• KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am
  • KHI: Fajr 5:07am Sunrise 6:24am
  • LHR: Fajr 4:29am Sunrise 5:51am
  • ISB: Fajr 4:31am Sunrise 5:55am

جھوٹی تاریخ

شائع August 8, 2013

فائل فوٹو۔۔۔
فائل فوٹو۔۔۔

ایس آئی یو ٹی (SIUT) کا سنٹر فاربائیومیڈیکل ایتھکس اینڈ کلچر(CBEC) وقتاً فوقتاً دلچسپ اجتماعات کا اہتمام کرتا رہتا ہے جس میں ممتاز دانشوروں کو سنٹر کے اراکین سے خطاب کرنے کی دعوت دی جاتی ہے-

اخلاقیات کا موضوع اپنے اندر خاصی وسعت رکھتا ہے اس لئے یہاں مختلف موضوعات پر جو فکر انگیز تقاریر کی جاتی ہیں وہ سامعین کومختلف مسائل پر غوروفکر کرنے کی دعوت دیتی ہیں-

جولائی میں ڈاکٹرعارفہ سیدہ زہرہ جو لاہور کے ایک کالج میں تاریخ پڑھاتی ہیں سی بی ای سی کی مہمان تھیں اور انہوں نے جس اثر انگیزی اور معقولیت کے ساتھ ایک نکتہ اٹھایا وہ یہ تھا کہ جو لوگ تاریخ کو مسخ کرتے ہیں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ عوام کی اجتماعی سوچ کو اسطرح کھرچ دیا جائے کہ اس کا نشان تک باقی نہ رہے-

اس غارت گری کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ تبدیلیوں کو روکنے کے اقدامات پہلے ہی سے کر لئے جائیں- ڈاکٹر عارفہ زہرہ اس سلسلہء عمل کو افراد اور معاشرہ کا مشکل ترین عمل قرار دیتی ہیں-

ان کا مفروضہ جسے انہوں نے وضاحت اور سادگی کے ساتھ اردو زبان میں پیش کیا جس میں مزاح اور طنز کی چاشنی بھی تھی وہ یہ تھا کہ تاریخ ایک ایسا اوزار ہے جس کے ذریعہ قوموں کے ماضی میں ہم اچھائی اوربرائی میں تمیز کرنے کا سراغ لگا سکتے ہیں اور ماضی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا یہ تجزیہ ہمیں حال میں تبدیلیوں کی شروعات کرنے میں مدد دیتا ہے-

ہمارے ملک میں اس عمل کو روک دیا گیا ہے کیونکہ پاکستان کا مقدر جن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے وہ نہیں چاہتے کہ اس قسم کی تبدیلیاں واقع ہوں- مذہب ان کی توجہ کا اس درجہ محور بن گیا ہے کہ وہ ماضی کے واقعات کو مسخ کر دیتے ہیں اور لوگوں کی توجہ معمولی روایات کی طرف موڑ کربحث میں الجھا دیتے ہیں تا کہ اہم مسائل سے ان کی توجہ ہٹ جائے-

چنانچہ ڈاکٹر عارفہ زہرہ نے جس بڑے جھوٹ کو بے نقاب کیا اس کا تعلق اس مفروضہ نظریہ پاکستان سے ہے جسے غیر محتاط قیادت کی بڑی تعداد نے مذہب کے ذریعہ رائج کرنا چاہا- جو روایتی سوچ اس نظریہ کو بے دریغ طور پر فروغ دینے کیلئے استعمال کی گئی وہ یہ تھی کہ "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا الله" تحریک پاکستان کا مرکزی نعرہ تھا-

ڈاکٹر عارفہ زہرہ کا استدلال یہ تھا کہ تاریخ کی تحقیق سے حتمی طور پر پتہ چلتا ہے کہ یہ نعرہ 1968 میں ایوب کے دور حکمرانی میں وضع کیا گیا تھا اور اس وقت سے لیکر اب تک پاکستان کی تاریخ کی ایک حقیقت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے-

