• KHI: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • LHR: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • ISB: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • KHI: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • LHR: Zuhr 5:00am Asr 5:00am
  • ISB: Zuhr 5:00am Asr 5:00am

مایوس کن بجٹ

شائع June 26, 2013

وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار -- فائل تصویر
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار -- فائل تصویر --.

2014-2013 کیلئے پیش کئے جانے والے بجٹ کو منظر عام پر آئے اگرچہ کچھ عرصہ گزر چکا ہے اور اس دوران اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا پر ماہرین کے تجزیے سامنے آچکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاص مثبت ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا-

ماہرین کی رائے میں اس بجٹ میں سیلز ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس پر ہمیشہ کی طرح بہت زیادہ انحصار کیا گیا ہے اسے ایک روایتی بجٹ قرار دیا گیا ہے جس میں شریف حکومت نے بار بار کے آزمودہ نسخوں پر ایک بار پھر تکیہ کیا ہے- یعنی غریبوں اور تنخواہ دار ملازمین پر براہ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں کی شرح اور بڑھا دی گئی کیونکہ ریوینو میں اضافہ کا سب سے آسان طریقہ یہی ہے-

اگر بدرجۂ مجبوری معاشرے کے دولتمند طبقہ پر ٹیکس لگانے کی کوشش کی بھی گئی تو وہ بھی بالواسطہ طریقے سے یعنی ان پر ودہولڈنگ / ایڈوانس انکم ٹیکس لگایا گیا جبکہ یہ طریقہء کار 1990 سے رائج العمل ہے-

شریف حکومت نے اپنے انتخابی منشورمیں وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹیکس اور جی ڈی پی تناسب کو جو اب نو فی صد سے بھی کم ہے اگلے پانچ برسوں میں پندرہ فی صد تک بڑھا دیگی-

اس مقصد کیلئے ایک طرف تو ٹیکس کی شرح میں کمی کی جائیگی اور دوسری طرف مزید افراد اور کاروباری تنظیموں کو ٹیکسوں کے دائرے میں لایا جائیگا- یہ بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ حکومت کے ریونیو میں براہ راست ٹیکس کے حصّے کوبڑھایا جائیگا- لیکن بجٹ میں اس سمت میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی-

آئیے دیکھیں بجٹ میں حکومت کے اہداف کیا ہیں؛

1- ٹیکس ریونیو میں 22 فیصد تک اضافہ کیا جائیگا یعنی اگلے برس تک حکومت کو59. 2 ٹریلین روپیہ کی آمدنی ہوگی-

2- بجٹ خسارہ میں 5. 2 فی صد کی کمی کی جائیگی اور یہ جی ڈی پی کا 3. 6 فی صد ہو جائیگا جبکہ موجودہ خسارہ 8.8 فی صد ہے-

3- توانائی کے شعبہ میں گردشی قرضے ساٹھ دن کے اندر ختم کر دِئے جائینگے تاکہ بحران پر قابو پایا جا سکے-

4- ترقیاتی منصوبوں کی مد میں اضافہ کیا جائیگا-

وعدوں کے مطابق ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ غریب اور متوسط طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کیا جاتا- لیکن اس کے برعکس ہوا-

جنرل سیلز ٹیکس کی شرح میں ایک فی صد کا اضافہ کیا گیا یعنی یہ سولہ کی بجائے سترہ فی صد ہو گئی، دوسری طرف سبسڈیز ختم کردی گئیں- ان دونوں اقدامات سے براہ راست غریب طبقہ متاثر ہوگا-

بجائے یہ کہ ایسے اقدامات کئے جاتے جس سے ٹیکس دینے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا اور وہ لوگ ٹیکس دہندوں کی فہرست میں شامل ہوتے جو اب تک ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچتے آئے ہیں- انھیں افراد پر ٹیکس کی شرح بڑھا دی گئی جو پہلے سے ٹیکس دےرہے ہیں-

توقع کے عین مطابق اس بار بھی حکومت نے زرعی ٹیکس عائد کرنے کی جانب کوئی قدم نہیں اٹھایا- اعداد و شمار کے مطابق اس وقت زراعت سے حاصل ہونے والا ٹیکس ریونیو ایک بلین روپیہ سے بھی کم ہے جبکہ اس شعبہ سے پچاس بلین روپیہ کے ریونیو کے امکانات ہیں-

ایک طرف تو تنخواہ دار ملازمین پر شرح ٹیکس بڑھا دی گئی تو دوسری طرف کارپوریٹ سیکٹر پر عائد ٹیکس کو 35 فی صد سے گھٹا کر 30 فی صد کردیا گیا- جس پر15 - 2014 سے عمل درآمد ہوگا- اس کے علاوہ نجی کارپوریٹ بزنس پر ٹیکسوں کی شرح میں بھی نمایاں کمی کردی گئی-

