’پنجاب کا تحفظ خواتین قانون آئین، شریعت کے خلاف‘
حیدر آباد: جمعیت علمائے اسلام –ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے تحفظ خواتین قانون کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آئین اور شریعت کے منافی قرار دیا۔
ہفتہ کو یہاں صحافیوں سے گفتگو میں فضل الرحمان نے اس قانون کو این جی او زدہ قرار دیا۔
فضل کے مطابق، یہ قانون نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے اور اس سے پاکستان کا مضبوط خاندانی نظام تباہ ہو جائے گا۔
’مغرب میں شوہر اور بیوی کو پارٹنر سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ایسا معاملہ نہیں۔ اس قانون کے تحت فراہم کردہ تحفظ پہلے ہی رائج قوانین میں میسر ہے‘۔
’اسلام میں خواتین کو جو عزت اور رتبہ دیا گیا ہے اسے دنیا کا کوئی دوسرا قانون یقینی نہیں بنا سکتا‘۔
فضل کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ-ن نے مشرف دور میں تحفظ خواتین قانون پر دستخط نہیں کیے تھے لیکن اب اس نے ایک متنازعہ قانون متعارف کرانے کیلئے کئی جتن کیےہیں۔
جنرل راحیل کی مدت ملازمت میں توسیع
فضل نے کہا کہ ملک میں فوجی سربراہ کی مدت ملازمت میں توسیع کو خواہ مخواہ مسئلہ بنایا جا رہا ہے۔ ’میرے خیال میں مدت میں توسیع وزیر اعظم اور حکومت کا آئینی اور قانونی استحقاق ہے ‘۔
جب مولانا فضل سے کہا گیا کہ کچھ سیاست دان ممکنہ توسیع کی باتیں کر رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا ’ اس طرح کی بحث نامناسب ہے‘۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستانی جمہوریت میں فوجی ادارے کو برتری حاصل ہے لہذا ایسا تاثر دیا جا رہا ہے کہ یہ جنرل راحیل شریف کا استحقاق ہے کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں خود توسیع کر سکیں۔
’ایسا صرف مارشل لا دور میں ہوتا ہے ، جہاں چیف مارشل لا خود ہی توسیع کر لیتا ہے‘۔
نیشنل ایکشن پلان میں خامیاں
ایک سوال کے جواب میں فضل نے قومی ایکشن پلان کے بارے میں کہا آخر عدلیہ جیسے شہری ادارے کو کیوں لاچار بنا کر پیش کیا جاتا ہے؟ ’ہمیں کیوں بتایا جاتا ہے کہ فوجی عدالتیں ناگزیر ہیں؟‘
مولانا فضل نے کہا کہ ان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر کیوں 21ویں ترمیم میں فرقوں کی بنیاد پر شقیں شامل کی گئیں اور ملک میں کام کرنے والے مذہبی تعلیمی اداروں کو دہشت گردی کا مرکز بنا کر پیش کیا جاتا ہے؟
آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔
تبصرے (3) بند ہیں