جب تمام قوانین مجوزہ طور پر مذہب کی بنیاد پر بنائے جائیں تو پھر ایسے قائدین کو لامحدود اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں جو بیک وقت جج، جیوری اور جلاد بن کر ان قوانین کی تشریح اور عمل درآمد کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں-

اس طرح وہ اپنے لئے ایسا ماحول قائم کر لیتے ہیں جس میں وہ سادہ لوح عوام کو پھآنس کر انھیں بے بس کر دیتے ہیں اور کوئی انکے اس جال سے نکلنا نہیں چاہتا کیونکہ انھیں ایک غیر یقینی مستقبل کا سامنا ہوتا ہے-

انتہائی بہیمانہ جرائم کا ارتکاب کرنے کے بعد مذہب کا ایسی دیدہ دلیری سے استعمال کس نے نہیں دیکھا ہے؟ انکو کوئی چیلنج نہیں کر سکتا-

تاریخ کو مسخ کرنے کے عمل نے دائیں بازو کے قدامت پسند اسلام کےعلم برداروں کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے نظریاتی قلعے تعمیر کریں جو درحقیقت ریت پر بنائے جانے والے گھروندوں کی مانند ہیں-

چنانچہ یہ نظریہ بھی مسخ شدہ ہے کہ پاکستان اس لئے بنایا گیا کہ جنوبی ایشیا کے مسلمان اپنے لئے ایک علیحدہ ریاست حاصل کریں تا کہ وہ مروجہ اسلامی نظام کے مطابق ایک نظریاتی ملک تشکیل دے سکیں-

ڈاکٹر مبارک علی ایک دوسرے تاریخ دان ہیں جنھیں تاریخ کو مسخ کئے جانے پر افسوس ہے- ان کا نقطہء نگاہ بھی وہی ہے جو ڈاکٹرعارفہ زہرہ کا ہے-

وہ لکھتے ہیں "ہماری ریاست تاریخ کو اپنے سیاسی اور نظریاتی مفادات کیلئے استعمال کرتی ہے- یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ پاکستان نظریاتی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں آیا- چنانچہ پاکستان میں سرکاری سطح پرتاریخ کا مقصد یہ ہے کہ ریاست کی آئیڈیالوجی کو ایک قانونی شکل دی جائے اور تاریخ کو ایک ایسے سانچے میں لکھا جائے جو حکمران طبقات کے مفادات کے مطابق ہو-"

اس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ ہم اپنے مختلف مسائل کا حل ڈھونڈنے میں ناکام کیوں رہے- اسی وجہ سے ہم نئی ٹکنولوجی کی مخالفت کرتے ہیں، جس میں چاند دیکھنے کے موقع سے لیکرجو ہماری زندگیوں پر ہر سال اثر انداز ہوتا ہے، اسلامی نظریاتی کونسل ریپ کے مقدمات میں ڈی این اے ٹیسٹ کو شہادت کے طور پر قبول کرنے سے منکر ہے-

ہم "دوسروں" کی جانب برداشت اور رحمدلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتے کیونکہ مذہب کے تعلق سے ہمارا نظریہ روایت پرستانہ ہے- اس میں دیگر ثقافتی اقلیتوں کی کوئی گنجایش نہیں ہے-

ہم اپنے بچوں میں تجسس کا مادہ پیدا کرنا نہیں چاہتے، ہم انہیں سوچ بچار کرنے سے روکتے ہیں کیونکہ ہمیں ڈر اس بات کا ہوتا ہے کہ کہیں وہ غلط قسم کے سوالات نہ کر بیٹھیں جس سے ان کا "ایمان" کمزور ہو جائے-

ڈاکٹر عارفہ زہرہ کے مطابق تاریخ کا ایک کردار یہ بھی ہے کہ وہ ہمارے سماجی - ثقافتی اقدار اور اخلاق کا تحفظ کرے- عوام کا اجتماعی حافظہ سماج میں نیکی اور بدی کے درمیان تمیز کرنے میں مدد دیتا ہے- گیہوں کو بھوسی سے چھان پھٹک کرنے کا عمل ہماری ترجیحات کا تعین کرتا ہے اور ہمارے اخلاقی ورثے کی بنیاد فراہم کرتا ہے-

