سندھ کی ان دیکھی تقسیم
کیا سارے پٹھان بے وقوف ہوتے ہیں؟ ناممکن- تو پھر ان کو مذاق کا نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ چونکہ ان میں سے اکثر لطیفے لوگوں کے بنائے ہوئے ہیں اس لئے میرا خیال یہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ کوئی گہری سازش ہے-
لیکن سوال یہ ہے کہ پٹھانوں کی یہ تصویر کیوں پیش کی جاتی ہے؟ میں ان تمام پٹھانوں کو یکے بعد دیگرے یاد کرتا ہوں جن سے میں اپنے کالج کے زمانے میں، اپنی ملازمت کے دوران، پڑوسیوں کے طور پر یا پھر اپنی پہچان کے سماجی حلقوں میں ، فیس بک پر مل چکا ہوں- اس دوران مجھے اندازہ ہوا کہ ان کے بارے میں گھسی پٹی باتیں کسی حد تک تو صحیح ہوسکتی ہیں، لیکن اتنی غیر معمولی نہیں کہ ان کا مذاق اڑایا جائے -
نسلیں خواہ کوئی بھی ہوں سب میں ہر طرح کی رنگا رنگی پائی جاتی ہے اور انکی اپنی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں- ان کے درمیان کچھ مسابقتیں اورکچھ تضادات ہوتے ہیں جنھیں مبالغہ آمیزی کے ساتھ توڑ مروڑ کر بیان کیا جاتا ہے- اس کی بنیاد پر میں یہ بتانے کی کوشش کرونگا کہ ہمارا آمنا سامنا جن مختلف نسلوں کے لوگوں کے ساتھ ہوتا رہتا ہے ان کے بارے میں کچھ باتیں کیوں مشہور ہو گئی ہیں- پٹھانوں کے لطیفوں پرہنسی آ سکتی ہے لیکن اس وضاحت کے بعد اس مذاق کومیں کسی امتیازی رویہ کی بنیاد نہیں بناؤں گا -
لیکن میں تسلیم کرتا ہوں کہ سندھیوں کے بارے میں گھسی پٹی باتوں کے خلاف لڑنے میں مجھے خاصا وقت لگا- کیا سندھی سیدھے سادے، نشچنت اور انتہائی سست ہوتے ہیں؟
میرے اکثر دوست ایسا ہی سمجھتے ہیں- ایک نے مذاقاً کہا کہ اگر سندھی کو اپنے گاؤں ہی میں کسی ریلوے اسٹیشن جانا ہو تو وہ فوراً بیمار پڑ جائیگا- اور خود کو پردیسی کہنے لگے گا-
یہ میرے لئے ایک سخت امتحان تھا جو ان کے بارے میں بنے بنائے خیالات کے خلاف لڑنے میں مجھے دینا پڑا- میں نے فیصلہ کیا کہ میں کہ میں ان تمام سندھی دوستوں کا جائزہ لونگا جن سے میں مل چکا ہوں یعنی میرے کالج کے ساتھی، رفقائے کار، پڑوسی، دوست وغیرہ وغیرہ - تب مجھے پتہ چلا کہ یہ تو گنتی کے لوگ ہیں- میں جس کالج میں پڑھتا تھا اس میں پاکستان کے تمام صوبوں اور علاقوں کے لوگ تھے، اور مجھے یقین ہے کہ میری ان سب سے دوستی نہیں تھی- تب میں نے اعداد و شمار سے مدد لینے کی ٹھانی-
1998 کی آخری مردم شماری کے مطابق سندھی بولنے والوں کی تعداد ایک کروڑ ستاسی لاکھ ( 7۔18ملین ) تھی اور دوکروڑ چالیس لاکھ (4 ۔20 ملین ) کی مادری زبان پشتو تھی، چنانچہ دونوں کی تعداد اچھی خاصی تھی- لیکن یہ مشابہت یہیں پر ختم ہو جاتی ہے-
