• KHI: Maghrib 5:45pm Isha 7:04pm
  • LHR: Maghrib 5:04pm Isha 6:28pm
  • ISB: Maghrib 5:05pm Isha 6:31pm
  • KHI: Maghrib 5:45pm Isha 7:04pm
  • LHR: Maghrib 5:04pm Isha 6:28pm
  • ISB: Maghrib 5:05pm Isha 6:31pm

بلوچستان: ہوشاب روڈ پر سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، 3 دہشت گرد ہلاک

شائع April 13, 2023
—فائل/فوٹو: اے ایف پی
—فائل/فوٹو: اے ایف پی

سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع تربت کے علاقے میں ہوشاب روڈ پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کامیاب آپریشن کر کے 3 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز(آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بلوچستان کے ضلع تربت کے علاقہ گشکور کے ہوشاب روڈ پر دیسی ساختہ بم نصب کرنے، سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر فائرنگ کے واقعات میں ملوث دہشت گردوں کے ٹھکانے کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کا آغاز کیا گیا۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق علاقے کی مسلسل انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی کے نتیجے میں دہشت گردوں کے مقام کی نشاندہی کی گئی اور سیکیورٹی فورسز وہاں داخل ہوئیں، فورسز دہشت گردوں کے فرار ہونے کے راستے بند کر رہی تھیں کہ دہشت گردوں نے سیکیورٹی فورسز پر فائرنگ کردی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد 3 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا جب کہ دیسی ساختہ بم سمیت اسلحہ، گولہ بارود کا ذخیرہ برآمد کر لیا گیا۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز قوم کے ساتھ مل کر بلوچستان کے امن، استحکام اور ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کے علاقے لوسم میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں کے ساتھ ساتھ بھتہ خوری اور معصوم شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے۔

اس کامیاب کارروائی سے ایک روز قبل ہی خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے خفیہ کارروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق یہ عسکریت پسند سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔

گزشتہ چند مہینوں کے دوران ملک میں امن و امان کی صورتحال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی گئی ہے اور دہشت گرد گروہ ملک بھر میں کھلم کھلا حملے کررہے ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ساتھ مذاکرات کے خاتمے کے بعد عسکریت پسند گروپوں کے حملوں میں تیزی آئی، بالخصوص خیبر پختونخوا اور افغانستان کی سرحد سے متصل علاقوں میں پولیس کو نشانہ بنایا گیا جب کہ اس کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں باغیوں اور علیحدگی پسند گروپوں نے بھی اپنی پرتشدد سرگرمیاں تیز کر دی ہیں اور کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا۔

اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی 2018 کے بعد جنوری 2023 حملوں کے حوالے سے سب سے مہلک رہا کیونکہ اس دوران حملوں میں 139فیصد اضافہ ہوا اور 134 افراد ہلاک ہوئے اور ملک بھر میں کیے گئے 44 حملوں کے دوران 254 افراد زخمی بھی ہوئے۔

رواں ماہ کے اوائل میں اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے دہشت گردی کے خطرات کو ناکام بنانے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے افغانستان سے مبینہ طور پر آنے والے عسکریت پسندوں کو کچلنے کے لیے 15 دنوں کے اندر نیشنل ایکشن پلان کو دوبارہ شروع کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 14 نومبر 2024
کارٹون : 13 نومبر 2024