اگر اجتماعی حافظہ کو کھرچ دیا جائے یا انہیں مسخ کر دیا جائے تو عوام اس ذریعہ سے محروم ہو جاتے ہیں جن سے وہ اپنے ماضی کے اچھے اوربرے تجربات کا جائزہ لے سکیں-

ان حالات میں اخلاقیات کو ایک بہت بڑے چیلنج کا سامنا ہے-

سی بی ای سی کے تحت ہونے والے مختلف مباحث میں حساس نوعیت کے مسائل زیر بحث آئے جن کا ادویات سے خصوصی تعلق ہے مثلا زندگی اور موت، عضویات کا کاروبار، اعضاء کی پیوند کاری اور سکوں بخش دوائیں- ٹکنولوجی اور مواصلات کی تیز رفتار ترقی کے پیش نظرجسکے نتیجے میں نئے نئے نظریات معاشرے میں فوراً سرائت کر جاتے ہیں، نئے اخلاقی اصول و ضوابط بنانے کی ضرورت ہے-

آپ کو یاد ہوگا کہ ٹرانسپلانٹیشن سوساِئٹی آف پاکستان کوبعض غیر محتاط یورولوجسٹ کے خلاف جدوجہد کرنی پڑی تھی جو ملک میں عضویات کی فروخت کے کاروبارکوفروغ دے رہے تھے- ان لوگوں نے وفاقی شریعت کورٹ میں درخواست دی تھی جسکی بنیاد یہ تھی کہ ٹرانسپلانٹیشن آف آرگن اینڈ ٹشوز آرڈیننس اسلامی قوانین کے خلاف ہے- یہ روشن خیال جج جسٹس حاذق الخیری ہی تھےجنہوں نے عضویات کے کاروبار کے خلاف فیصلہ دیا-

تاریخ ہماری رہنمائی کرسکتی ہے لیکن صرف اس وقت جبکہ دیانتداری سے تحقیق و جستجو کی جائے اور دیانتداری سے لکھا جائے- ماضی کے حوالے کے بغیر اخلاقیات کے اصول وضوابط بنانا مشکل ہے- خاص طورپران حالات میں کہ معاشرے میں مختلف ادوار میں مختلف ثقافتی اور اخلاقی اقداراور ایقانات مروج رہے ہوں-