سندھیوں کا روایتی علاقہ سندھ، پنجاب کے ایک صوبے رحیم یار خان کا کچھ حصّہ اور سندھ کی سرحد سے ملا بلوچستان کا کچھ علاقہ ہے- 1998 میں لگ بھگ پچاس ہزار سندھی بولنے والے افراد اس "سندھی علاقے" سے باہر رہ رہے تھے اور آپ بآسانی یہ کہہ سکتے ہیں کہ 375 میں سے صرف ایک سندھی ملازمت، کاروبار یا کسی اور سماجی اور معاشی مجبوری کی وجہ سے اپنے روایتی وطن سے باہر رہ رہا تھا-
اب اس کا مقابلہ پشتونوں سے کیجئے- ان کی اچھی خاصی بیس لاکھ (دو ملین) کی آبادی پنجاب اور سندھ میں رہتی تھی- (1998 کی مردم شماری کے مطابق)، یعنی ہر دسواں پٹھان اپنے روایتی وطن سے باہررہ رہا تھا- پنجاب کے چار اضلاع میں ان کی آبادی 100٫000 سے زیادہ تھی ان میں سے دو اضلاع میانوالی اور اٹک کم و بیش ان کے دوسرے وطن جیسے ہیں-
دوسرے دو اضلاع یعنی راولپنڈی اور لاہور میں یا تو وہ ملازمت کی وجہ سے یا پھر کاروبار کی وجہ سے رہائش پذیرہیں تو زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پنجاب کے اضلاع میں پشتونوں کی آبادی کا تعلق اس علاقے کی معیشت کے سائز سے جڑا نظرآتا ہے-
یہی معاشی تعلق کراچی سے بھی ہے جو ملک کا سب سے بڑا میٹروپولیٹن شہر ہے جو معاشی سرگرمیوں، صنعتوں اور مالیاتی اداروں کا مرکز اور ملک کی اہم تجارتی بندرگاہ ہے- گزشتہ مردم شماری کے مطابق نواسی لاکھ ( 8٫9 ملین) کی نصف آبادی کی مادری زبان اردو ہے جبکہ ایک چوتھائی آبادی پشتو اور پنجابی بولنے والوں کی ہے اور سندھی بولنے والوں کی تعداد سندھ کے اس دارالحکومت کے محض پانچ فی صد حصّے پر مشتمل ہے جس میں سے نصف آبادی ملیر کے نواحی علاقوں میں رہتی ہے- اس کے برعکس کراچی میں پشاور سے زیادہ پشتون رہتے ہیں جو پختون خوا کا دارالحکومت ہے!
پشتونوں اور دیگر زبان بولنے والوں کے درمیان لسانی رکاوٹ سندھی اور دیگر زبان بولنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ یہ رکاوٹ پشتونوں کے آگے نہیں آئی اور اس کے برعکس محسوس یہ ہوتا ہے کہ سندھیوں کو کوئی بھی چیز ان کے گھروں سے دور نہیں کرسکتی-
جو بات مزید پیچیدہ دکھائی دیتی ہے وہ یہ ہے کہ سندھی اپنے گھروں سے جڑے اسلئے نہیں رہتے کہ ان کے گھر آرام دہ اور زندگی خوش حال ہے بلکہ معاملہ اس کے برعکس ہے- سندھ کی معیشت ملک کے دیگرعلاقوں کے مقابلےمیں بد ترین ہے- اس کے بہت سے علاقوں میں لوگوں کی بڑی تعداد پورے پاکستان کے مقابلے میں بد ترین افلاس کا شکار ہے-
معاشی محرومیاں عموماً لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نکالتی اور انہیں دیگرعلاقوں میں مواقع تلاش کرنے اور خطرات مول لینے پر آمادہ کرتی ہیں لیکن سندھیوں کے معاملے میں ایسا نہیں ہے- وجہ خواہ کچھ بھی ہو وہ اپنی ہی کٹیا سے جڑے رہتے ہیں یا شائد پھر وہ ان زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؟
