ایل او سی پر بھارتی فائرنگ، اقوام متحدہ کا تشویش کا اظہار
اقوام متحدہ نے بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں کو بلااشتعال فائرنگ کا نشانہ بنانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں گذشتہ روز 2 افراد جاں بحق اور 6 زخمی ہوگئے تھے۔
معمول کی بریفنگ کے دوران ایک پاکستانی صحافی کی جانب سے کیے گئے سوال پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کے ترجمان کا کہنا تھا، 'کشمیر کی صورتحال ہماری لیے باعث تشویش ہے'۔
ترجمان اسٹیفنے دوجارک کا مزید کہنا تھا کہ 'سیکریٹری جنرل اس صورتحال کو بغور دیکھ رہے ہیں اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں'۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر بھارت کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق جبکہ 4 خواتین سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے تھے۔
مزید پڑھیں:ایل او سی پر بھارتی فائرنگ، 2 افراد جاں بحق
واقعے کے بعد پاکستان نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت 2003 کے سیز فائر معاہدے کی پاسداری کرے۔
پاک-بھارت کشیدگی
پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں اڑی حملے کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے اور ہندوستان کی جانب سے متعدد مرتبہ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باونڈری کی خلاف ورزی کی جاچکی ہے۔
ان واقعات کے بعد ہندوستان کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو کئی مرتبہ دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور بھارتی سفارتکار سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس کی تفصیلات پاکستان کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت جان بوجھ کر شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے: سیکریٹری خارجہ
یاد رہے کہ گذشتہ برس 18 ستمبر کو کشمیر میں اڑی کے مقام پر ہندوستانی فوجی مرکز پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔
بعدازاں 29 ستمبر 2016 کو ہندوستان کے لائن آف کنٹرول کے اطراف سرجیکل اسٹرائیکس کے دعووں نے پاک-بھارت کشیدگی میں جلتی پر تیل کا کام کیا، جسے پاک فوج نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان نے اُس رات لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اور بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 پاکستانی فوجی شہید ہوئے، جبکہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا۔
دوسری جانب گذشتہ برس 8 جولائی کو مقبوضہ کشمیر میں حریت کمانڈر برہان وانی کی ہندوستانی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے کشمیر میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج میں اب تک 100 سے زائد کشمیری ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوچکے ہیں جبکہ پیلٹ گنوں کی وجہ سے متعدد شہری بینائی سے بھی محروم ہوچکے ہیں۔