روس: صحافی کو نظر بند کرنے والے 2 سینئر پولیس افسران برطرف
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے منشیات کے الزام میں تحقیقاتی صحافت سے وابستہ رپورٹر کو گھر میں نظر بند کرنے میں ملوث دو سینئر پولیس افسران کو برطرف کردیا۔
امریکی خبررساں ادارے 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق کریملن نے ماسکو پولیس کے انسداد منشیات چیف یوری دیویاتکن اور مغربی ماسکو کے محکمہ پولیس کے سربراہ اینڈری پوچ کوو کو برطرف کیے جانے سے متعلق اعلان کیا۔
ماسکو میں ایوان گولنوف کی حمایت میں احتجاج کرنے والے سیکڑوں افراد کی گرفتاری کے بعد پولیس افسران کو برطرف کیا گیا۔
ممکنہ طور پر عوامی احتجاج کے باعث قانون نافذ کرنے والے ادارے یہ غیر معمولی فیصلہ کرنے پر مجبور ہوئے۔
مزید پڑھیں: روس کا نظر بند صحافی کو رہا کرنے کا فیصلہ
وزیر داخلہ ولادی میر کولوکلتسیف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’ ان کی نظر بندی ختم کردی جائے گی اور ان سے الزامات واپس لے لیے جائیں گے‘۔
روسی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ وہ صدر ولادی میر پیوٹن سے ماسکو پولیس کے سربراہ اور منشیات کی روک تھام کے انچارچ سینئر عہدیدار کو برطرف کرنے کی اجازت لیں گے۔
آزاد میڈیا ادارے میدوزا سے وابستہ 36 سالہ رپورٹر ایوان گولنوف کو گزشتہ ہفتے ان کے تحقیقاتی کام پر سزا دینے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: روسی صحافی کی موت 'آکسیجن کی کمی' کے باعث ہوئی، رپورٹ
خیال رہے کہ ایوان گولنوف کو ’بھاری مقدار‘ میں منشیات کی ڈیل کرنے کی کوشش کے الزام پر گرفتار کر کے نظر بند کردیا گیا تھا اور اگر ان پر یہ جرم ثابت ہوجاتا تو انہیں 20 سال سے زائد عرصہ جیل میں قید کردیا جاتا۔
صحافی کا کہنا تھا کہ انہیں دورانِ قید تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ان کے وکلا کا اصرار تھا کہ انہیں دھوکے سے منشیات میں ملوث کیا گیا۔
بعدازاں روسی پولیس نے اس بات کا اعتراف کرلیا تھا کہ ان ویب سائٹ پر موجود منشیات کی تصویر ایوان گولنوف کے فلیٹ سے نہیں بلکہ کسی جائے واردات سے ملی تھی۔