• KHI: Zuhr 12:17pm Asr 4:25pm
  • LHR: Zuhr 11:48am Asr 3:49pm
  • ISB: Zuhr 11:53am Asr 3:52pm
  • KHI: Zuhr 12:17pm Asr 4:25pm
  • LHR: Zuhr 11:48am Asr 3:49pm
  • ISB: Zuhr 11:53am Asr 3:52pm

پشاور: مردہ بچے کو جنم دینے کے بعد ’ریپ کی شکار‘ نوجوان لڑکی دم توڑ گئی

شائع May 29, 2023
لڑکی کی موت کے بعد پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کرلیا — فائل فوٹو / اے ایف پی
لڑکی کی موت کے بعد پولیس نے 24 گھنٹوں کے اندر ملزم کو گرفتار کرلیا — فائل فوٹو / اے ایف پی

پشاور میں ’ریپ کا نشانہ بننے والی‘ نوجوان لڑکی لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایک مردہ بچے کو جنم دینے کے بعد دم توڑ گئی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے ایک بیان میں بتایا کہ 15 سالہ نوجوان لڑکی کو تشویش ناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا۔

ہسپتال میں ڈاکٹروں نے لڑکی کی خراب حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی سرجری کی جس کے نتیجے میں لڑکی نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا، لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کا انتقال ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا کہ کیس کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے لیکن متوفیہ کے لواحقین پولیس کے ساتھ تعاون کرنے سے گریزاں ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس نے لڑکی کی موت کے بعد مشتبہ افراد کی پروفائلنگ شروع کر دی تھی اور 24 گھنٹوں کے اندر ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کو صوبائی دارالحکومت کے نواحی علاقے جمیل چوک سے گرفتار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ملزم نے 5 ماہ قبل لڑکی کو ریپ کا نشانہ بنانے کا اعتراف کیا تھا۔

پولیس حکام کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی ٹیم کیس کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے، جس میں مردہ بچے کے ڈی این اے کے نمونوں کا تجزیہ کرنا اور اسقاط حمل کرانے کے لیے بلائی گئی لیڈی ہیلتھ وزیٹر سے پوچھ گچھ کرنا شامل ہے۔

خیال رہے کہ صوبہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں بھی ریپ متاثرہ 14 سالہ لڑکی کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوئی تھی۔

لڑکی نے جیسے ہی بچی کو جنم دیا، اس کے فوری بعد ایک خاندان لڑکی کے والد کی رضامندی سے نومولود کو گود لینے ہسپتال پہنچ گیا تھا، اس سے قبل کہ فریقین کے درمیان معاملات طے پاتے، سی پی بی نے عدالت کی اجازت سے لڑکی اور اس کی بچی کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔

پولیس کے مطابق لڑکی کی والدہ کا انتقال ہوچکا تھا اور کام کے سلسلے میں والد کی عدم موجودگی میں لڑکی کے گھر میں اسے محلے کے کئی لوگوں نے ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 18 اکتوبر 2024
کارٹون : 17 اکتوبر 2024