ان اعدادوشمار کی بنیاد پر میں اس نتیجے پر پہنچ سکتا تھا کہ سندھیوں کے بارے میں یہ مشہور باتیں زیادہ تر من گھڑت ہیں- یہ حقیقت ہے کہ بعض وجوہات کی بنا پر --جن کی کوئی خاص وضاحت نہیں کی جاسکتی-- یہ سیدھے سادے اوراپنے گھروں سے گہری وابستگی رکھنے والے اطاعت گزار لوگ ہیں جو زیادہ مہم جو نہیں ہوتے --- لیکن اسی دوران میری ملاقات ایک ہندوستانی دوست سے ہوئی- ہم لوگ سیاست پر بات چیت کررہے تھے کہ اچانک گفتگو کا موضوع سندھی بن گئے- مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ سندھیوں کے بارے میں ہم دونوں کا مشاہدہ نہ صرف یہ کہ مختلف تھا بلکہ بالکل برعکس! جیسے جیسے میں گہرائی میں اترتا گیا، پاکستانی اور ہندوستانی سندھیوں کے درمیان روائتی فرق بڑھتا گیا-
مجھے تو یقین ہی نہیں آرہا تھا! اس مضمون کو لکھنے سے پہلے میں نےاپنے فیس بک کے دوستوں سے انکی رائے جاننا چاہی کیونکہ میں یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ میرا خیال غلط تو نہیں ہے- لیکن وہ سب یک رائے تھے- ان لوگوں کی نظر میں سندھی ہونے کا مطلب ہے ایک کامیاب اور دولتمند تاجر، خطرات کا سامنا کرنے کیلئے تیار، جو مشکل ترین صورت حال کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمیشہ تیار رہتا ہے، تیز طرار، ہوشیاراورعیار --- یہ تھے وہ الفاظ جو انہوں نے سندھیوں کیلئے استعمال کئے- یہ لوگ نمائشی، الٹرا فیشن ایبل اور بڑی کاروں کے دلدادہ ہوتے ہیں اور اپنے بچوں کو صرف انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھاتے ہیں-
بلا شبہ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہندوستان کے تمام سندھی ایسے ہی ہوتے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہندوستان میں ان کے بارے میں اکثریت کی رائے یہی ہے-
ہندوستان کے بہت سے سندھی ہندوستان سے باہر بھی کامیابی کے ساتھ اپنا بزنس چلارہے ہیں خاص طور پر سنگاپور، امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں، تاہم لاہور میں بھی تقریباً ہر کونے پرآپ کوکئی پشتونوں بلکہ سکھوں کی بھی کپڑے کی دکانیں نظرآئیں گی لیکن سندھی تاجر شائد ہی کبھی دکھائی دے- مشرق وسطیٰ میں کام کرنے والے مزدور تقریباً سبھی پنجابی یا پشتون ہیں-
ایسا کیوں ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے سندھی دو مختلف سمتوں میں کھڑے ہیں؟
میں نے اس بات کو سمجھنے کی تھوڑی بہت کوشش کی اور مجھے اس کی ممکنہ وجہ یہ نظرآتی ہے کہ؛
تقسیم کے وقت سندھیوں کی شہری آبادی تقریباً دس لاکھ تھی جس میں نصف سے زیادہ آبادی ہندوؤں کی تھی- اس میں کراچی بھی شامل تھا- یہ لوگ اس صوبے کے دیہی علاقوں میں بھی آباد تھے-
