوزیم ہے۔ ہم نے اُن سے پتہ پوچھا تو اُنھوں نے بتایا کہ اگر آپ کا کبھی آرٹس کاؤنسل جانا ہو تو کاؤنسل کی عمارت ختم ہوتے ہی آپ کو ایک بہت بڑا پارک نظر آئے گا۔ یہ پارک عموماً ویران ہوتاہے۔ اس پارک کے درمیان میوزیم کی عمارت موجود ہے۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو -- اختر بلوچ --. میں نے ان سے کہا کہ اس میوزیم کے بارے میں ہمیں بھی معلوم ہے، لیکن یہ نیشنل میوزیم ہے۔ بہرحال میں محبوب کو لے کر پارک پہنچا۔ پارک کے مرکزی گیٹ پر نیشنل میوزیم کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک ٹکٹ گھر بنا ہوا تھا۔ جس میں کوئی موجود نہ تھا۔ میوزیم کی عمارت گیٹ سے تقریباً آدھ فرلانگ کے فاصلے پر واقع ہے۔ خیر ہم یہ فاصلہ طے کر کے میوزیم میں داخل ہو گئے۔ میوزیم کے استقبالیے پر بھی کوئی موجود نہ تھا۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر جیسے ہی پہلی منزل پر پہنچے تو اچانک دوڑتے قدموں کی آواز سُنائی دی۔ مُڑ کر دیکھا تو ایک دُبلے پتلے سے صاحب نے ہانپتے ہوئے ہم سے ٹکٹ کا مُطالبہ کیا۔ ہم نے اُنھیں بتایا کہ ٹکٹ گھر پر کوئی نہیں ہے۔ جواباً اُنھوں نے کہا کہ ہم اُنھیں 20 روپے دے دیں۔ ٹکٹ وہ منگوا دیں گے۔ ہم نے اُنھیں پیسے دے دیے۔ اُنھوں نے ہمیں نیچے انتظار کرنے کو کہا۔ کُچھ ہی دیر میں ٹکٹیں آگئیں۔ ہم نے دورے کا آغاز میوزیم کے دائیں جانب سے کرنا چاہا۔ ایک صاحب نے کہا ترقیاتی کام چل رہا ہے۔ اس لیے ہال بند ہے۔ ہم نے بائیں جانب جانا چاہا تو یہ ہی جواب ملا۔ اُن صاحب نے مشورہ دیا کہ ہم دوسری منزل پر چلے جائیں تو جناب ہم دوسری منزل پر پہنچے۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ دائیں جانب پہلی گیلری پر قبائلی تمدن گیلری لکھاتھا۔ ہم اُس میں داخل ہو گئے۔ بالکل سامنے ایک شیشے کا بڑا باکس تھا۔ اس میں کُچھ گُڑیاں اور گُڈے رکھے ہوئے تھے۔ باکس پر انگریزی میں کافرستان لکھا ہوا تھا۔ باکس کے بالکل ساتھ قدیم ہتھیاروں سے لیس ایک بہت بڑا مجسمہ تھا جس کے بارے میں ہمیں وہاں موجود اہلکار نے بتایا کہ یہ کافر کا مجسمہ ہے۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ پاکستان کے موجودہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے ازراہ مذاق اُن سے پوچھا لگتا ہے پاکستان میں کافروں کی تعداد میں روزبہ روز اضافہ ہو رہا ہے، ان کا تعلق کون سے کافروں سے ہے۔ اُنھوں نے فوراً کہا کیلاش والے۔
علامہ اقبال کا سامان، نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ گیلری میں مُختلف صوبوں کی نمائندگی کے حوالے سے کُچھ اور مجسموں کے علاوہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھی۔ اس کے ساتھ ہی تحریک آزادی گیلری تھی۔ گیلری میں تحریک کے حوالے سے سب سے اہم چیز شیشے کے دو باکسوں میں تھیں۔ ایک باکس میں علامہ اقبال کی پگڑی اور چھڑی جب کہ دوسرے باکس میں لیاقت علی خان کی گھڑی، چھڑی، لائٹر اور سونے کا عطر دان رکھا ہوا تھا۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ ایک الگ باکس میں ایک تلوار بھی تھی جو قائداعظم کو ضلعی مسلم لیگ علیگڑھ کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔ ہم اگلی گیلری کی جانب چل پڑے، یہ قران گیلری تھی۔ یہاں سب سے پہلے ہمارے جوتے اُتروائے گئے۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو -- اختر بلوچ --. اندر داخل ہو نے سے پہلے ہم نے اہلکار سے درخواست کی کہ ہماری رہ نمائی فرمائیں۔ اُنھوں اس سلسلے میں معذرت کی اور کہا کہ ہم خود ہی دیکھ لیں۔ اُنھیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ خیر ہم اندر داخل ہو گئے۔ گیلری میں قران پاک کے قدیم نسخے موجود تھے۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ اگلی باری گندھارا تہذیب کی گیلری کی تھی۔ اس گیلری میں گوتم بدھ کے مجسمے رکھے ہوئے تھے۔ اچانک ہماری نظر ایک کتبے پر پڑی جس پر ہندو مجسمے لکھا تھا۔ ہم نے وہاں موجود صاحب سے پوچھا کہ یہ تو ہندو مجسمے ہیں۔ باقی کا تعلق کن مذاہب سے ہے۔ اُنھوں نے ناگواری سے ہماری طرف دیکھا اور کہا بُدھ مت سے۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ --. اس کے علاوہ ہڑپہ، موئن جو دڑو اور ما قبل تاریخ کی گیلریاں ترقیاتی کاموں کی وجہ سے گذشتہ ایک سال سے بند پڑی ہیں لہٰذا ہمارا یہ دورہ ادھورا ہی رہا۔ عمارت سے باہر نکلنے لگے تو استقبالیہ کے بائیں جانب کُچھ مورتیاں فرش پر نظر آئیں۔ ہم اُن کی جانب بڑھے۔ ایک صاحب نے ہمارا راستہ روک کر ہمیں آگاہ کیا کہ یہ علاقہ ممنوعہ ہے۔ پتا چلا کہ یہ وہ مورتیاں ہیں جو پچھلے دنوں کراچی سے بیرون ملک اسمگل کرتے ہوئے پکڑی گئیں لیکن تحقیق کے بعد جعلی ثابت ہوئیں۔ ہم نے باتوں ہی باتوں میں اُن سے عمارت کی تاریخ دریافت کی۔ اُنھوں نے کہا کہ اس عمارت کا قیام 1970 میں ہوا۔ ہم نے اُن سے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق میوزیم جس گارڈن میں قائم ہے بہت قدیم ہے۔ اُنھوں نے اس بات سے اتفاق کیا اور بتایا کہ عمارت کے پچھلے حصے میں ایک تختی لگی ہوئی ہے اُسے دیکھ لیں۔ ہم عما رت کے عقب میں موجود باغ میں پہنچ گئے۔ بالکل آخر میں ایک تختی نظر آئی جس پر 1923 اور اس کے ساتھ ایک پلر پر 'سوبھراج چیتو مل ٹیرس' لکھا تھا۔ الیگزینڈر ایف بیلی اپنی کتاب کراچی ماضی، حال، مُستقبل میں لکھتے ہیں کہ برنس گارڈن میں ایک نئے میوزیم کا قیام عمل میں آیا جسے وکٹوریہ میوزیم کہا جاتا ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ 1851 میں فرئیر ہال کی تعمیر مکمل ہوئی تو اُس کی نچلی منزل پر ایک کمرہ میوزیم کے لیے مخصوص کیا گیا۔ جسے بعد میں برنس گارڈن مُنتقل کر دیا گیاتھا۔ اس کا افتتاح ڈیوک آف کناٹ نے کیا تھا۔ معروف مُورخ عثمان دموہی اپنی کتاب کراچی تاریخ کے آئینے میں لکھتے ہیں کہ چارلس نیپئیر نے 1844 میں سندھ کی نادر اشیاء کو جمع کرنے کی غرض سے 'سندھ ایسوسی ایشن' کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا تھا جس کا بنیادی مقصد کراچی میں ایک عجائب گھر قائم کرنا تھا۔ اس ادارے نے بہت سی نادر اشیاء جمع کیں، مگر نیپئر کی مصروفیت کی وجہ سے یہ کام آگے نہ بڑھ سکا۔ چنانچہ تمام جمع شدہ اشیاء کو ایک کمرے میں رکھ کر بند کر دیا گیا۔ 1892 میں اسے ڈی جے کالج کے لیے تعمیر ہونے والی نئی عمارت کی بالائی منزل میں منتقل کردیا گیا اور کراچی میونسپلٹی کو اس کے انتظام کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ میونسپلٹی نے اس کی خوب تزئین کی اور مثالی عجائب گھر بنادیا۔ ان ہی دنوں کراچی میں اس تحریک نے زور پکڑا کہ کراچی کے عجائب گھر کو لندن کے عجائب گھر کی طرز پر ڈھالا جائے۔ چنانچہ کراچی میوزیم کو ایک شایان شان میوزیم بنانے کے لئے عوام سے نادر اور قدیم اشیاء کی زیادہ سے زیادہ عطیات دینے کی اپیل کی گئی۔ اس دوران 21 مئی 1892 کو میوزیم کی عمار ت مکمل ہوگئی۔ اس عمارت کو وکٹوریہ میوزیم کا نام دے دیا گیا۔
نیشنل میوزیم آف پاکستان -- فوٹو اختر بلوچ محمودہ رضویہ اپنی کتاب 'ملکہ مشرق' مطبوعہ 1947 میں لکھتی ہیں کہ برنس گارڈن میں عجائب گھر ہے۔ جو کہ جنگ کی وجہ سے فریئر ہال منتقل کر دیا گیا تھا۔ عجائب گھر میں ہر مردہ جانور دوائیں لگا کر رکھا گیا ہے۔ موئن جو دڑو سے دستیاب چیزیں بھی یہاں موجود ہیں۔ ہند اور بیرون ہند کے رہنے والوں کے مجسمے اور دنیا بھر کے مشاہیر کی تصاویر اور دو انسانی ڈھانچے بھی رکھے ہیں۔ یہ سب تو اپنی جگہ ٹھیک۔ محبوب واپس ملتان چلے گئے، لیکن ہمارے ذہن میں یہ سوال چھوڑ گئے کہ آخر وکٹوریہ میوزیم گیا کہاں؟ جاری ہے...
اختر حسین بلوچ سینئر صحافی، مصنف اور محقق ہیں. سماجیات ان کا خاص موضوع ہے جس پر ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں. آجکل ہیومن رائٹس کمیشن، پاکستان کے کونسل ممبر کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں
تبصرے (20) بند ہیں