• KHI: Fajr 5:04am Sunrise 6:21am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:48am
  • ISB: Fajr 4:26am Sunrise 5:51am
  • KHI: Fajr 5:04am Sunrise 6:21am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:48am
  • ISB: Fajr 4:26am Sunrise 5:51am

مصطفیٰ کانجو کو جیل بھیج دیا گیا

شائع April 17, 2015
مصطفیٰ کانجو کو عدالت میں پیش کیا جارہا ہے—۔ڈان نیوز اسکرین گریب
مصطفیٰ کانجو کو عدالت میں پیش کیا جارہا ہے—۔ڈان نیوز اسکرین گریب

لاہور: گاڑی کی ٹکر کے تنازع پر 16 سالہ طالب علم زین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار سابق وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے مصطفیٰ کانجو کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 4 ساتھیوں سمیت 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مصطفیٰ کانجو کوچار ساتھیوں سمیت 8 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:زین قتل کیس: مصطفیٰ کانجو کا جسمانی ریمانڈ

جمعے کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت میں زین قتل کیس کی سماعت ہوئی، اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

سماعت کے دوران مصطفٰی کانجو کے وکیل اکرم قریشی نے موقف اختیار کیا کہ یہ دہشت گردی کا کیس نہیں ہے۔

جبکہ گزشتہ سماعت کے دوران ان کا موقف تھا کہ زین، مصطفیٰ کانجو اور ان کے مخالفین کی کراس فائرنگ کی زد میں آیا اور مقتول سے ملزم کی کوئی ذاتی دشمنی نہیں۔

آج مذکورہ کیس کی سماعت کے بعد خصوصی عدالت نے زین قتل کیس کے مرکزی ملزم مصطفیٰ کانجو کو 4 ساتھیوں سمیت 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر بھجواتے ہوئے اب تک ہونے والی تفتیش کی مفصل رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کردی۔

جبکہ ملزم کی جانب سے گاڑی اور پستول واپس لیے جانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔

اس کے ساتھ ہی فاضل عدالت نے تفتیشی افسر کو حکم دیا کہ اگلی سماعت تک چالان جمع کرائے جائیں تاکہ کیس کا فیصلہ جلد کیا جاسکے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں لاہور کے کیولری گراؤنڈ میں گاڑی کی ٹکر کے تنازع کے بعد مصطفیٰ کانجو نے اپنے گارڈ کے ہمراہ فائرنگ کردی تھی، جس کی زد میں آکر نویں جماعت کا طالب علم زین ہلاک ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:زین قتل کیس: سابق وزیر مملکت کا بیٹا گرفتار

واقعے کے بعد فرار ہونے والے مصطفیٰ کانجو کو گزشتہ روز خوشاب سے گرفتار کیا گیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025