ترجمہ: سیدہ صالحہ

زبیدہ مصطفی

www.zubeidamustafa.com

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبصرے (9) بند ہیں

hafiz Aug 08, 2013 12:59pm
ہماری مذہبی تعلیمات میں ہے کہ"قربِ قیامت میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا کہا جائے گا "۔مندرجہ بالا مضمون اس کی واضح شہادت، اور اوپر سے ڈاکٹر مبارک علی کی تاریخ دانی کا تذکرہ سونے پہ سہاگہ ہے۔ کم از کم اردو کی دنیا میں ڈاکٹر مبارک علی سے تاریخ کو مسخ کرنے والی شخصیت ہمارے دیکھنے میں نہیں آئی ہے.وہ تاریخی حقائق کو بیان کرنے کی بجائے ہمیشہ ان میں قطع و برید کے بعد ایک مقدمہ قائم کرتے ہیں اور اس پراپنےچرب شدہ ذہنی فلسفے کے ڈونگرے برساتے ہیں---اورسمجھے جاتے ہیں ہمارے جدت پسندوں اور خواہش پرستوں کے ہاں عظیم تاریخ دان----- اب یہ نئی دریافت ڈاکٹر عارفہ زہرہ کو ہی لے لیجئے،تصور پاکستان پر اعتراض بایں معنی کے قیام پاکستان سے قبل" پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا الله" کا نعرہ نہیں لگا تھا؟؟؟ ایسی مسخ شدہ تاریخی پیشکش ہے جس کی مثال نہیں ملتی۔ اصل تاریخی حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ملک کا لادین طبقہ اس خوش فہمی میں رہا کہ بیرسٹر جناح نئے ملک کے حصول میں مولویوں سے جتنے بھی تعلقات بڑھا لیں یا انھیں اپنے موافق استعمال کرلیں؛وہ ہمارے ہی ہیں.کیونکہ ان کی اٹھک بیٹھک پینا پلانا،پوشاک و لباس تو ہمارے جیسا ہی ہے،اور یہاں کا دیندار طبقہ یہ سمجھتا رہا کہ حضرت قائد اعظم محمد علی جناح چاہے ظاہر میں کیسے ہی سیکولر نظر آئیں اندر سے پکے مسلمان ہیں۔ غورطلب بات یہ ہے کہ اگر وہ پکے لادین ہوتے تو پاکستان کو سیکولر ملک بنانے کی ان کی کوششیں پوری طرح کامیاب ہوجاتیں،اور اگر وہ اندر سے پکے مسلمان ہوتے تو کم از کم پاکستان میں اصل اسلام کی راہ مسدود نہ ہوتی۔ وہ کیا تھے؟؟ یہی چبھتا ہوا سوال ہے،اور اس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ وہ کچھ بھی ہوں بہر حال متحدہ ہندوستان کےاس وقت کےحکمرانوں کا اک عہدِ وفا تھے۔وہ اتنے جذباتی نہیں تھے کے لامذھبی کے جوش میں آکر مذھب کو گالی بنا دیں اورھکمرانی کے آداب گنوا بیٹھیں!
hafiz Aug 08, 2013 01:13pm
اورجہاں تک ہمارے روشن خیالوں کے ہاں کبھی ایوب کا نام لے کر یا ضیاء کا نام لے کر فوج کی مولویانہ تصویر کشی کی بھونڈی کوشش کی جاتی ہے اس سے بڑھ کر تاریخی اور دور حاضر کا جھوٹ کوئی نہیں ہوسکتا۔میں سمجھتا ہوں کہ چاہے کوئی ڈان جیسا نئی روشنی کی بھٹی مہکانے والا اخبار ہو یا منٹو کے افسانوں میں تسکین روح کے راستے تلاش کرنے والا جدت پسند ؛ کوئی ہماری فوج سے زیادہ سیکولرازم کا علمبردار یا لبرل ازم کا آینہ دار نہیں ہوسکتا،لہذا فوج پہ برسنے والے اگربوٹوں کے پانی سے اشنان کرنا شروع کردیں تو ہوسکتا ہے اان کی مرادیں جلد بھر آئیں!
Azeem Aug 08, 2013 08:22pm