حکومت کے پیش کردہ اس بجٹ پر جو منفی ردعمل سامنے آرہے ہیں اس کے مطابق یوں لگتا ہے کہ یہ بجٹ بیوروکریٹس اور ملک کی اشرافیہ نے اپنے مفادات کو محفوظ رکھنے کے لئے ترتیب دیا ہے-

مجوزہ ٹیکس نظام کے تحت وہ تنخواہ دارطبقہ زیادہ متاثر ہوگا جس کی ماہانہ تنخواہ ساٹھ ہزار روپیہ ماہانہ ہے، بہ نسبت اونچے تنخواہ دار، سینئر بیوروکریٹس، سول سرونٹس، جنرلز اور ججز وغیرہ کے جن کی ماہانہ تنخواہیں ایک لاکھ پچھتر ہزارسے لیکر چار لاکھ روپیہ کے درمیان ہیں-

14- 2013 کے بجٹ کے اعلان کے بعد سیلز ٹیکس میں اضافے کے نتیجے میں زندگی کے تقریباً ہر شعبے سے تعلق رکھنے والی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے-

کھانے پینے کی چیزوں کی بات تو ایک طرف، استعمال شدہ کپڑوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا- پہلے اس پر چار فی صد ٹیکس لگتا تھا جواب بڑھ کر بیس فی صد ہوگیا ہے- استعمال شدہ کپڑے زیادہ تر امریکہ، جاپان، یورپ، کوریا اور آسٹریلیا وغیرہ سے درآمد کئے جاتے ہیں-

دوسری طرف تعمیراتی سازوسامان کی قیمتوں میں بھی بیس فی صد سے لیکر پچیس فی صد تک اضافہ ہوا ہے- مزید یہ کہ حکومت تعمیراتی رقبے پر بھی ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے جو پچیس روپیہ فی مربع فٹ سے لیکر پچاس روپیہ فی مربع گز تک ہوسکتا ہے-

بجائے اس کے کہ بجٹ کے ڈھانچے میں (اسٹرکچرل چینج) بنیادی تبدیلیاں لائی جاتیں اور ٹیکس کے دائرے کو پھیلا کر اس میں ان لوگوں کو شامل کیا جاتا جو ابتک ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچتے آئے ہیں حکومت نے آسان راستے کا انتخاب کرتے ہوئے اسی طبقہ پر مزید بوجھ لاد دیا ہے جسکی کمر پہلے ہی ٹوٹ چکی ہے-

طرّہ یہ کہ ایف بی آر کو مزید اختیارات دے دئے گئے ہیں جبکہ اس کے خلاف پہلے ہی سے بدعنوانیوں اور ناقص کارکردگی کے الزامات ہیں- ان حالات میں نچلے سلیب سے تعلق رکھنے والے ایف بی آر کی دستبرد کا شکار ہو سکتے ہیں جب کہ بڑی مچھلیاں چھوٹ جائینگی-

ایک تنقید یہ بھی ہو رہی ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کو خوش کرنے کیلئے بنایا گیا ہے-

حکومت جن مالیاتی مسائل میں پھنسی ہوئی ہے اس کے پیش نظر آئی ایم ایف سے مدد حاصل کرنا ضروری ہوگیا ہے، کیونکہ حکومت اس سے نمٹنے کیلئے کوئی انقلابی قدم اٹھانا نہیں چاہتی- اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کا مشن پاکستان پہنچ گیا ہے اور حکومتی مذاکرات 19 جون سے شروع ہونا تھے-

اطلاعات کے مطابق حکومت آئی ایم ایف سے پانچ بلین ڈالرز قرض لینے کا ارادہ رکھتی ہے- تاکہ سابقہ قرضوں کی ادائیگی کر سکے-

حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ آئی ایم ایف سے 'لیٹر آف کمفرٹ' حاصل کرے تاکہ عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے بھی قرضے حاصل کرسکے جو 2009 سے رکے ہوئے ہیں-

پاکستان آئی ایم ایف کو یہ بھی باورکرانے کی کوشش کریگا کہ وہ وسط اگست تک توانائی کے شعبے سے متعلق گردشی قرضے بے باق کردیگا اور بتدریج بجٹ خسارہ کو 15-2014 تک جی ڈی پی کے چار فی صد تک لے آئیگا-

کہا جاسکتا ہے کہ حکومت شائد آئی ایم ایف کوتو مطمئن کرنے میں کامیاب ہوجائے لیکن وہ عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام ہو گئی ہے-

اسی دوران  سپریم کورٹ نے جنرل سیلز ٹیکس میں فوری اضافے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے یہ فیصلہ دیا ہے کہ حکومت بجٹ کی پارلیمنٹ میں منظوری کے بغیر کوئی ٹیکس عائد نہیں کرسکتی جس پر حکومت نے بھی اشارہ دیا کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کریگی- اب دیکھنا یہ ہے کہ حالات کیا کروٹ لیتے ہیں-

سیدہ صالحہ

لکھاری فری لانس جرنلسٹ ہیں، اور سماجی مسائل اور ادب پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025