• KHI: Zuhr 12:36pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:35pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm
  • KHI: Zuhr 12:36pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:35pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:41pm

مردم شماری: تیسرے فریق سے آڈٹ نہ کرانے پر پیپلز پارٹی کا تحفظات کا اظہار

شائع March 21, 2018

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) نے مردم شماری 2017 کے 5 فیصد بلاک کی تیسرے فریق سے آڈٹ کرانے سے متعلق کیے گئے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے سینئر تاج حیدرنے اپنے بیان میں کہا کہ مردم شماری 2017 پر بنائی گئی سینیٹرز کی نگراں کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد انہیں مایوسی ہوئی۔

مزید پڑھیں: مردم شماری کے عبوری نتائج پر اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات

انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ ( ن) کے راجا ظفر الحق کی سربراہی میں ہونے والے اس اجلاس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سندھ کے لوگوں کے حقوق کے صحیح طریقے سے اعداد و شمار کے بجائے انہیں مسخ کیا گیا۔

تاج حیدر کی جانب سے کہا گیا کہ کمیٹی اجلاس میں اعداد و شمار ڈویژن کے فوجی حکام کو اندر آنے کی اجازت دی گئی لیکن میڈیا کو اس کی کوریج سے دور رکھا گیا۔

خیال رہے کہ پیپلز پارٹی سمیت متحدہ قومی موومنٹ اور دیگر جماعتوں نے مردم شماری 2017 کے نتائج پر اعتراض اٹھایا تھا اور مطالبہ کیا تھا کہ مردم شماری کے 5 فیصد بلاکس کا تیسرے فریق سے آڈٹ کرایا جائے، تاہم حکومت اس مطالبے کو پورا کرتی ہوئی نظر نہیں آرہی کیونکہ آئندہ عام انتخابات میں وقت کی کمی حکومت کو تیسرے فریق سے آڈٹ کرنے کی اجازت نہیں دے رہی۔

یہ بھی پڑھیں: مردم شماری میں اور کیا کیا شمار ہونا چاہیئے تھا

انہوں نے کہا کہ سندھ کے خلاف اس سازش کو پہلے ہی تمام سیاسی جماعتوں نے مسترد کردیا تھا اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اجلاس میں اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ صوبے کے ہر رہائشی کو شمار کرنے کے لیے حقیقی طریقہ کار کے معاہدے پر عمل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دیگر صوبے مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہی اور وہ اپنے بیروزگار لوگوں کو سندھ کی طرف بھیجنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔


یہ خبر 21 مارچ 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی

کارٹون

کارٹون : 31 مارچ 2025
کارٹون : 30 مارچ 2025