سندھ میں گورنر راج کا امکان نہیں ، وزیر اعلی
حیدر آباد: وزیر اعلی قائم علی شاہ نے سندھ میں گورنر راج کے امکانات مسترد کرتے ہوئے ایسا کرنے سے خبردار کیا ہے۔
ہفتہ کو جامشورو میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کام کر رہی ہے۔’گورنر راج لگانے کی کوئی وجہ نہیں، اور اگر ایسا کیا گیا تو اس کے سنگین اثرات ہوں گے‘۔
’وفاقی حکومت کے پاس سندھ یا کسی اور صوبے میں گورنر راج لگانے کا اختیار نہیں‘۔
انہوں نے سندھ حکومت کے خلاف گرینڈ اپوزیشن اتحاد قائم کرنے کی پرزور مخالفت کی۔
وزیر اعلی نے پاکستان رینجرز(سندھ) کے اختیارات کم کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں مینڈیٹ کے مطابق رینجرز موجود رہے گی۔
’جب کراچی آپریشن شروع ہوا تھا تو وزیر اعلی کو اس کا کپتان بنایا گیا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ سر تو اپنی جگہ ہے لیکن کیپ غائب ہو چکی‘۔
وزیر اعلی نے رینجرز کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کرنے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ’ان کے پاس ٹاگٹ کلرز، بھتہ خوروں اور اغوا برائے تاوان میں ملوث جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کا اختیار ہے‘۔
وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ ایک ملاقات میں ڈائریکٹر جنرل (رینجرز) بلال اکبر رینجرز کو ملنے والی خصوصی اختیارات سے مطمئن تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں رینجرز کے قیام سے متعلق سمری تیار کی جا رہی ہے۔
گرینڈ اتحاد
سندھ میں اپوزیشن پارٹیاں ارباب غلام رحیم اور غلام مرتضی جتوئی کی سربراہی میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف گرینڈ اتحاد قائم کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
جتوئی نے اس حوالے سے ایک اجلاس طلب کر لیا ہے جبکہ دو اپوزیشن جماعتیں متحدہ قومی موومنٹ کی اتحاد میں شمولیت کیلئے اس سے بھی رابطے کر رہی ہیں۔
آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