آبادی/سال |
1931 |
1941 |
1951 |
1961 |
کراچی |
301٫000 |
436٫000 |
1٫055٫000 |
1٫931٫000 |
حیدراباد |
102٫000 |
135٫000 |
242٫000 |
435٫000 |
سندھ / دیہی |
588٫000 |
788٫000 |
1٫549٫000 |
2٫713٫000 |
سندھ/ ٹوٹل |
3٫887٫000 |
4٫535٫000 |
6٫054٫000 |
8٫367٫000 |
ففٹی ایرز آف پاکستان ان اسٹیٹسٹکس - جلد دوم ( 97-1947 ) گروتھ آف سلیکٹڈ ٹاونز فرام 1981 - 1901 صفحہ 45 فیڈرل بیورو آف اسٹیٹسٹکس، جی او پی۔ سندھ کی مجموعی آبادی کے اعدادوشمار کے لئے کلک کریں-
تقسیم سے پہلے کے سندھ میں نہ صرف یہاں کی تاجر برادری ہندوؤں پر مشتمل تھی بلکہ پروفیشنل اداروں میں بھی وہ اکثریت میں تھے- آج کے پاکستان میں دو مذہبی اقلیتوں عیسائیوں اور ہندوؤں کی آبادی تقریبا یکساں ہے (اس میں شیڈیولڈ کاسٹ بھی شامل ہیں جنھیں پہلے ہندو-جاتی کی طرح الگ شمار کیا جاتا تھا) لیکن اس تعدادی یکسانیت کے باوجود آج سندھ میں آپ کوہندو ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا تاجر مل جائیگا جبکہ پنجاب میں اس معاشی مرتبہ کے حامل عیسائی نظر نہیں آئینگے-
میرا خیال ہے کہ بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ تقسیم سے پہلے کے سندھ میں متوسط طبقے میں ہندوؤں کی اکثریت تھی گرچہ کہ صرف وہی سندھی متوسط طبقہ نہیں تھے- جیسا کہ پنجاب میں جاگیردار اور زمیندار مسلمان تھے اور ان کی رعیت بھی، جو زیادہ تر بے زمین ہاری تھے -
شیڈیولڈ کاسٹ (ہندو-جاتی نہیں) سے تعلق رکھنے والے ہاری بھی اچھی خاصی تعداد میں تھے جو آج بھی سندھ کے غریب ترین ریگستانی علاقوں میں اکثریت میں ہیں-
اعلی طبقہ اور نچلا طبقہ دونوں ہی ہمیشہ استحصالی معیشت کے بندھے ٹکے معمول کے اسیر ہوتے ہیں - نہ تو ان میں صلاحیت ہوتی ہے اور نہ ہی انہیں موقع ملتا ہے کہ وہ حالات کو بدل سکیں- اس کے برعکس متوسط طبقے کے پاس وقت اور نسبتاً موقع بھی ہوتا ہے کہ وہ نئی سوچ پیدا کریں --- خطرات کا مقابلہ کریں اور نئے راستے تلاش کریں- یہ طبقہ ہر معاشرے میں تبدیلی کا نقیب، تخلیق کا سرچشمہ اور نئی نئی سرگرمیوں کے کلچر کا مرکز ہوتا ہے- نچلا طبقہ انہیں امید کا مینار تصور کرتا ہے-
ہندوستان اور پاکستان کی علیحدگی کے بعد یہی وہ طبقہ تھا جسے راتوں رات سندھ کو خیرباد کہنا پڑا- اکثر ذرایع کا کہنا ہے کہ تقریباً آٹھ لاکھ سندھی ہندوؤں نے ہندوستان کا رخ کیا - شیڈیولڈ کاسٹ کی اکثریت جو ہندو-جاتیوں کے مقابلے میں زیادہ غریب تھے یہیں رہ گئے-
