کھیوڑہ کا ارضیاتی عجائب گھر
چند دن قبل ہم نے خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ مل کر کھیوڑہ جانے کا پروگرام بنایا۔ ہمارے بچے اپنی درسی کتب میں کھیوڑہ کے بارے میں پڑھ تو چکے ہیں، مگر کبھی یہ جگہ دیکھی نہیں تھی، لہٰذا چھٹی کے دن کا درست استعمال کرتے ہوئے ہم نے کھیوڑہ کی راہ لی۔
ہم دو گاڑیوں میں براستہ لاہور اسلام آباد موٹر وے روانہ ہوئے اور اللہ انٹرچینج سے اترنے کے بعد تقریباً 30 کلومیٹر کا فاصلہ بوجہ خرابی سڑک ہم نے ایک گھنٹے میں طے کیا۔ اس طرح ہم پونے تین گھنٹوں میں لاہور سے کھیوڑہ پہنچے۔
کھیوڑہ میں واقع نمک کی کان تک پہنچنے سے پہلے ہی ہم نے لاہوری ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے مقامی ہوٹل سے کھانا کھایا۔ ویسے بھی ہم لاہوریوں کا اصول ہے کہ:
پہلے پیٹ پوجا
پھر کوئی کام دوجا
بے حِس لاہوری ہونے کی وجہ سے ہمارا خیال تھا کہ لاہور جیسا کھانا ہمیں یہاں نہیں مل سکتا۔ مگر کھانا کھانے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ جو دال ماش اور مکس سبزی کا مزہ ہمیں اس مقامی ریستوران میں آیا، وہ لاہور میں کبھی نہیں آیا۔
اس کے علاوہ جو خستہ پن تندوری روٹیوں میں تھا، وہ بھی کبھی لاہور میں نہیں ملا تھا۔ اس لذیذ ترین کھانے کی اصل وجہ کھانے میں دیسی گندم اور مقامی سبزیوں کا استعمال تھا جو ہم لاہوریوں کی قسمت میں نہیں۔
خیر اچھی طرح پیٹ پوجا کرنے کے بعد ہم نمک کی کان دیکھنے پہنچے۔ میں ذاتی طور پر کھیوڑہ جانے کے خلاف تھا اور سوچ رہا تھا کہ بہت بوریت ہونے والی ہے، مگر حیران کن طور پر اس سے بالکل الٹا ہوا۔





فی بندہ 150 کی ٹکٹ لینے کے بعد ہم کان میں داخل ہوئے اور داخلی دروازے پر کھڑی ٹرین کو دیکھ کر اس میں سوار ہونے لگے، تو ایک آواز آئی: "کِدھر پا جی ۔۔۔ ٹرین کا ٹکٹ فی کس 300 روپے ہے۔"
سنتے ہی ہم پیچھے ہٹ گئے اور اپنے پیروں پر بھروسہ کرتے ہوئے چل پڑے۔ ٹرین کے قریب سے گزرنے پر ہم پچھتائے بھی، مگر جب دیکھا کہ کچھ دور جا کر ٹرین اتار دیتی ہے، تو شکر کیا کہ ہم نے ٹرین کی ٹکٹس نہیں لیں۔



پوری کان میں آپ کو راستے کے ساتھ ساتھ ایک بہتے پانی کی نالی بھی نظر آئے گی، جس میں ہر وقت کان سے نکلنے والا پانی چلتا رہتا ہے۔ یہ پانی نمکین ہونے کی وجہ سے پینے کے قابل نہیں ہوتا اور سوڈا ایش بنانے کے کام آتا ہے۔






کھیوڑہ سے واپسی پر عزیزوں کو تحفے دینے کے لئے انتہائی سستے داموں ڈیکوریشن پیسز بھی مل جاتے ہیں۔ جن کی قیمتیں 200 سے 400 تک ہوتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ خالص نمک سے بنے یہ فن پارے استھما کے مریضوں کے لئے انتہائی مفید ہوتے ہیں۔


لاہور سے کھیوڑہ جانے کے لیے بہترین راستہ موٹروے ہے اور اگر آپ اپنی گاڑی میں جائیں تو 260 کلومیٹر سفر کے لیے تقریباً آپ کو 20 لیٹر پٹرول درکار ہوگا۔ اس طرح کھیوڑہ کان جانے اور آنے کے لیے 40 لیٹر پٹرول چاہیے۔
اتنی سی مسافت، خرچے اور وقت میں اگر اتنی شاندار جگہ دیکھنے کو مل جائے، تو اس سے اچھا اور کیا ہو سکتا ہے؟