اردوکانفاذ:'حتمی تاریخ میں اضافےکی درخواست‘
اسلام آباد: پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے 8 ستمبر کے فیصلے میں معمولی رد و بدل کے لیے رجوع کرلیا، جس میں عدالت نے وفاق اور صوبائی حکومتوں کو فوری طور پر اردو کو بحیثیت سرکاری زبان نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل (اے اے جی) رزاق اے مرزا نے پنجاب کے چیف سیکریٹری اور صوبائی سیکریٹری قانون کی جانب سے سپریم کورٹ میں نظرثانی درخواست جمع کروائی، جس میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے حکم نامے پر نظر ثانی کرے جس میں حکومت کو تمام متعلقہ قوانین کو 3 ماہ میں انگریزی سے اردو میں ترجمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے 8 ستمبر کے فیصلے میں تمام قانون ساز اور اس کی نگرانی کرنے والے اداروں کو آئین کے آرٹیکل 251 کے تحت اردو کو فوری طور پر قومی زبان کی حیثیت میں نافذ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
مزید پڑھیں: اردو کو بطور سرکاری زبان نافذ کرنے کا حکم
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس حوالے سے دی جانے والی حتمی تاریخ 8 دسمبر کو اختتام پذیر ہوجائے گی۔
اے اے مرزا نے ڈان کو بتایا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سے آئین کے بتدریج نفاذ کے حوالے سے کام کررہی ہے تاہم اس حوالے سے دیا جانے والا 3 ماہ کا وقت غیر حقیقی ہے۔
سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی نظرثانی درخواست میں کہا گیاکہ صوبائی حکومت نے پہلے سے ہی اقدام اٹھاتے ہوئے مترجم کی 3 آسامیاں تشکیل دی ہیں اور ان تقرریوں کے لیے قانون سازی کے لیے درخواست پنجاب پبلک سروسز کمیشن کو بھیج دی گئی ہے۔
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے 150 قوانین کا اردو ترجمہ مکمل کیا جاچکا ہے اور یہ قوانین سرکاری ویب سائٹ پر بھی آپ لوڈ کردیئے گئے ہیں، اس میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب کے قوانین کے اردو ترجمے کی غرض سے ٹھیکیداروں کے حصول کے لیے بھی اخبارات میں اشتہار دیئے جاچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 'صدر اور وزیراعظم بیرون ملک بھی اردو میں تقریر کریں گے'
پٹیشن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 3 ماہ میں تمام قوانین کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنا انسانی اور عملی طور پر ناممکن ہے جبکہ مختلف موضوعات پر سیکٹروں قوانین موجود ہیں۔
خیال رہے کہ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کا 8 ستمبر کا فیصلہ 1973 ء کے آئین کی شق نمبر 251 پر مکمل عمل درآمد کی جانب ایک اہم قدم ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آئندہ پندرہ سالوں میں انگریزی زبان کی سرکاری حیثیت کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ اردو کو مکمل طور پر پاکستان کی سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہو۔
تبصرے (1) بند ہیں