سندھ کی مجموعی آبادی ان دنوں تقریبا 50 لاکھ تھی اور میرا خیال ہے کہ سندھ کا متوسط طبقہ دس لاکھ سے زیادہ نہیں رہا ہوگا- 1947 کی تقسیم کے سلسلے میں جو تجزیے پیش کے گئے ان میں عموما دونوں ممالک کی طرف سے ہجرت کرنے والوں کی نسلی اور مذہبی شناخت پر ضرورت سے زیادہ زور دیا گیا لیکن ان کی طبقاتی تقسیم کی جانب کم توجہ دی گئی ہے کہ اس کے اثرات ان معاشروں پر کیا مرتب ہوئے جنہیں وہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے تھے یا جن میں وہ شامل ہوگئے-
متوسط طبقے کی ہجرت نے سندھی معاشرے کو اپاہج بنا دیا- اس کی وجہ سے سندھی معاشرہ ان تمام خصوصیات سے محروم ہو گیا جو اس طبقے سے مخصوص ہیں- کیا پاکستان کے سندھیوں میں آج آگے بڑھنے کی امنگ اس لئے کم ہے، وہ سیدھے سادے اور اپنے گھروں سے اس لئے جڑے ہوئے ہیں کہ وہ طبقہ جو ہنر مند، توانا اور پرعزم تھا 1947 میں اپنا وطن چھوڑ گیا؟
وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ لوگ بندھی ٹکی روایتوں سے منسلک ہیں بلکہ اسکا تعلق بطور سماج سندھ کی مجموعی معاشی امنگوں سے ہے ---- اگر اس میں سے متوسط طبقے کی امنگوں کو نکال دیا جائے تو نتیجہ صفر ہوگا-
سندھ کے متوسط طبقے کی ہجرت سے جو خلا پیدا ہوا اسے فوری طور پر ان لوگوں نے پر کیا جو شمالی ہندوستان کے مختلف علاقوں سے یہاں آئے تھے اور چونکہ وہ خود کو ایک بہتر پوزیشن میں محسوس کر رہے تھے اس لئے ان لوگوں نے ان دو طبقات کے ساتھ ---- سندھ کا اعلی طبقہ اور نچلا طبقہ ---- مشترکہ کاز تشکیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں کی-
تقسیم کے نتیجے میں ہونے والے فسادات نے سندھ کی ثقافت کو نقصان پہنچایا- میں نہیں بتاسکتا کہ اگر اس کا موازنہ جغرافیائی خطہ زمین سے کیا جائے تو یہ نقصان کتنا تھا- آج سندھ میں نچلا اور اعلیٰ طبقہ ثقافتی اور لسانی لحاظ سے سندھی ہے جبکہ اردو بولنے والا متوسط طبقہ نہ صرف دونوں کیلئے اجنبی ہے بلکہ یہ اپنی ایک علیحدہ شناخت اور آزاد سیاست چاہتا ہے-
تقسیم --موجودہ پاکستان میں-- نے سب سے زیادہ کاری ضرب سندھ پر لگائی- اسکی وجہ سے وہ ان امکانات سے محروم ہوگیا کہ اپنے مختلف طبقات کی جدوجہد کو کسی ترقی پسندانہ سیاسی سمت میں گامزن کرسکے-
ماضی میں سندھ کا معاشی ڈھانچہ ایک واضح مذہبی تقسیم رکھتا تھا کیونکہ اس کے متوسط طبقے کے مذہبی اعتقادات سماج کے اعلیٰ اور نچلے طبقے کی اکثریت سے مختلف تھے-
1947 میں اسے مذہبی وحدت تو حاصل ہوگئی لیکن وہ اپنے طبقات کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی سے محروم ہوگیا- میرا خیال ہے کہ اگر سندھ نے آخرالذکر کو ترجیح دی ہوتی تو شائد اتنا منقسم اور پرتشدّد نہ ہوتا جتنا کہ آج ہے-
طاہر مہدی، ایک ریسرچ اور ایڈوکیسی گروپ، پنجاب لوک سجاگ کے لئے کام کرتے ہیں- اس گروپ کی بنیادی دلچسپی اسلوب حکمرانی اور جمہوریت کو سمجھنا ہے-
ترجمہ: سیدہ صالحہ
تبصرے (4) بند ہیں