Wah G Hafiz Sb, Kya layani aitraz kya hay, Sachay ko jhoota kahna or Jhootay ko sacha kahna tu ap ki mazhabi tareekh ki asaas hay, nam liyay baigair kah raha hoon jisay bhee ap sacha kahain gay ap tareekh say hawala lain gay or wo tareekh masakh shuda ho ge q kay kay wo koi wahi a ilahi tu nahi, dosri bat kay kalma tayyaba ka nara ayub dour main laga ye tu koi diputed baat hay he nahi tamam tareekh daan isay mantay hain, ap ka ye aitraz bhee bay wuqat nikla. ap nay jinah sab ki shakhsiat k jis pahloo ko ujagar karnay ki koshish ki hay wo aisay bilkul nahi thay wo apnay qoul or fael main aik jaisay he thay wo jhootay or munafaq nahe thay ap ki safai un pr tohmat hay,bhai jan ap ko afgan war yad hay kon tha jo America kay liyay lada or kon tha jis nay ladaya or million dollor kamay or aj DIK or bunno jail ka waqai kya hay or usama ki commission report kay baaray tu ap nay padha he ho ga ya phr KARGIL ko tu ap jantay he hoon gay warna zara balochistan main foj ki activities ko bagoor daikh lain tu ap ko pata chal jaye ga ye jootay jo paon main hain kahan honay chahiyan. Bhai agar ham tareekh say nahe sikhain gay tu durast nahe hoon gay ap dr mubarak &company ko chodain or ye daikhain kay hamaray mulk main kya ho raha hay or iss ka zimma daar kon hay
ْقمرالزماں خاں Aug 09, 2013 04:07am
بہت خوب
ْقمرالزماں خاں Aug 09, 2013 04:15am
حافظ صاحب ڈاکٹر مبارک ایک قابل قدر سکالر کا نام ہے ۔اگر تاریخ میں انہوں نے درست نہیں لکھا تو پھر آپ کی مرضی ہے اور جہاں تک پاکستان بنانے کا تعلق ہے تو مہربانی فرماکرخود کو اپ ڈیٹ کریں۔فرسودہ نصاب تعلیم والی باتوں کا زمانہ اب لدہ گیا۔ فوج جو کچھ ہے کیا کسی پاکستانی کو بتانے کی ضرورت ہے اس بارے میں؟
Faisal Aug 09, 2013 11:08am
و۱ہ حافظ صاحب زبردست! دل خوش کر دیا آپ نے شکر ہے کؤی تو آیا ڈان اردو کے ان اوٹ پٹانگ اورحقايق سے یکسر نابلد لکھاریوں کے یکطرفہ تابڑ توڑ کالموں کے جواب میں سچ اورحق کی بات کرنیوالا
hafiz Aug 09, 2013 11:27am
ڈاکٹر مبارک توایک استعارہ ہیں،ہمیشہ تاریخ میں ردوبدل قابلِ ذکر اسکالر ہی کرتے آئے ہیں۔اورجہاں تک پاکستان بنانے کا تعلق ہے تو یہ بات پتھر پہ لکیر کی طرح ثابت ہے کہ یہ اسلامی نظام چاہنے والوں کے ساتھ ایک تاریخی بلنڈرتھا۔اسلام کا نام لے کر دھوکہ دیا گیا اورپاکستان بننے کے بعد اس ملک کو آدھا تیتر آدھا بٹیر بنا کے چھوڑ دیا گیا۔اگر محض سیکولرازم ہی چاہیے تھا تو تقسیم کی کیا ضرورت تھی؟ اور یادرکھیےاپ ڈیٹ تب ہی ہوا جاتا ہے جب اصل سافٹ ویر آپ کے کمپیوٹر میں انسٹال ہو،بے بنیاد دعووں کے ذریعے یاہوا میں محض فرسودہ نصابِ تعلیم کے رٹی رٹائی باتوں کے تذکرہ سے اپ ڈیٹ نہیں ہوا جاتا،مذکورہ تاریخی حقائق سامنے رکھے بغیرخود ساختہ اصولوں پر نظریے قائم کر لینا ہمارے لیے ہرگز روا نھیں۔ رہی فوج کی بات تو عوام کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی سچی خیر خواہ ہونے کی وجہ سے یہاں اپنی حکمرانی کا دوام چاہتی ہے،وہ چاہے لوگوں کو نیکریں پہنا کر سڑکوں پر دوڑانے سے ہو یا ایمان تقوی جہاد کے نعرے لگانے سے، اسی لیے تووقتاً فوقتاً دونوں ٹولز استعمال کیا جاتے ہیں، کبھی ضیاء اور کبھی مشرف!
hafiz Aug 09, 2013 12:11pm
