لاہور میں خواتین کا گلابی رکشہ
لاہور: ایک ماحول دوست خاتون نے مرد رکشہ ڈرائیوروں کی جانب سے خواتین کو ہراساں کیے جانے سے تنگ آکر اپنے آبائی شہر لاہور میں خواتین مسافروں اور ڈرائیوروں کے لیے خاص طور پر خود اپنی سروس شروع کی ہے، لیکن اب تک ایک رکشہ ہی سڑک پر آیا ہے۔
پاکستان کے غیرمنافع بخش ماحولیاتی تحفظ کے فنڈکی صدر زار اسلم کہتی ہیں کہ وہ ایک مرتبہ اپنی طالبعلمی کے زمانے میں ایک رکشہ ڈرائیور کے ہاتھوں اغوا ہونے سے بال بال بچی تھیں، جس نے انہیں ’پنک رکشہ‘ سروس شروع کرنے کے خیال کو تحریک دی۔
خواتین کے جنسی استحصال کے حوالے سے پاکستان بدنام ہے، جسے یہاں خوش کلامی کے طور پر ’’چھیڑ خانی‘‘ کہا جاتا ہے۔
یہاں مجرم اکثر سزا سے بچ جاتے ہیں، اس لیے کہ یہاں کا قانونی نظام اس جرم کی متاثرہ کےساتھ بھی مجرموں کا سا سلوک کرتا ہے۔
لاہور میں اپنے گھر کے اندر اپنا پہلا رکشہ دکھاتے ہوئے زار اسلم نے کہا ’’خواتین کو مالی اور پیشہ ورانہ طور پر بااختیار بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔‘‘
انہوں نے کہا ’’مجھے اور میری ساتھی کارکنوں کو مرد رکشہ ڈرائیوروں سے یا پبلک ٹرانسپورٹ کا انتظار کرتے ہوئے ہراساں کیا جاتا ہے۔‘‘
یہ رکشے تین پہیے کی موٹرسائیکلز ہیں، اور زار نے ایک خرید کر شروعات کی، انہوں نے ایک پنکھا، دروازہ اور ہیڈلائٹس نصب کروائی اور اس کو گلابی اور سفید رنگ کروایا۔
![]() |
زار اسلم لاہور کی سڑکوں پر گلابی رکشہ چلاتے ہوئے۔ —. فوٹو رائٹرز |
ان کا ارادہ ہے کہ اس سال کے آخر تک کم از کم پچیس رکشہ خرید کر چلائے جائیں۔ زار اسلم اس کے لیے اسپانسر کی تلاش میں ہیں۔
انہوں نے کہا ’’ایک آٹو رکشہ کی قیمت تین لاکھ روپے ہے، لہٰذا عطیہ دہندگان کی اسپانسر شپ کے بغیر اس کو شروع نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے کسی قسم کی مدد کی پیشکش نہیں ہوئی ہے۔
زار اسلم نے کہا ’’ہم مستحق خواتین کو آسان اقساط پر یہ آٹو رکشہ فراہم کریں گے، ہم انہیں ڈرائیونگ سکھائیں گے اور ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں بھی ان کی مدد کریں گے۔‘‘
تبصرے (2) بند ہیں