سیزفائر کی بھارتی خلاف ورزیوں پر آخری حد تک صبر کرلیا، وزیراعظم
ٓاسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سیز فائر کی بھارتی خلاف ورزیوں پر آخری حد تک صبروتحمل کا مظاہرہ کرچکے، تاہم بے گناہ شہریوں پر حملے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت ایل او سی کی صورتحال پر اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی، وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ، ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) لیفٹیننٹ جنرل رضوان اختر، سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری سمیت اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
اجلاس میں ہندوستان کی جانب سے ایل او سی کی حالیہ خلاف ورزی کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا۔
مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے اجلاس کو لائن آف کنٹرول کی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی۔
مزید پڑھیں:مظفرآباد: بھارتی فوج کی بس پر فائرنگ، 9 افراد جاں بحق
اجلاس کے دوران ہندوستانی فوج کی جانب سے بس پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کی گئی اور کشمیری عوام کی سفارتی اور اخلاقی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ بس پر فائرنگ کے زخمیوں کو لے جانے والی ایمبولینس کو بھی بھارتی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔
اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 'کشمیر برصغیر کی تقسیم کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے اور ہم اپنے کشمیری بھائیوں کو ان کی جدوجہد آزادی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے'۔
انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارتی افواج کے ہاتھوں معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے کا نوٹس لے۔
اجلاس میں گذشتہ روز بھارتی فائرنگ کے نتیجے میں جان کی بازی ہارنے والے پاک فوج کے کیپٹن اور جوانوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایل او سی پر فائرنگ، 3 پاکستانی فوجی شہید
وزیراعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گذشتہ روز ہندوستانی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر فائرنگ کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہوگئے تھے۔
زیادہ ہلاکتیں دھندیال سیکٹر کے علاقے لوات میں ہوئیں، جہاں ہندوستانی فورسز نے ایک مسافر بس کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 9 مسافر جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔
بعدازاں پاک افواج کے شعبہ تعلقات کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ہندوستانی فورسز کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے کیپٹن سمیت 3 جوان بھی شہید ہوئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں 7بھارتی فوجی بھی ہلاک ہوئے۔
پاک-ہندوستان کشیدگی
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری پر ہندوستانی افواج کی جانب سے سیزفائر معاہدے کی خلاف ورزیاں حالیہ کچھ عرصے سے ایک معمول بن چکی ہیں۔
رواں ماہ 19 نومبر کو بھی ایل او سی کے مختلف سیکٹرز پر ہندوستانی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 4 پاکستانی شہری جاں بحق جبکہ کئی زخمی ہوگئے تھے، اسی روز 6 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم بھارت نے اسے تسلیم نہیں کیا تھا۔
یہاں پڑھیں:لائن آف کنٹرول پر 3 ہندوستانی فوجی ہلاک
بعدازاں ہندوستان نے لائن آف کنٹرول کے نزدیک اپنے 3 فوجیوں کی ہلاکت تسلیم کرلی، جن میں سے ایک فوجی کی لاش کے متعلق بتایا گیا کہ وہ ’مسخ شدہ‘ تھی، تاہم پاکستان نے بھارتی میڈیا کی جانب سے فوجی کے جسم کو مسخ کیے جانے کے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات کی تردید کردی تھی۔
رواں ماہ 18 نومبر کو بھارتی بحریہ کی جانب سے بھی پاکستانی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی، تاہم پاک بحریہ نے پاکستانی سمندری علاقے میں بھارتی آبدوز کی موجودگی کا سراغ لگا کر انھیں اپنی سمندری حدود میں داخل ہونے سے روک دیا۔
پاکستان اور ہندوستان کے تعلقات میں 18 ستمبر کو ہونے والے اڑی حملے کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے، جب کشمیر میں ہندوستانی فوجی مرکز پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔
بعد ازاں 29 ستمبر کو ہندوستان کے لائن آف کنٹرول کے اطراف سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے نے پاک-بھارت کشیدگی میں جلتی پر تیل کا کام کیا، جسے پاک فوج نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان نے اُس رات لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اور بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 پاکستانی فوجی جاں بحق ہوئے، جبکہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا۔
مزید پڑھیں: ایل او سی:بھارتی فائرنگ سے7 پاکستانی فوجی جاں بحق
14 نومبر کو بھی لائن آف کنٹرول پر ہندوستان فورسز کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں پاک فوج کے 7 جوان جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس واقعے کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ’ہمارے 7 جوانوں کی شہادت کے دن بھارت کے 11 فوجی مارے گئے تھے، ہم اپنے جوانوں کی شہادت کو تسلیم کرتے ہیں، بھارتی فوج بھی مردانگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہلاک فوجیوں کا بتایا کرے'۔
آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر اب تک 45 سے زائد بھارتی فوجی مارے جاچکے ہیں۔
یہاں پڑھیں: ’7 جوانوں کی شہادت کے دن بھارت کے 11 فوجی مارے گئے‘
ان واقعات کے بعد حالیہ دنوں میں ہندوستان کے ہائی کمشنر اور ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی پر احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور بھارتی سفارتکاروں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائیں گی اور اس کی تفصیلات پاکستان کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