تاریخی حقیقت کو لایعنی اعتاض سمجھنا ؟؟ یہ آپ کی سمجھدانی کا ہی کمال ہوسکتا ہے؟ بھلا آپ بتانا پسند کریں گے کہ پاکستان کی تاریخ پرجتنی کتابیں لکھی گئی ہیں ووہ کونسی ہیں؟ اوران تمام تاریخ دانوں میں سے ذرا گنوا دیں؟ کوئی پانچ سات نام کے جنھوں نے بقول آپ کے کلمہ طیبہ والی بات کا رد کیا ہے؟ مسلم لیگ کوئی مولویں کی جماعت نھیں تھی نامی گرامی سیاستدان، سرمایہ دار اور جاگیر دار اورپڑھے لکھے علیگڑھی اس کا حصہ تھے،ان حصہ داروں سے جاکے کبھی آپ نے پوچھنے کی زحمت گوارا ہے کہ انھوں نے کیسے ٹوپی گھمائی تھی؟ اور قائد اعظم کو میں نے منافق نھیں کہا،میں نے صرف یہ کہا ہے کہ وہ ہماری تمہاری باتوں میں آنے والے نھیں بلکہ اپنے مشن میں مخلص ترین اور سچے تھے،یہی وجہ تھی کے تقسیم سے نہ تو اسلام ملا اور نہ ہی امن،انگریزوں کا جو مقصد تھا پھوٹ وہ بدرجہ اتم حاصل ہوا۔ اوریہ کارگل،ایبٹ آباد یا حمود الرحمن کمیشن رپورٹ سب اعدادوشمار کے گورکھ دھندے ہیں،اصل حقیقت یہی ہے کہ ہم امریکی ڈالروں پر پلتے بھی ہیں اور پھنے خان بھی دکھنا چاہتے ہیں،ایں خیال است و محال است و جنون! پاکستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ عالمی استعمار کی ٹاوٹی کا نتیجہ ہے،وہی لوگ جو پہلے سرخوں کی طاقت کے بل بوتے پر سرخ رو ہونا چاہتے تھے چٹوں کے مخالفانہ تعاون سے کریملن کی یاترا اکو ترس گئے تو "چٹا ہاؤس"جسے عرف عام میں وایٹ ہاوس کہا جاتا ہے کی درگت بننے پر اس کی راہ میں رکاوٹ بننے والے ان جہادیوں کے درپے ہوگئے جنھیں استعمار کا پالتو سمجھا جاتا تھا،ایک تو اس لیے کہ آقائے گورباچوف کی ذلت انھیں کاٹ کھائے جارہی تھی دوسرا اس لیے کہ چڑھتے سورج یعنی سرمایہ داری کی پیداور جمھوریت کی پوجا کیے بغیر بھی تو گزارہ نہیں ، ورنہ زمانے کے ارتقاء اور روشن خیالی کی بقاء کا پھریرہ لہرانے کی چیمپینی ہاتھ سے جاتی ہے۔سمجھے بھائی! ِِآپ جس فکر کی طرفداری میں مجھ پر برس رہے ہیں ،یہ فکر وہی ہے جو ہمارے ہاں کی مقتدر طبقے کی جستجوئے لاحاصل ہے کہ امریکہ کو گالی بھی دو اور اس کے تلوے بھی چاٹو،اپنی پھسڈی طبیعت اورکاٹ دار سرشت کی نا انصافیوں کو فرقہ وارانہ جنگ کے نعرے لگا کر مطمئن بھی کرو اور عالمی استعمار کی اسٹرٹیجک چاکری بھی کرو۔ اوربھائی جان یہ بلوچستان کا مسئلہ ہو یا فاٹا پاٹا کا، کبھی آپ نے دیکھا کہ سلمان تاثیر کے قتل یا ملالہ کے نشانہ بن جانے پر ہونے والا درد یا پر سوز مڑوڑ ان علاقوں یا ان کے مکین بیچاروں کے لیے ہمارےمیڈیا یا روشن خیالوں کو چھوکے بھی گزرا ہو؟؟ اسی کو نا انصافی کہتے ہیں،من موہنوں پر تو واری جانا اور حق مانگنے والوں کودور ہٹاںا۔ حیرت ہے کہ اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے ہم دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے والی پالیسی سےہرگز باز نہیں آتے،نہ تو ہم نیشن ثابت ہورہے ہیں اور نہ ہی امہ،ہم تو بس بھانڈوں کا ایک ٹولہ بن گئے ہیں،جن کا کام ہی مرثیہ نگاری،تعزیہ داری یا بے جا تعریفوں کے محل کھڑے کرنا ہے۔ آخری بات یہ ہے کہ حقائق بیان کرنا یا ان پر سلجھے ہوئے انداز میں مباحثہ کرنا اگر طبیعتِ مبارکہ پر گراں گزرے تو مقابل پر طالبان،دہشت گرد یا ملا کی پھبتی کسنے کی بجائے ثبوت سے بات کرنی چاہیے۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی گفتگو میں سجے سجائے سٹیج یا میڈیائی ایجنڈے سے باہر ہوتا ہے تو اس پر امریکہ بہادر کی طرح چڑھ دوڑا جاتا ہے۔
ْقمرالزماں خاں Aug 09, 2013 02:53pm
خیر حافظ صاحب آپ تو یو ٹرن لے گئے ۔۔۔اچھی بات ہے۔

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025