• KHI: Maghrib 6:47pm Isha 8:03pm
  • LHR: Maghrib 6:19pm Isha 7:41pm
  • ISB: Maghrib 6:25pm Isha 7:49pm
  • KHI: Maghrib 6:47pm Isha 8:03pm
  • LHR: Maghrib 6:19pm Isha 7:41pm
  • ISB: Maghrib 6:25pm Isha 7:49pm

کراچی سمیت سندھ بھر میں شدید گرمی، 136 ہلاکتیں

شائع June 22, 2015
شدید گرمی کے باعث ہلاک ہونے والوں  کی میتیں ایدھی سردخانے منتقل کی جارہی ہیں—۔فوٹو/ آن الائن
شدید گرمی کے باعث ہلاک ہونے والوں کی میتیں ایدھی سردخانے منتقل کی جارہی ہیں—۔فوٹو/ آن الائن

کراچی: صوبہ سندھ میں جاری گرمی کی شدید لہر نے کم از کم 136 افراد کی جانیں لے لیں جن میں سے 132 اموات کراچی میں واقع ہوئیں۔

زیادہ تر ہلاکتوں کی تصدیق جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کے حکام کی جانب سے کی گئی۔

حکام کے مطابق لُو لگنے سے ہلاک ہونے والے 85 افراد کو یا تو مردہ حالت میں جناح ہسپتال لایا گیا یا پھر دوران علاج اُن کی موت واقع ہوئی، 30 ہلاکتیں عباسی شہید ہسپتال، 9 لیاری جنرل ہسپتال، 6 سول ہسپتال کراچی اور 2 کے پی ٹی ہسپتال میں واقع ہوئیں۔

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ ہسپتال میں شدید گرمی کی وجہ سے 85 اموات ریکارڈ ہوئیں۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد 50 سال یا زائد عمر کے تھے۔

ڈاکٹر سیمی جمالی نے بتایا کہ 30 افراد کو مردہ حالت میں لایا گیا جکہ 55 افراد کو انتہائی تشویش ناک حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا، جنھوں نے دوران علاج دم توڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تمام ہلاکتوں کی وجہ گرمی کی موجودہ شدید لہر ہے۔

جناح ہسپتال کے آفیشلز کے مطابق ان تمام افراد کو بے ہوشی کی حالت میں لایا گیا، جو شدید بخار میں مبتلا تھے اور ان کا بلڈ پریشر نہ ہونے کے برابر تھا۔

زیادہ تر افراد نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ شدید گرمی کی وجہ سے وہ گر پڑے اور انھیں سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

جناح ہسپتال کے آفیشلز کے مطابق لُو لگنے کا پہلا مریض ہفتے کی رات 10 بجے کے قریب ہسپتال لایا اور اس رپورٹ کی تیاری تک ایسے مریضوں کی تعداد 100 کے قریب پہنچ چکی تھی۔

آفیشلز کے مطابق ابھی تک ہسپتال میں شدید گرمی سے متاثرہ مریضوں کو لایا جارہا ہے۔

ایک خاتون اپنے رشتے دار کی موت پرنوحہ کناں ہیں—.فوٹو/اے ایف پی
ایک خاتون اپنے رشتے دار کی موت پرنوحہ کناں ہیں—.فوٹو/اے ایف پی

دوسری جانب کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کی سینیئر ڈائریکٹر ڈاکٹر سلمیٰ کوثر نے بتایا کہ اتوار کو عباسی شہید ہسپتال میں 20 افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ 7 افراد کو اتوار کو رات گئے مردہ حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹر سلمیٰ کوثر کے مطابق 20 افراد میں سے 13 افراد مردہ حالت میں ہسپتال لائے گئے جبکہ 7 کی موت دوران علاج واقع ہوئی۔

مرنے والوں میں 6 خواتین اور 5 بچے بھی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کے ایم سی کے زیرِ انتظام چلنے والے مختلف ہسپتالوں میں 100 سے زائد افراد زیرِعلاج ہیں۔

شدید گرمی کے باعث 9 افراد نے لیاری جنرل ہستپال،6 نے سول ہسپتال اور 2 نے کے پی ٹی ہسپتال میں دم توڑا۔

سندھ کے ہیلتھ سیکریٹری سعید احمد منگجیجو کے مطابق جیکب آباد اور لاڑکانہ میں شدید گرمی کے باعث 2 افراد ہلاک ہوئے۔

ہفتے کا دن کراچی میں سال کا گرم ترین دن ریکارڈ کیا گیا، جہاں پارہ 45 ڈگری سیلسیئس تک جا پہنچا۔

دوسری جانب سندھ کے 3 ڈسٹرکٹس جیکب آباد،لاڑکانہ اور سکھر میں درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیئس ریکارڈ کیا گیا، جو اتوار کو 41 ہوگیا۔

آفیشلز کے مطابق کراچی میں پیرکو بھی درجہ حرارت 44 ڈگری سیلسیئس تک رہنے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ کراچی میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 48 ڈگری سیلسیئس تھا، جو 9 مئی 1938 کو ریکارڈ کیا گیا۔

ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد یا تو غریب طبقے سے تعلق رکھتے تھے، چھوٹے چھوٹے گھروں میں رہائش پزیر تھے یا ڈیلی ویجز پر ملازمت کرتے تھے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے حکام کے مطابق انھوں نے تدفین کا کام تیز کردیا ہے کیونکہ سرد خانے میں میتوں کی تعداد زیادہ ہوتی جارہی ہے، دوسری جانب شدید گرمی کی وجہ سے سرد خانے میں ٹمپریچر کو ٹھنڈا رکھنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ خبر 22 جون 2015 کے ڈان اخبار میں شائع ہوئی

تبصرے (1) بند ہیں

Noman Jun 22, 2015 11:22am
Allah Reham Ata Kar.

کارٹون

کارٹون : 28 مارچ 2025
کارٹون : 27 مارچ 2025